Inquilab Logo Happiest Places to Work

ماڈرن شیخ چلی

Updated: August 18, 2026, 5:06 PM IST | Engineer Khalid Raza | Malegaon

ہمارے ایک دیرینہ دوست ہیں ’’علامہ کھٹ پٹ ‘‘ نام سن کر چونکئے گا نہیں ۔ بڑے ہی دلچسپ آدمی ہیں، کبھی مل کر تو دیکھئے ایسی عقل کی باتیں کرتے ہیں کہ طبیعت باغ باغ ہوجائے۔ خیر سے وہ ایک عدد گدھے کے مالک ہیں اور اسکی دل وجان سے خدمت کرتے ہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

ہمارے ایک دیرینہ دوست ہیں ’’علامہ کھٹ پٹ ‘‘ نام سن کر چونکئے گا نہیں ۔ بڑے ہی دلچسپ آدمی ہیں، کبھی مل کر تو دیکھئے ایسی عقل کی باتیں کرتے ہیں کہ طبیعت باغ باغ ہوجائے۔ خیر سے وہ ایک عدد گدھے کے مالک ہیں اور اسکی دل وجان سے خدمت کرتے ہیں۔ خود تو جمعہ کے جمعہ نہاتے ہیں لیکن گدھے کو روزانہ نہلاکر پھولوں کی مالا پہناتے ہیں اور خوشنما چادر ڈال کر سوار ہوکے لمبی سیرکو نکل جاتے ہیں ۔اکثر اپنے گدھے کی عقلمندی و بہادری کی داستانیں بڑے ہی دلچسپ انداز میں سناتے ہیں، داستان بھی ایسی جیسے شیطان کی آنت ! ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی ۔ تب انکی لن ترانیوں پر لگام کسنے کیلئے کہنا پڑتا ہے ’’گدھا چاہے اطلس کی جھولی پہن لے لیکن رہے گا گدھا ہی!‘‘

نام ہے انکا محمد فاضل اور فاضل ہیں بھی۔ سماج میں اکثر اپنی حماقتیں پھیلا کر اس کا ثبوت دیتے رہتے ہیں۔ ہم انہیں ’’علامہ کھٹ پٹ‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔ یہ نام ان پر اتنا جچا کہ لوگ اصل نام ہی بھول گئے ۔ایک مرتبہ فرمانے لگے، بھئی سوچتا ہوں کہ شادی کرلوں، کیا خیال ہے تمہارا؟  ہم نے کہا کیوں شادی وادی کے چکر میں پڑتے ہو، دیکھو ہم ابھی تک کنوارے ہیں ۔ ابھی تمہیں بہت سے خطابات حاصل کرنا ہیں، ڈر ہے کہیں بیوی بچوں کے جنجال میں علامہ سے صفر نہ ہوجاؤ؟ ہم نے خوب ڈرایا دھمکایا، شادی کو ڈراؤنے انداز میں پیش کیا۔ بیوی کے بیلن کو اڑن طشتری سے تشبیہ دی۔

یہ بھی پڑھئے: غیر روایتی ادبی محفلیں بھی اپنی افادیت ثابت کررہی ہیں

مزید ڈراتے ہوئے کہا بیوی مجلس قانون ساز ہوتی ہے جو روزانہ نت نئے قانون بناتی ہے ۔ شادی کے بعد وہ تمہاری گدھے کی سواری بند کرادے گی اور تمہیں اپنے پیارے گدھے کی خدمت ترک کرکے بچوں کو نہلانا دھلانا پڑے گا ۔ مگر نہ ماننا تھا وہ نہیں مانے ،ہم افسوس کرتے ہارے ہوئے جواری کی طرح گھر واپس آگئے کہ ہمارا ایک دوست ہم سے بچھڑ گیا۔اسکے بعد وہ ایسا غائب ہوئے مانو گدھے کے سر سے سینگ! ہم نے بہتیرا تلاش کیا پر وہ نہیں ملے ۔ 

اپنے قابل دوست کے فراق میں آہیں بھرتے رہے کہ اچانک ایک دن ہمیں انکا شادی کارڈ موصول ہوا، ہمیں چنداں حیرت نہ ہوئی ۔ شادی کے دن انکے گھر جا پہنچے۔ ہمیں دیکھتے ہی استقبال کو دوڑے، کرسی پیش کی۔  ہم نے اطراف کا جائزہ لیا تو زبردست حیرت سے دوچار ہوئے۔ دیکھا انکا عزیز ترین گدھا سجا دھجا کھڑا ہے ۔ آخر ہم سے رہا نہ گیا اور پوچھ بیٹھے ’’بھئی گدھے پر بارات لے جانے کا ارادہ ہے کیا؟‘‘ اس  پر وہ پھولے نہ سماتے ہوئے پُرجوش انداز میں کہنے لگے ’’ہمیں اب نئی روایت قائم کرنی چاہئے، گھوڑا ہی اس بات کا حقدار نہیں کہ اسی پر بارات نکالی جائے، کیا گدھا ہمیشہ وزن ڈھونے کا کام کرےگا ؟ اب اسے دولھا بھی ڈھونا چاہئے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:’’ڈاکٹر بانو سرتاج ادبِ اطفال کی دیویندر ستیارتھی تھیں‘‘

مزید فرمانے لگے جس گدھے کی ہم نے بچپن سے پرورش کی ہے اسے ہم یہ اعزاز نہیں دے سکتے کیا ؟ ہمیں انکی عزت گوارا تھی کہ باراتی مذاق کا نشانہ نہ بنائیں اسلئے انکی یہ منطق ذرا بھی پسند نہ آئی اور انہیں بہتیرا سمجھایا لیکن وہ نہ مانے آخر گدھے پر ہی بارات نکلی ۔گدھے میاں بڑی معصومیت اور فرمانبرداری کے ساتھ چلے جا رہے تھے ۔ آخر ہم سے رہا نہ گیا اور شرارت کرتے ہوئے خوب زور سے اس کی دم مروڑی، گدھے میاں کو غصہ آیا انہوں نے دولتی جھاڑی، ہم نے خود کو بچایا ادھر  دولھے میاں گرتے گرتے بچے ۔ اسی کے ساتھ گدھے نے ڈھینچوں ڈھینچوں کرتے ہوئے سر اٹھا کر اتنے سارے باراتیوں میں خود کو گھرا ہوا دیکھا تو سب کو گراتا پڑاتا ایسا سرپٹ بھاگا کہ علامہ کھٹ پٹ کی ہزار کوششوں کے باوجود نہیں رُکا۔

انہوں نے اسے لاکھ پچکارا منتیں کیں لیکن اس نے ایک نہ سنی ۔اس انہونی پر علامہ کو بڑی خفت ہوئی۔ انہوں نے جھٹ چہرا چھپایا اور گدھے کی پشت پر اوندھے لیٹ گئے ۔ گدھا مسلسل بھاگتا رہا بھاگتا رہا آخر ایک جگہ جاکر رکا اور فخر سے ڈھینچوں ڈھینچوں کی آواز نکالنے لگا جیسے علامہ کھٹ پٹ سے داد طلب کررہا ہو۔ انہوں نے سراٹھاتے ہوئے کہا کمبخت تیرا ستیاناس ہو، بارات کا سارا مزہ کرکرا کر دیا تو نے ۔ یہ کہتے ہوئے جو آس پاس نظر دوڑائی تو انہوں نے خود کو سسرال کے دروازے پر موجود پایا۔ بچے انہیں دیکھ کر شور مچانے لگے’’دولہا بھائی آگئے، دولہا بھائی آ گئے!‘‘بات دراصل یہ تھی کہ علامہ کھٹ پٹ اپنے رشتے کیلئے ہمیشہ گدھے کو ساتھ لے کر اپنی سسرال آتے جاتے تھے اسلئے اسے بھی اس جگہ سے انسیت ہو گئی تھی ۔ اسلئے اس نے باراتیوں کو چھوڑ کر تنہا دولہے کو ہی سرپٹ بھاگتے ہوئے سسرال پہنچا دیا ۔ اس واقعے کے بعد ہم بھی ان کے گدھے کی عقلمندی کے قائل ہوگئے! 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK