Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں سندر پچائی کے خطاب کے دوران طلبہ کا فلسطینی پرچم اور کیفیہ کے ساتھ واک آؤٹ

Updated: June 15, 2026, 5:13 PM IST | Stanford

’اسٹینفورڈ اسٹوڈنٹس فور جسٹس ان پیلسٹائن‘ اور ’نو ٹیک فور اپارتھائیڈ‘ مہم کے بینر تلے اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے ۱۰۰ سے زائد طلبہ نے سندر پچائی کے خطاب کے دوران ”آزاد، آزاد فلسطین“ کے نعرے لگاتے ہوئے اپنی نشستوں سے اٹھ کر باہر چلے گئے۔ طلبہ گروپس نے واضح کیا کہ یہ احتجاج ذاتی طور پر پچائی کے خلاف نہیں تھا بلکہ اسرائیلی فوج اور حکومت کے ساتھ گوگل کے ادارہ جاتی تعلقات کے خلاف تھا۔

Photo: X
اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے طلبہ فلسطین کی حمایت میں واک آؤٹ کرتے ہوئے۔ تصویر: ایکس

۱۴ جون کو اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی ۱۳۵ ویں گریجویشن تقریب کے دوران ۱۰۰ سے زائد طلبہ نے اسٹینفورڈ اسٹیڈیم سے واک آؤٹ کر دیا جب گوگل کے سی ای او سندر پچائی اپنا کلیدی خطاب دے رہے تھے۔ ان طلبہ نے اپنے کانووکیشن گاؤنز کے اوپر کیفیہ (فلسطینی رومال) پہن رکھے تھے اور ہاتھوں میں فلسطینی پرچم اٹھائے ہوئے تھے۔ ’اسٹینفورڈ اسٹوڈنٹس فور جسٹس ان پیلسٹائن‘ اور ’نو ٹیک فور اپارتھائیڈ‘ مہم کے زیرِ اہتمام پہلے سے طے شدہ اس احتجاج کا مقصد ’پروجیکٹ نمبس‘ (Project Nimbus) میں گوگل کی شمولیت کو نشانہ بنانا تھا۔ جیسے ہی پچائی نے بولنا شروع کیا، اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے گریجویٹس ”آزاد، آزاد فلسطین“ کے نعرے لگاتے ہوئے اپنی نشستوں سے اٹھ کر باہر چلے گئے۔ منتظم گروپوں نے واضح کیا کہ یہ احتجاج ذاتی طور پر پچائی کے خلاف نہیں تھا بلکہ اسرائیلی فوج اور حکومت کے ساتھ گوگل کے ادارہ جاتی تعلقات کے خلاف تھا۔

یہ بھی پڑھئے: اسٹاک ہوم میں فلسطینی علاقوں اور لبنان پر اسرائیلی حملوں کے خلاف احتجاج

پروجیکٹ نمبس کیا ہے؟

پروجیکٹ نمبس، اپریل ۲۰۲۱ء میں اسرائیلی حکومت، گوگل اور امیزون ویب سروسیز کے درمیان دستخط شدہ ایک سات سالہ معاہدہ ہے، جس کی مالیت تقریباً ۲ء۱ ارب ڈالر ہے۔ اس معاہدے کے تحت، دونوں ٹیک کمپنیاں، اسرائیل کے دفاعی اور سیکوریٹی محکموں اور دیگر سرکاری ایجنسیوں کو کلاؤڈ کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر، اے آئی، مشین لرننگ کی صلاحیتیں اور دیگر جدید ترین ٹیکنالوجی خدمات فراہم کرتی ہیں۔ ناقدین کا استدلال ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو غزہ میں فلسطینیوں کی نگرانی، چہروں کی شناخت، اہداف کا تعین کرنے اور انٹیلیجنس پروسیسنگ کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ 

اقوامِ متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ بعنوان ”قبضے کی معیشت سے نسل کشی کی معیشت تک“ (From Economy of Occupation to Economy of Genocide) میں الفابیٹ (گوگل کی بنیادی کمپنی)، مائیکروسافٹ اور امیزون کو ان کمپنیوں میں شامل کیا گیا ہے جو مبینہ طور پر فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی پالیسیوں میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کیلئے اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے بیاں دیا کہ کلاؤڈ سروسیز اور اے آئی کی صلاحیتیں فراہم کرنے والی کمپنیاں ایسی پالیسیوں کو ممکن بنانے میں کردار ادا کر رہی ہیں جو فلسطینیوں کی بے دخلی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کا باعث بنتی ہیں۔

دوسری طرف گوگل کا موقف ہے کہ یہ معاہدہ صرف عام سرکاری کلاؤڈ خدمات فراہم کرتا ہے۔ گوگل کیلئے یہ تنازع نیا نہیں ہے۔ ۲۰۲۴ء میں کمپنی نے اسی معاہدے کے خلاف کیلی فورنیا اور نیویارک میں اپنے دفاتر کے اندر احتجاج اور مظاہرہ کرنے کے بعد درجنوں ملازمین کو ملازمت سے برطرف کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: گوگل کے سیکوریٹی ڈائریکٹر کا استعفیٰ، کمپنی پر ’’اخلاقی سمت کھونے‘‘ کا الزام

پچائی کا اے آئی پر گفتگو سے گریز، رجائیت پسندی پر زور

دنیا کی سب سے معروف اے آئی کمپنیوں میں سے ایک کی قیادت کرنے کے باوجود، پچائی نے اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی گریجویشن تقریب میں اپنے خطاب میں اے آئی کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ اس کے بجائے انہوں نے ذاتی فیصلہ سازی پر بات کرتے ہوئے تین اصول شیئر کئے: ”رجائیت پسندی کا انتخاب کریں، مشکل چیزوں کی طرف مائل ہوں، اور جب سب کچھ برابر ہو، تو وہ کریں جو آپ کو پرجوش کرے۔“ انہوں نے مذاقاً اس موضوع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ”اے آئی بہر حال، میرے خاندانی نام (Pichai) کے آخری دو حروف ہیں۔“ تقریب کے بعد، جب بی بی سی کے ایک صحافی نے پچائی سے اس واک آؤٹ پر ان کا ردِعمل جاننا چاہا تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا اور اسٹیڈیم سے باہر چلے گئے۔

یہ بھی پڑھئے: جنوبی لبنان: اسرائیلی ڈرونز بچوں کی آوازوں سے شہریوں کو چکمہ دے رہے ہیں: رپورٹ

ہند نژاد امریکی بزنس مین ونود کھوسلہ کی طلبہ پر شدید تنقید، رو کھنہ کا جواب

اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی گریجویشن تقریب میں فلسطین کی حمایت میں طلبہ کے واک آؤٹ کے بعد، امریکہ کی دو نامور ہند نژاد شخصیات کے درمیان سوشل میڈیا پر تیکھی بحث ہوئی۔ سن مائیکرو سسٹم کے شریک بانی اور اسٹینفورڈ سے ایم بی اے گریجویٹ، وینچر کیپیٹلسٹ ونود کھوسلا نے احتجاج کرنے والے طلبہ پر تنقید کرنے کیلئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کا سہارا لیا اور انہیں ”تعصب پسند، احمق، کم نظر اور انتہائی خود غرض“ قرار دیا۔ انہوں نے دلیل دی کہ اے آئی، دنیا کے نچلے طبقے کے تین ارب لوگوں کا معیارِ زندگی بلند کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے طلبہ پر الزام لگایا کہ وہ اپنے مبہم اور خود غرضانہ مفادات کیلئے ان فوائد کو نظرانداز کر رہے ہیں۔

ڈیموکریٹک کانگریس مین رو کھنہ نے ایکس پر براہِ راست کھوسلا کو چیلنج کرتے ہوئے لکھا: ”ونود، میری معلومات کے مطابق ان طلبہ نے غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی کے پیشِ نظر اسرائیلی دفاعی افواج کے ساتھ گوگل کے معاہدے کے خلاف احتجاجاً واک آؤٹ کیا ہے۔ ان معاہدوں پر کسی کا موقف کچھ بھی ہو، میرا ماننا ہے کہ آپ ان کے اظہارِ رائے کی آزادی اور حکام کو چیلنج کرنے کے حق کی حمایت کریں گے۔“

یہ بھی پڑھئے: ’مَیں دوسرے بچوں کی طرح کیوں نہیں ہوں؟‘: عینک ٹوٹ جانے پر ۷؍ سالہ فلسطینی بچہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا

اس بحث نے سوشل میڈیا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا، جہاں صحافیوں، ماہرینِ تعلیم اور کارکنوں نے دونوں اطراف سے اپنی آراء کا اظہار کیا۔ فلسطینی نژاد امریکی معالج ڈاکٹر محمد سبیح، جنہوں نے فلسطینی نژاد امریکی کارکن محمود خلیل کے ہمراہ ’پیپلز کمنسمنٹ‘ نامی ایک متبادل تقریب میں شرکت کی تھی، نے کہا کہ انہیں ”ان تمام طلبہ پر فخر ہے جنہوں نے مزاحمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا۔“ منتظمین کے مطابق گریجویٹس کیلئے خلیل کا پیغام تھا: ”جب زندگی میں آرام و آسائش اور ضمیر کے درمیان انتخاب کا لمحہ آئے، تو ہمیشہ ضمیر کا انتخاب کریں۔“

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK