ہندوستانی فلمی دنیا میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کا نام سنتےہی ایک مکمل دور آنکھوں کےسامنے آ جاتا ہے۔ آئی ایس جوہر بھی انہی نابغہ روزگار فنکاروں میں شمار ہوتےہیں۔ وہ صرف اداکار ہی نہیںبلکہ ہدایت کار، مصنف، پروڈیوسر اور طنز و مزاح کے بے مثال فنکارتھے۔
آئی ایس جوہر عمدہ مزاحیہ اداکار تھے۔ تصویر:آئی این این
ہندوستانی فلمی دنیا میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کا نام سنتےہی ایک مکمل دور آنکھوں کےسامنے آ جاتا ہے۔ آئی ایس جوہر بھی انہی نابغہ روزگار فنکاروں میں شمار ہوتےہیں۔ وہ صرف اداکار ہی نہیںبلکہ ہدایت کار، مصنف، پروڈیوسر اور طنز و مزاح کے بے مثال فنکارتھے۔ان کی فلمیں اپنے منفرد موضوعات، جرات مندانہ طنز اور معاشرتی مسائل پر بے باک اظہار کے باعث ہمیشہ یاد رکھی جاتی ہیں۔آئی ایس جوہر کا پورا نام اندر سین جوہر تھا۔ ان کی پیدائش ۱۶؍ فروری ۱۹۲۰ءکوبرطانوی ہندوستان کےشہر تلہ گنگ(جو آج کل پاکستان میں واقع ہے)میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے پنجاب میں حاصل کی اور بعد میںفورمین کرسچن کالج لاہور سے گریجویشن کیا۔
تقسیم ہند کے بعد وہ ممبئی منتقل ہو گئے، جہاں انہوں نے فلمی دنیا میں اپنی قسمت آزمائی۔ شروع میں انہیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، مگر ان کی ذہانت اور مزاحیہ انداز نے جلد ہی فلمی حلقوں میں انہیں نمایاں کر دیا۔۱۹۵۰ءکی دہائی میں آئی ایس جوہر نے فلموں میںاداکاری شروع کی۔ ان کی پہچان ایک ایسے مزاحیہ اداکار کے طور پر بنی جو اپنے کردار میں طنز اور فکری گہرائی بھی شامل کر دیتے تھے۔
انہوں نے کئی یادگار فلموں میں اداکاری کی جن میں ناستک، جوہر محمود ان گوا،جوہرمحمود ان ہانگ کانگ اور رائفلز۵؍ جیسی فلمیں شامل ہیں۔ ان فلموں میں ان کا انداز نہایت منفرد تھا، جس میں مزاح کےساتھ معاشرتی طنز بھی شامل ہوتا تھا۔۱۹۶۰ءاور ۱۹۷۰ءکی دہائی میں آئی ایس جوہر کی جوڑی مشہور مزاحیہ اداکار محمودکےساتھ خاصی مقبول ہوئی۔ دونوں نے کئی فلموں میں ایک ساتھ کام کیا اور ان کی مزاحیہ اداکاری نے ناظرین کو بے حد محظوظ کیا۔ان فلموں میں طنز، مزاح اور مہماتی کہانیوں کا دلچسپ امتزاج ہوتا تھا، جس کی وجہ سے یہ فلمیں باکس آفس پر کامیاب رہیں۔
آئی ایس جوہر صرف اداکار ہی نہیں بلکہ ایک تخلیقی فلم ساز بھی تھے۔انہوں نے کئی فلموں کی ہدایت کاری اور اسکرپٹ بھی لکھے۔ ان کی فلمیں اکثر سماجی اور سیاسی موضوعات پر مبنی ہوتی تھیں۔ان کی ہدایت کردہ چند اہم فلموں میں جوہر اِن کشمیر، جوہر اِن بامبے اور نس بندی شامل ہیں۔خاص طور پر فلم نس بندی اس وقت کے سیاسی حالات پر طنز کی وجہ سے کافی متنازع بھی رہی۔
آئی ایس جوہر ان چند ہندوستانی اداکاروں میں سے ایک تھے جنہوںنے بین الاقوامی فلموں میں بھی نمایاں کردار ادا کیے۔ بین الاقوامی سطح پر وہ ۱۹۶۲ءکی شہرہ آفاق فلم ’لارنس آف عربیہ‘میں گاسم کا کردار ادا کرنے کے لیے مشہور ہیں، اور اس کے علاوہ ’ڈیتھ آن دی نائل‘ (۱۹۷۸ء)،’ہیری بلیک‘ (۱۹۵۸ء)اور ’نارتھ ویسٹ فرنٹیئر‘ (۱۹۵۹ء)میں بھی نظر آئے۔انہیں فلم ’جانی میرا نام‘ (۱۹۷۰ء)میں تہرے کردار کے لیے بہترین مزاح نگار کا فلم فیئر ایوارڈ دیا گیا۔ یہ فلم آج بھی ہندوستانی مزاحیہ سینما کی بہترین مثالوں میں شمار ہوتی ہے۔ وہ ۱۹۶۸ءسے ۱۹۷۳ءتک انڈین موشن پکچر پروڈیوسرز ایسوسی ایشن (آئی ایم پی پی اے)کے صدر کے عہدے پر بھی فائز رہے۔آئی ایس جوہر ۱۰؍مارچ ۱۹۸۴ءکواس دنیا سے رخصت ہوئے۔ لیکن ان کا فنی ورثہ آج بھی زندہ ہے۔ وہ ایک ایسے فنکار تھے جنہوں نے مزاح کو محض تفریح تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے سماجی اصلاح کا ذریعہ بنایا۔ ان کی فلمیں آج بھی دیکھی جاتی ہیں اور ان کا نام ہندوستانی سینما کی تاریخ میں ہمیشہ روشن رہے گا۔