Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیلی وزیراعظم اور ٹرمپ کے مشیر کے درمیان غزہ ہدفی قتل پرنااتفاقی: رپورٹ

Updated: August 18, 2026, 6:03 PM IST | Tel Aviv

ایک رپورٹ کےمطابق اسرائیلی وزیر اعظم اور ٹرمپ کے مشیر کے جیرڈ کُشنر کے درمیان غزہ میں ہدفی قتل کےتعلق سے نااتفاقی پائی جارہی ہے، جیرڈ کُشنر اس کے خلاف ہیں تاکہ جنگ بندی کا معاہدہ آگے بڑھ سکے۔

Trump`s political advisor and son-in-law Jared Kushner. Photo: X
ٹرمپ کے سیاسی مشیر اور داماد جیرڈ کشنر۔ تصویر: ایکس

اسرائیلی ٹیلی ویژن چینل نے پیر کو خبر دی کہ اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ایلچی اور داماد جیرڈ کُشنر کو بتایا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں ہدفی قتل جاری رکھے گا، جبکہ کُشنر نے اس پالیسی کی مخالفت کی۔چینل۱۵؍ نے ایک باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ’’نتن یاہو اور کُشنر کے درمیان قتل کی کارروائیوں کو جاری رکھنے پر کوئی اتفاق نہیں ہوا۔ذرائع کے مطابق، نتن یاہو نے واضح کیا کہ وہ منتخب قتل جاری رکھیں گے، جبکہ کُشنر نے اس پر اپنی مخالفت کا اظہار کیا۔نتن یاہو نے پیر کو اسرائیل میں ٹرمپ کے ایلچی کُشنر اور بورڈ آف پیس کے غزہ کے لیے اعلیٰ نمائندے نیکولائی ملادینوف سے ملاقات کی۔

یہ بھی پڑھئے: جیرڈ کشنرکی حماس کے وفد سے ملاقات، اسرائیل کے انخلا کا وعدہ

بعد ازاں کُشنر اتوار کی شام مصر سے اسرائیل پہنچے تھے، جہاں انہوں نے صدر عبدالفتاح السیسی اور حماس کے عہدیداروں سے ملاقات کی، جن کی قیادت گروپ کے سیاسی بیورو کے سربراہ خلیل الحیہ کر رہے تھے۔نتن یاہو کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل اپنی افواج کو غزہ سے نکالنے سے پہلے حماس مکمل طور پر غیرمسلح ہو جائے، جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہتھیار صرف اس صورت میں جمع کرائے گی جب اس کے ساتھ اسرائیلی افواج کا مرحلہ وار اور منظم انخلا ہو۔جبکہ نتن یاہو پہلے بھی غزہ کے۱۵؍ نکاتی منصوبے کو مسترد کر چکے ہیں اور اصرار کیا کہ حماس پہلے غیرمسلح ہو، حالانکہ بورڈ آف پیس کی جانب سے ۳۱؍جولائی کو جاری کردہ روڈ میپ میں حماس کے غیر مسلح ہونے اور اسرائیلی انخلا کو بتدریج اور متوازی طور پر آگے بڑھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔دریں اثناء ثالثین۱۰؍ اکتوبر۲۰۲۵ء کو نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کو آگے بڑھانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’جنگ بندی کی امریکی کوشش جنگ کے نئے مرحلہ کی تیاری ہے‘‘

 غزہ میں وزارت صحت کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق، اسرائیل کے ذریعے معاہدہ کی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں۱۲۶۲؍ فلسطینی شہید اور۴۱۶۸؍ دیگر زخمی ہو چکے ہیں۔یاد رہے کہ اسرائیل۸؍ اکتوبر۲۰۲۳ء سے غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے، جس میں۷۳؍ ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید اور ایک لاکھ ۷۴؍ ہزارسے زیادہ زخمی ہوئے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ اسرائیل نے علاقے کا تقریباً۹۰؍ فیصد شہری نظام تباہ کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK