Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران جنگ کے اثرات: امریکہ کے میزائل ذخائر میں کمی سنگین چیلنج

Updated: April 08, 2026, 11:23 AM IST | Washington

امریکہ نے ایران کے خلاف جاری ’’آپریشن ایپک فیوری‘‘ کے دوران انٹرسیپٹر میزائلوں کی تیز رفتار کھپت کے بعد اپنے دفاعی ذخائر کو مضبوط بنانے کے لیے ۴ء۲۵؍ ارب ڈالر کی خطیر رقم کی مانگ کی ہے۔ پینٹاگون کی نئی بجٹ تجویز میں THAAD اور PAC-3 MSE سسٹمز کی بڑے پیمانے پر توسیع شامل ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ نے امریکی دفاعی تیاریوں پر نمایاں دباؤ ڈالا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

امریکی محکمہ دفاع نے ایران کے خلاف جاری ’’آپریشن ایپک فیوری‘‘ کے تناظر میں مالی سال ۲۰۲۷ء کے بجٹ میں نمایاں اضافہ تجویز کیا ہے، جس کا بنیادی مقصد انٹرسیپٹر میزائلوں کے تیزی سے کم ہوتے ذخائر کو بحال کرنا ہے۔ اسپوتنک کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ ٹرمینل ہائی ایلٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس (THAAD) اور پیٹریاٹ ایڈوانسڈ کیپبلیٹی۳؍ میزائل سیگمنٹ انہانسمنٹ (PAC-3 MSE) کے لیے مجموعی طور پر ۴ء۲۵؍ارب ڈالر مختص کرنا چاہتا ہے۔ یہ غیر معمولی اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگ کے ابتدائی ہفتوں میں انٹرسیپٹر میزائلوں کے وسیع استعمال نے امریکی ذخائر میں واضح کمی پیدا کر دی۔ دفاعی حکام کے مطابق، یہ صورتحال اسٹریٹجک کمزوریوں کو جنم دے سکتی ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ ایران ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی میں مسلسل برتری برقرار رکھے ہوئے ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ: تہران میں امریکی اسرائیلی حملوں میں یہودی عبادت گاہ تباہ

بجٹ دستاویزات کے مطابق، THAAD پروگرام میں سب سے بڑی تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ اسے میزائل ڈیفنس ایجنسی سے منتقل کر کے براہ راست امریکی فوج کے ماتحت کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس کی فنڈنگ میں غیر معمولی ۱۲۸۹؍ فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے، جس کے تحت اسے ۲۰۲۶ء کے ۸۲۳؍ ملین ڈالر سے بڑھا کر ۴۳۵ء۱۱؍ ارب ڈالر تک لے جانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اسی طرح PAC-3 MSE پروگرام کے لیے بھی بڑے پیمانے پر توسیع کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ امریکی فوج نے اس نظام کے لیے ۲۲۹ء۱۲؍ ارب ڈالر کا مطالبہ کیا ہے، جو گزشتہ مختص رقم کے مقابلے میں ۶۴۲؍ فیصد سے زیادہ اضافہ ہے۔ یہ نظام خاص طور پر بیلسٹک میزائلوں اور فضائی خطرات کو روکنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور اس کی بڑھتی ہوئی طلب جنگی حالات کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ پر عالمی تقسیم، امریکہ میں اختلافات، سفارتی دباؤ میں اضافہ

مزید برآں، امریکی بحریہ نے پہلی بار اپنے جنگی بیڑے کے لیے PAC-3 MSE میزائلوں کی خریداری کی تجویز دی ہے، جس کے لیے ۱ء۷۳۱؍ ارب ڈالر کا بجٹ طلب کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ اقدام ایک اہم تزویراتی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، کیونکہ اب تک یہ نظام بنیادی طور پر زمینی دفاع تک محدود تھا، جبکہ اب اسے بحری پلیٹ فارمز تک بھی توسیع دی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بجٹ اضافہ صرف فوری جنگی ضروریات تک محدود نہیں بلکہ ایک طویل مدتی دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے تحت امریکہ اپنے میزائل دفاعی نظام کو مزید مضبوط اور لچکدار بنانا چاہتا ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ آیا مسلسل بڑھتے ہوئے دفاعی اخراجات عالمی سطح پر کشیدگی میں مزید اضافہ کریں گے یا خطے میں طاقت کے توازن کو نئی شکل دیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK