حسین دلوائی نے رتناگیری ایم آئی ڈی سی میں ہونے والے دھماکوں کے تعلق سے کمپنیوں پر لاپروائی کا الزام لگایا۔
حسین دلوائی- تصویر:آئی این این
رتناگیری ضلع کے لوٹے ایم آئی ڈی سی علاقے کی کیمیکل فیکٹریوں میں بار بار پیش آنے والے دھماکوں کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کوکن انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایکشن کمیٹی نے اس معاملے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ جمعہ کو ڈاکٹر خان کیمیکل میں ہوئے ایک اور دھماکے کے بعد سامنے آیا جس میں ۵؍ مزدور زخمی ہو گئے ۔ زخمی کارکن اس وقت ممبئی کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں جبکہ کمپنی کی جانب سے واقعے کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں دی گئی ہے۔
سابق رکن پارلیمان حسین دلوائی نے کہا کہ لوٹے ایم آئی ڈی سی کے اطراف رہنے والے مقامی افراد کیلئے اس طرح کے صنعتی حادثات ایک مستقل مسئلہ بن چکے ہیں۔ ۲۰۲۱ء کے بعد سے اس صنعتی علاقے میں کئی سنگین حادثات پیش آ چکے ہیں۔ دلوائی نے یاد دلایا کہ گھارڈا کیمیکلز میں ایک بڑے دھماکے کے نتیجے میں ۴؍ مزدور ہلاک ہو گئے تھے۔ اسکے علاوہ پشکر کیمیکلز، سپریا کیمیکلز، وناٹی آرگینکس اور ڈیوائن کیمیکلز میں بھی دھماکوں اور آتشزدگی کے واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں متعدد مزدور زخمی ہوئے اور بعض مواقع پر جانی نقصان بھی ہوا۔ ان کے مطابق ڈاکٹر خان کیمیکلز میں ایتھنائل سلیکٹ ( ٹی ای او یاس) اور پری ہائیڈرولائزڈ ایتھنال سلیکیٹ تیار کیا جاتا ہے جس میں خام مال کے طور پر ایتھنال استعمال ہوتا ہے۔
اس پیداواری عمل کے دوران الکحل پر مبنی خطرناک فضلہ پیدا ہوتا ہے جسے تلو جا انسی نیریٹر میں تلف کیا جانا ضروری ہے۔ تاہم دلوائی نے الزام لگایا کہ کمپنی اس فضلے کو مناسب طریقہ کار کے بجائے مقامی ٹھیکیداروں کے ذریعے غیر منظم طریقے سے ٹھکانے لگا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوٹے ایم آئی ڈی سی کے صنعتی علاقے میں فائر سیفٹی کے ضوابط پر بھی سختی سے عمل نہیں کیا جا رہا۔ دلوائی کے مطابق فیکٹری انسپکٹر کا دفتر کولہاپور میں ہونے کی وجہ سے حادثات کے مقامات پر حکام اکثر تاخیر سے پہنچتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ گیس لیک جیسے سنگین واقعات میں بھی انتظامیہ بروقت ردعمل دینے میں ناکام رہتی ہے۔