ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکی کمپنیاں مناسب تجاویز پیش کریں تو اشیائے ضروریہ کی خریداری پر غور کیا جا سکتا ہے، وزیر زراعت کے مطابق ایران اور ایرانی تاجروں کے لیے موزوں اور سازگار تجاویز ہوں، تو قدرتی طور پر لین دین کا حجم بڑھ سکتا ہے۔
EPAPER
Updated: July 02, 2026, 3:04 PM IST | Tehran
ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکی کمپنیاں مناسب تجاویز پیش کریں تو اشیائے ضروریہ کی خریداری پر غور کیا جا سکتا ہے، وزیر زراعت کے مطابق ایران اور ایرانی تاجروں کے لیے موزوں اور سازگار تجاویز ہوں، تو قدرتی طور پر لین دین کا حجم بڑھ سکتا ہے۔
غلام رضا نوری قزلجہ نے آئی ایس این اے نیوز ایجنسی کو دیے گئے بیان میں کہا کہ امریکی کمپنیوں سے اشیائے ضروریہ کی خریداری صرف اس وقت ہوگی جب ایران کی شرائط پوری ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے حالات میں بھی اگر کمپنیاں مناسب تجاویز اور ہمارے اور ایرانی تاجروں کے لیے سازگار شرائط پیش کریں تو قدرتی طور پر معاملات کا حجم بڑھ سکتا ہے۔ وزیر نے زور دیا کہ اگر مساوی حالات میں قیمتیں زیادہ ہوں یا تعاون کی شرائط مشکل ہو جائیں تو قدرتی طور پر سامان دوسرے سپلائرز سے حاصل کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: غیرملکی حاملہ خواتین کی آمد روکنے کیلئے نئی امریکی پالیسی زیر غور
مزید برآںانہوں نے کہا کہ ایران کے منجمد اثاثوں کو امریکی مقرر کردہ نگران کی نگرانی میں خرچ کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ وزیر نے مزید بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان زرعی معاہدوں کا ایک حصہ ایرانی انتظامیہ کی سابقہ مدت سے تعلق رکھتا ہے۔دوسری جانب ایران، قطر اور پاکستان کے سینئر مذاکرات کاروں نے بدھ کو دوحہ میں سہ فریقی مذاکرات کیے جس میں حال ہی میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ یہ دستاویز ایران اور امریکا کے درمیان باقی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا فریم ورک فراہم کرتی ہے، جس میں جنگ بندی، پابندیوں میں نرمی، جوہری فائل، آبنائے ہرمز کی بحالی، اور وسیع تر علاقائی سلامتی کے انتظامات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کی جوہری تخفیف کا عمل بحسن و خوبی جاری ہے: ٹرمپ
واضح رہے کہ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے مابین جاری جنگ کو ختم کرنے کیلئے ایک ۱۴؍ نکاتی یادداشت وضع کی گئی، تاکہ مذاکرات کے ذریعے جنگ کا خاتمہ ممکن بنایا جاسکے۔ انہیں نقاط میں ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی بھی ہے۔امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ ایرانی اثاثوں کو اس وقت ہی جاری کرے گا جب ایران اس رقم سے امریکی زرعی پیدوار کی خریداری کرے، ایران کی جانب سے دیا گیا یہ بیان اسی تجویز کا ممکنہ جواب ہو سکتا ہے۔