Inquilab Logo Happiest Places to Work

سوئس کمپنی ارب پتیوں کے لیے زیرِ زمین ’’قیامت بنکر‘‘ تیار کر رہی ہے

Updated: August 18, 2026, 6:03 PM IST | Bern

سوئزر لینڈ دنیا میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی، جنگوں، موسمیاتی تبدیلی اور ممکنہ عالمی بحرانوں کے خدشات کے درمیان سوئزر لینڈ کی ایک کمپنی انتہائی امیر افراد کے لیے پہاڑ کے اندر محفوظ زیرِ زمین غاریں اور والٹس تیار کر رہی ہے۔

Bunker.Photo:X
بنکر۔ تصویر:ایکس

سوئزر لینڈ دنیا میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی، جنگوں، موسمیاتی تبدیلی اور ممکنہ عالمی بحرانوں کے خدشات کے درمیان سوئزر لینڈ کی ایک کمپنی انتہائی امیر افراد کے لیے پہاڑ کے اندر محفوظ زیرِ زمین غاریں اور والٹس تیار کر رہی ہے۔ Brünig Mega Safe  نامی کمپنی سوئزر لینڈ  کے  Brünig massif میں، Lungern کے قریب، چونے کے پتھر کے پہاڑ کے اندر تقریباً ۲۵؍ زیرِ زمین غاریں  بنانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ یہ غاریں زمین کی سطح سے ۱۰۰؍ میٹر سے زیادہ گہرائی  میں ہوں گی۔  ابتدائی طور پر ان زیرِ زمین والٹس کو قیمتی اثاثوں کی حفاظت کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ یہاں امیر افراد اپنی  آرٹ کلیکشن، لگژری گاڑیاں، مہنگی شراب، قیمتی سامان اور دیگر اثاثے محفوظ رکھ سکیں گے۔ تاہم کمپنی اب انہیں عالمی بحران کی صورت میں عارضی پناہ گاہ کے طور پر بھی پیش کر رہی ہے۔ کمپنی کے مطابق اضافی کمرے ذاتی عارضی رہائش، میٹنگز اور لاؤنجز کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اس منصوبے میں ایک زیرِ زمین والٹ کی ابتدائی قیمت تقریباً ۵؍لاکھ سوئس فرانک  ہے، جو تقریباً۵۵ء۴؍ لاکھ برطانوی پاؤنڈ کے برابر بنتی ہے۔کلائنٹس کو مبینہ طور پر ۹۹؍سالہ لیز  کی پیشکش کی جا رہی ہے جبکہ کمپنی کا کہنا ہے کہ کچھ گاہک پہلے ہی معاہدے کر رہے ہیں۔ کمپنی کے چیئرمین  تھامس گیسر کے مطابق یہاں سیکوریٹی کا انتظام انتہائی سخت ہوگا۔ داخل ہونے سے پہلے خصوصی چیک پوائنٹ سے گزرنا ہوگا اور متعددسیکوریٹی چیکس کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھئے:یونی ٹری نے یوسین بولٹ سے تیز دوڑنے والا روبوٹ بنایا ہے

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کمپلیکس کی سوئزر لینڈ کا معیار  سوئس نیشنل بینک  کے حفاظتی معیار کے برابر رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ زیرِ زمین کمپلیکس میں ۲۴؍ گھنٹے سیکوریٹی موجود ہوگی۔  زیرِ زمین غاروں کا ایک اہم فائدہ ان کا قدرتی ماحول بھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہاں درجہ حرارت تقریباً ۱۳؍ ڈگری سیلسیس  کے آس پاس رہتا ہے، جو شراب، آرٹ اور بعض دیگر قیمتی اشیا کو محفوظ رکھنے کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے۔  کمپلیکس تک پہنچنے کے لیے اتنی بڑی سرنگ بنائی جائے گی کہ اس میں  ٹرک بھی داخل ہوسکیں  اور مالکان کو ۲۴؍ گھنٹے رسائی فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔
 اس منصوبے کا ایک اور اہم حصہ Brünig Institute  ہے، جو سیکوریٹی ٹریننگ، خطرات کے تجزیے اور بقا کی حکمتِ عملیوں پر توجہ دے گا۔ یعنی منصوبہ صرف دولت اور قیمتی اشیا کو محفوظ رکھنے تک محدود نہیں بلکہ انتہائی حالات میں سروائیول اور رسک مینجمنٹ  سے متعلق تربیت بھی فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ سوئزر لینڈمیں پہاڑوں اور زیرِ زمین فوجی تنصیبات کو تحفظ کے لیے استعمال کرنے کی ایک طویل تاریخ ہے۔ سرد جنگ کے دور کے متعدد بنکرز اور فوجی تنصیبات کو بعد میں ڈیٹا سینٹرز، محفوظ والٹس اور دیگر تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ سوئس حکومت نے بھی جنگ یا بڑے بحران کی صورت میں شہریوں کے لیے بنکر سہولیات برقرار رکھنے اور اپ گریڈ کرنے کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:زویا اختر نے تصدیق کردی، ’’زندگی نہ ملے گی دوبارہ‘‘ کے سیکوئل پر کام جاری

سوئزر لینڈ کا یہ منصوبہ دنیا بھر میں دولت مند افراد کے درمیان بڑھتے ہوئے Apocalypse Preparation  رجحان کی ایک مثال ہے۔ بعض ارب پتی اور ٹیکنالوجی کاروباری افراد پہلے ہی جنگ، جوہری تنازع، عالمی وبا یا معاشرتی انتشار جیسے انتہائی حالات کے لیے دور دراز جائیدادوں یا زیرِ زمین پناہ گاہوں میں سرمایہ کاری کر چکے ہیں۔  تاہم ماہرین اور مبصرین کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ کیا صرف ایک مضبوط بنکر عالمی تباہی کی صورت میں طویل مدتی زندگی کی ضمانت دے سکتا ہے۔ خوراک، پانی، توانائی، طبی سہولیات، انسانی عملہ اور طویل عرصے تک خود کفالت بھی اتنی ہی اہم ضروریات ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK