ایران کے وزیرخارجہ عراقچی کا بیان ۔ پاسداران انقلاب نے کہا کہ ٹرمپ کے مضحکہ خیز ڈراموں سے آبنائے ہرمز نہیں کھلے گا۔
ایران جنگ۔ تصویر:آئی این این
ایک جانب امریکی صدرٹرمپ دعوے کر رہے ہیں کہ ایران مذاکرات کیلئے تیار ہے اور جنگ بندی کی تجویز پیش کررہا ہے۔ جبکہ دوسری جانب ایران صاف انکار کررہا ہے۔ ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ کوئی جنگ بندی کی تجویز پیش نہیں کی گئی ہے۔ایرانی خبررساں ایجنسی آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق عراقچی نے مبینہ طور پر ایران کی جانب سے پیش کئے گئے ۵؍ نکاتی منصوبے کو میڈیا کی قیاس آرائی قرار دیا۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے یہ بھی کہا کہ’’ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک جارح کو سزا نہیں دی جاتی اور ایران کو مکمل معاوضہ ادا نہیں کیا جاتا۔‘‘
ایرانی پاسداران انقلاب کا صدر ٹرمپ کے آبنائے ہرمز سے متعلق بیان پر ردعمل آگیا۔ پاسداران انقلاب نے واضح پیغام دیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے اور یہ دشمنوںکیلئے بند رہے گا، امریکی صدرٹرمپ کےمضحکہ خیز ڈراموں سے آبنائے ہرمز نہیں کھلے گا۔ پاسداران انقلاب نے کہا کہ حملوں کی نئی لہر میں متعدد امریکی اور اسرائیلی فوجی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے، یواےای کے قریب امریکی فضائی دفاعی ریڈار سسٹم کو تباہ کیا گیا جب کہ خلیج فارس میں اسرائیلی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ بحرین میں امریکی پانچویں بیڑے کے قریب خفیہ ٹھکانے پر حملے بھی شامل ہیں ان حملوں کی نئی لہر میں کئی فوجی افسران کے ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر جاری پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی نئی رجیم بہت کم بنیاد پرست اور ذہین ہے آبنائے ہرمز کھلا تو جنگ بندی کامعاملہ دیکھیں گے اور آبنائے ہرمزکھلنے تک ایران پر حملے جاری رہیں گے۔ انہوں نے لکھا کہ ایران پر بمباری جاری رکھیں گے اور اسے پتھر کے دور میں دھکیل دیں گے جنگ بندی فوری ممکن نہیں ہے ایران کےلئے امریکہ کی شرائط اپنی جگہ موجود ہیں۔ اس سے قبل ٹرمپ نے ایران میںرجیم چینج کی تکمیل کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی رجیم امریکہ کیلئے قابل قبول ہے۔
مذاکرات کے دعوے کے باوجود حملے جاری
ایک طرف امریکہ مذاکرات کے دعوے کررہا ہے، وہیں اسرائیل مسلسل حملے کررہا ہے۔ بدھ کے روز ایرانی دارالحکومت تہران میں زور دار دھماکے ہوئے ہیں۔تہران کے تمام حصوں، مشرق، مغرب اور وسط میں کئی بڑے دھماکے سنے گئے۔ اسی طرح اہواز پر۴؍ شدید حملے ریکارڈ کیے گئے اور ملک کے مغرب میں واقع شہر کرمانشاہ میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ مزید برآں ملک کے جنوب میں واقع شہر شیراز اور اس کیساتھ ساتھ کرج شہر میں بھی بڑے دھماکے ہوئے۔گزشتہ روز شام کو اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے واضح کیا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔
ایک طرف ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت کی تصدیق کر رہی ہے وہیں دوسری طرف ہزاروں اضافی امریکی فوجی مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔امریکی حکام نے بدھ کے روز تصدیق کی ہے کہ طیارہ بردار بحری جہاز ’’یو ایس ایس جارج بش‘‘۳؍ تباہ کن بحری جہازوں کے ہمراہ مشرق وسطیٰ کیلئے روانہ ہو چکا ہے۔ اس جنگی گروپ میں۶؍ ہزار سے زائد بحری اہلکار شامل ہیں۔ ۸۲؍ ویں ایئربورن ڈویژن کے ہزاروں فوجی بھی فضائی راستے سے خطے میں پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔