سعودی عرب نے ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور شہزادہ سلطان فوجی اڈے پر آنے والے ایرانی میزائل مار گرائے ہیں۔ ان دونوں مقامات پر امریکی اہلکار بھی موجود ہیں۔
EPAPER
Updated: March 01, 2026, 9:27 PM IST | Tehran
سعودی عرب نے ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور شہزادہ سلطان فوجی اڈے پر آنے والے ایرانی میزائل مار گرائے ہیں۔ ان دونوں مقامات پر امریکی اہلکار بھی موجود ہیں۔
سعودی عرب نے ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور شہزادہ سلطان فوجی اڈے پر آنے والے ایرانی میزائل مار گرائے ہیں۔ ان دونوں مقامات پر امریکی اہلکار بھی موجود ہیں۔سعودی عرب نے اتوار کے روز میزائل حملے ناکام بنا دیے۔ ان میزائل حملوں میں ریاض انٹرنیشنل ائیرپورٹ اور شہزادہ سلطان ائیر بیس کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ سعودی عرب کے دفاعی ذرائع نے بتایا کہ فضائیہ نے ریاض ائیرپورٹ اور شہزادہ سلطان ائیر بيس پر آنے والے ایرانی میزائل مار گرائے۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ واضح رہے کہ ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کی کوشش اس سال کے شروع میں بھی کی گئی تھی۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ سی آئی اے کی جانب سے آیت اللہ خامنہ ای کی لوکیشن معلوم کرکے اسرائیل کو فراہم کی گئی۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سی آئی اے نے ایرانی قیادت کے خفیہ اجلاس کی نشاندہی کی جس کے بعد اسرائیل نے حملہ کیا، سی آئی اے کئی ماہ سے آیت اللہ خامنہ ای کی نقل و حرکت کو ٹریک کر رہی تھی، سی آئی اے کو خامنہ ای کے روزمرہ معمولات اور خفیہ ٹھکانوں تک رسائی حاصل ہو چکی تھی، تہران میں واقع قیادت کمپاؤنڈ میں ہونے والے خفیہ اجلاس کی اطلاع امریکہ کو پہلے سے تھی، امریکہ اور اسرائیل نے خامنہ ای کی موجودگی کی تصدیق کے بعد حملے کا وقت تبدیل کیا۔
امریکی میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر کے کمپاؤنڈ کو عین نشانے پر لگنےوالے ہتھیار سے نشانہ بنایا گیا، جدید ترین اوراعلیٰ درستی والے اس ہتھیارکی قیمت تقریباً ۱۰؍ملین ڈالر تھی، ایرانی سپریم لیڈر پر حملے میں مہنگے ہتھیاروں کے ساتھ کامی کازی ڈرون بھی استعمال ہوئے، امریکہ نے پہلی بار کامی کازی ڈرونز کو میدان جنگ میں استعمال کیا، اس کو ایرانی دفاعی نظام کو دھوکہ دینے کیلئے استعمال کیا گیا۔
ایران کے رہبرِ اعلیٰ کی شہادت: یمن، عراق اور فلسطین میں سوگ
ایران کے رہبرِ اعلیٰ سید علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر عام ہوتے ہی اسلامی دنیا میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یمن، عراق اور فلسطین کی قیادت نے اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت انتقام کا عزم ظاہر کیا ہے۔
یمن کا موقف: یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل اور انصار اللہ نے تعزیتی بیان میں کہا ہے کہ سید علی خامنہ ای نے اپنی پوری زندگی امریکہ اور صیہونی دشمن کے خلاف جہاد میں گزاری۔ ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور یہ شہادت مزاحمتی تحریک کو مزید توانائی دے گی۔
عراق میں تین روزہ سوگ: عراقی حکومت نے اس حملے کو انسانی اور اخلاقی اقدار کے خلاف قرار دیتے ہوئے ملک بھر میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ عراقی `کوارڈینیشن فریم ورک نے شہید لیڈر کو آنے والی نسلوں کیلئے مشعلِ راہ قرار دیا ہے۔
فلسطینی مزاحمت: فلسطینی مجاہدین موومنٹ نے کہا ہے کہ رہبرِ اعلیٰ کی شہادت امتِ مسلمہ کیلئے بڑا نقصان ہے، تاہم بزدلانہ قتل و غارت گری سے مزاحمت کا جذبہ ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے فلسطین کی آزادی کیلئے شہید کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
شہادت کے وقت کی تفصیل: ایرانی میڈیا کے مطابق، سید علی خامنہ ای ہفتے کی صبح اپنے دفتر میں فرائض کی ادائیگی کے دوران امریکی اور اسرائیلی مشترکہ جارحیت کا نشانہ بنے۔ رپورٹ میں ان دعوؤں کی تردید کی گئی کہ وہ کسی خفیہ مقام پر تھے، بلکہ وہ اپنے عوام کے درمیان محاذِ عمل پر موجود تھے۔
ایران کی وزیرِ دفاع اور آرمی چیف کی شہادت کی تصدیق
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ نے تصدیق کی ہے کہ سنیچر کونے والے امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں ایرانی وزیرِ دفاع عزیز ناصر زادہ اور مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف (آرمی چیف) عبدالرحیم موسوی شہید ہو گئے ہیں۔ یہ ایران کی دفاعی تاریخ کا سب سے بڑا جانی نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق، ان ہلاکت خیز حملوں میں صرف عسکری قیادت ہی نہیں بلکہ سیاسی و دفاعی نظام کے اہم ستون بھی نشانہ بنے۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ساتھ ان کے سینئرس سیکوریٹی مشیر علی شامخانی اور پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ محمد پاکپور کی شہادت کی بھی باقاعدہ تصدیق کر دی گئی ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ تہران پر ہونے والی اس سنگین بمباری میں مسلح افواج کے کئی دیگر اعلیٰ سطح کے کمانڈرز بھی شہید ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابھی نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے اور دیگر شہداء کے ناموں کا اعلان شناخت کے عمل کے بعد کیا جائے گا۔ ان اہم ترین اموات کے بعد ایران بھر میں سوگ کی فضا ہے اور عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پوری عسکری کمان کا ایک ساتھ نشانہ بننا خطے کی صورتحال کو ایک ایسے موڑ پر لے آیا ہے جہاں سے واپسی ناممکن نظر آتی ہے۔ ایران کی جانب سے "سخت ترین انتقام" کے اعلانات کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑی جنگ کے بادل گہرے ہو گئے ہیں۔
تہران حملے میں علی خامنہ ای کے انتقال کی تصدیق، ایران میں تعزیتی اجتماعات
اصفہان میں عوام کا جم غفیر۔ تصویر: آئی این این
ایران کے تاریخی شہر اصفہان میں ہزاروں افراد ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے جمع ہوگئے۔ ایران کے سرکاری انگریزی چینل پریس ٹی وی کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ شہر کے معروف نقش جہان اسکوائر میں موجود ہیں اور نعرے بازی کر رہے ہیں۔ حکومت نے اتوار کو تصدیق کی کہ سنیچر کو تہران میں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے بعد علی خامنہ ای انتقال کر گئے۔ اس اعلان کے بعد ملک بھر میں سوگ کی فضا پائی جا رہی ہے جبکہ مختلف شہروں میں تعزیتی اجتماعات کا سلسلہ جاری ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے بعد خطے کی صورتحال مزید کشیدہ ہونے کا امکان ہے۔
ایران نے جوابی حملہ کیا تو ایسی طاقت سے جواب دینگے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو جوابی ردعمل کی صورت میں سخت انتباہ جاری کیا۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے ایران کو سخت خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی جوابی کارروائی سے باز رہے۔ ٹرمپ نے لکھا کہ ’’ایران نے ابھی کہا ہے کہ وہ آج بہت سخت حملہ کرے گا، اس سے بھی زیادہ سخت جتنا اس پر پہلے کبھی نہیں کیا گیا۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ’’بہتر ہوگا ایران ایسا نہ کرے لیکن اگر انہوں نے ایسا کیا تو ہم ایسی طاقت سے جواب دیں گے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔ ‘‘
ایران: امریکی۔اسرائیلی حملوں میں خامنہ ای کی ہلاکت کی تصدیق،۴۰؍ روزہ سوگ کا اعلان
خامنہ ای۔ تصویر: آئی این این
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایرانی حکومت نے ملک بھر میں ۴۰؍ روزہ سوگ اور سات دن کی عام تعطیل کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی ایران نے مقبوضہ علاقوں اور امریکی اڈوں پر تاریخ کی سب سے ’تباہ کن‘ فوجی کارروائی شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے رہبرِ اعلیٰ کی ہلاکت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران پر بمباری جاری رکھے گا اور تہران میں ابھی بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی دفاعی قیادت کو ختم کر دیا گیا ہے اور مارے جانے والوں میں ایرانی وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ، سیکوریٹی امور کے مشیر علی شامخانی اور پاسدران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران پر حملہ کی مذمت، مشرقی وسطیٰ کیلئے پروازیں منسوخ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسی روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ۸۶؍ سالہ خامنہ ای سنیچر کی صبح سویرے شروع ہونے والے مشترکہ امریکی-اسرائیلی حملوں میں مارے گئے۔ ٹرمپ نے لکھا:
’’وہ ہماری انٹیلیجنس اور نہایت جدید ٹریکنگ سسٹمز سے بچنے میں ناکام رہے اور اسرائیل کے ساتھ قریبی تعاون کے نتیجے میں وہ، یا ان کے ساتھ مارے جانے والے دیگر رہنما، کچھ بھی نہ کر سکے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا:’’یہ ایرانی عوام کیلئے اپنے ملک کو واپس لینے کا سب سے بڑا موقع ہے۔ امید ہے کہ آئی آر جی سی(اسلامی انقلابی گارڈ کور) اور پولیس پُرامن طریقے سے ایرانی محبِ وطنوں کے ساتھ ضم ہو جائیں گے۔‘‘
اگرچہ ایرانی حکام نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کی صورت میں خامنہ ای کی ممکنہ ہلاکت کیلئے پہلے سے منصوبہ بندی کر رکھی تھی، تاہم، ان کے قتل نے جاری تنازع میں ایک نئی غیر یقینی کیفیت پیدا کر دی ہے، جس کے بارے میں پہلے ہی خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ لڑائی مزید بڑھ اور پھیل سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ پر آواز اٹھانے پر امریکی اداکارہ سوزن سارینڈن کو کام سے محرومی کا سامنا
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہونے بھی اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ خامنہ ای کی ہلاکت کے ’’بڑھتے ہوئے آثار‘‘ موجود ہیں۔ مزید برآں، خبر رساں ادارے’رائٹرز‘نے ایک نامعلوم سینئر اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ خامنہ ای کی لاش مل گئی ہے۔ خامنہ ای۱۹۸۹ءسے ایران کے سپریم لیڈر ہیں۔ انہوں نے شاہ کے بعد کے ایران کے بانی رہنما آیت اللہ روح اللہ خامنہ ای کی جگہ سنبھالی، جنہوں نے۱۹۷۹ء کے ایرانی انقلاب کی قیادت کی تھی۔ سپریم لیڈر کو حکومت کی تمام شاخوں، فوج اور عدلیہ پر حتمی اختیار حاصل ہوتا ہے، جبکہ وہ ملک کے روحانی پیشوا بھی ہوتے ہیں۔ واشنگٹن ڈی سی میں قائم سٹمسن سنٹرکی ممتاز فیلو باربرا سلاون نے الجزیرہ کو بتایا کہ اگر خامنہ ای کی موت کی تصدیق ہو جاتی ہے تو ایران کے پاس ’’ایک منصوبہ‘‘ موجود ہے۔ انہوں نے کہا:’’ممکنہ طور پر ایک کونسل قائم کی جائے گی جو ملک کو چلائے گی۔ جہاں تک ہمیں معلوم ہے، شاید وہ پہلے ہی ملک کا نظم و نسق سنبھال رہی ہو۔ ‘‘