ایران اور امریکہ-اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نے شدت اختیار کر لی ہے، جس میں اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حالیہ حملوں میں ایران کا زیرِ تعمیر بلند ترین بی ون پل تباہ ہو گیا، جبکہ مزید سخت فوجی کارروائیوں کی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں۔
EPAPER
Updated: April 03, 2026, 10:06 AM IST | Tehran
ایران اور امریکہ-اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نے شدت اختیار کر لی ہے، جس میں اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حالیہ حملوں میں ایران کا زیرِ تعمیر بلند ترین بی ون پل تباہ ہو گیا، جبکہ مزید سخت فوجی کارروائیوں کی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں۔
ایران کا مشہور بی وَن پل، جو پورے مشرقِ وسطیٰ کا سب سے اونچا پل تھا، امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد دو حصوں میں ٹوٹ کر گر گیا۔ یہ حملہ اُس وقت کیا گیا جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو’’پتھر کے دور میں واپس بھیج دینے‘‘ کی دھمکی دی تھی۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق، ’’کچھ ہی منٹ پہلے، امریکی-صیہونی دشمن نے ایک بار پھر کرج میں بی ون پل کو نشانہ بنایا، جو تہران کے مغرب میں واقع ایک شہر ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پہلے حملے میں دو عام شہری ہلاک ہوئے۔ ‘‘ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق، اس حملے کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے اور آس پاس کے علاقوں کو بھی نقصان پہنچا۔
یہ پل جو ابھی زیرِ تعمیر تھا، تہران کو مغربی شہر کرج سے ملانے کیلئے بنایا جا رہا تھا۔ ۱۰۵۰؍ میٹر طویل اور۱۳۶؍ میٹر اونچے ستون پر مشتمل اس۴۰۰؍ ملین ڈالر کے منصوبے کا مقصد علاقائی تجارت کو فروغ دینا اور تہران کو شمالی علاقوں سے جوڑنا تھا۔
Tallest bridge in Middle East hit — Thick black smoke rises over the B1 bridge in Iran’s Karaj following US airstrike
— Viory Video (@vioryvideo) April 2, 2026
Trump:
The biggest bridge in Iran comes tumbling down, never to be used again – Much more to follow! IT IS TIME FOR IRAN TO MAKE A DEAL BEFORE IT IS TOO LATE,… pic.twitter.com/Bbr2mHC0Hn
فارس کے مطابق حملے زیادہ تر کرج کے عظمیہ علاقے کے ارد گرد کئے گئے، جبکہ پل کو خاص طور پر کرج نادرن بائی پاس پر نشانہ بنایا گیا۔ امریکی صدر نے’’ ٹروتھ سوشل ‘‘ پر ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں دھماکہ دکھایا گیا، اور خبردار کیا کہ ’’ایران کا سب سے بڑا پل گر چکا ہے اور اب کبھی استعمال نہیں ہوگا‘‘، انہوں نے مزید کہا کہ تہران کو’بہت دیر ہونے سے پہلے معاہدہ کر لینا چاہئے، ورنہ ایک عظیم ملک بننے کا جو امکان باقی ہے وہ بھی ختم ہو جائے گا۔ ‘
یہ بھی پڑھئے: ایران نے اسرائیلی امریکی حملوں کو ’’نسل کشی‘‘ قرار دیا
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ تہران میں ایک طبی مرکز پر بھی حملہ کیا گیا۔ وزارتِ صحت نے تصاویر جاری کیں جن میں ’پاسچر انسٹیٹیوٹ آف ایران‘ نامی ایک سو سال پرانے تحقیقی مرکز کی عمارت کو شدید نقصان دکھایا گیا۔ اسی دن کے آغاز میں، ٹرمپ نے امریکہ-اسرائیل جنگ میں کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجی کارروائی نے تہران کی عسکری طاقت کو تباہ کر دیا ہے اور’کام بہت جلد مکمل کر لیا جائے گا‘ کیونکہ اہم اسٹریٹجک اہداف حاصل ہونے کے قریب ہیں۔ ‘وہائٹ ہاؤس سے تقریباً۱۹؍ منٹ کی تقریر میں، ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اگلے دو سے تین ہفتوں میں ایران پر’انتہائی سخت‘ حملے کرے گا، اور دھمکی دی کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اس کے تمام بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس اور تیل کے ذخائر کو تباہ کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم انہیں وہاں واپس لے جائیں گے جہاں وہ تعلق رکھتے ہیں، یعنی پتھر کے دور میں۔ ‘‘یہ جنگ اب دوسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے اور خطے میں فوجی کارروائیاں پوری شدت کے ساتھ جاری ہیں۔