ہندوستان کے شہرہ آفاق گلوکار جگجیت سنگھ کوایک ایسی شخصیت کےطور پر یاد کیا جاتا ہےجنہوں نے اپنی سحرانگیز اور مخملی آواز سے تقریباً۴؍ دہائیوں پر مشتمل اپنے کرئیرمیں کروڑوں مداحوں کے دلوں پر راج کیا۔
EPAPER
Updated: February 08, 2026, 10:58 AM IST | Mumbai
ہندوستان کے شہرہ آفاق گلوکار جگجیت سنگھ کوایک ایسی شخصیت کےطور پر یاد کیا جاتا ہےجنہوں نے اپنی سحرانگیز اور مخملی آواز سے تقریباً۴؍ دہائیوں پر مشتمل اپنے کرئیرمیں کروڑوں مداحوں کے دلوں پر راج کیا۔
ہندستان کے شہرہ آفاق گلوکار جگجیت سنگھ کوایک ایسی شخصیت کےطور پر یاد کیا جاتا ہےجنہوں نے اپنی سحرانگیز اور مخملی آواز سے تقریباً۴؍ دہائیوں پر مشتمل اپنے کرئیرمیں کروڑوں مداحوں کے دلوں پر راج کیا۔ انہیں شہنشاہ غزل بھی کہا جاتا ہے۔ جگجیت سنگھ کی پیدائش راجستھان کے شری گنگانگر میں ۸؍فروری ۱۹۴۱ءکوہوئی تھی۔ ان کے والد کا نام امرسنگھ اور والدہ کا نام بچن کور تھا۔
امرسنگھ سرکاری ملازم تھے۔ جگجیت کی چاربہنیں اور دوبھائی تھے۔ ان کا پیدائشی نام جگموہن تھا۔ لیکن بعدمیں ان کے والد نے ان کا نام جگجیت سنگھ رکھ دیا۔ بچپن سے ہی ان کا رجحان موسیقی کی جانب رہا۔ انہوں نےاستاد جمال خان اور پنڈت چھگن لال شرما سے موسیقی کی تعلیم حاصل کی۔
جمال خان نے جگجیت کو۶؍سال تک موسیقی کی باقاعدہ تربیت دی اور خیال، ٹھمری و دیگر راگوں سے روشناس کرایا۔ جگجیت سنگھ نے اپنی گلوکاری کا آغاز مختلف گرودواروں میں گروبانی گاکر کیا۔ ان کی آواز کی سحر انگیزی کا یہ کمال جالندھر ریڈیو اسٹیشن تک پہنچاتو انہیں سال میں ۶؍براہ راست پروگرام پیش کرنے کے آفر ملنے لگے۔
یہ بھی پڑھئے: پرتیک سمیتا پاٹل نے شادی میں والد راج ببر کو نہ بلانے کی وجہ بتائی
۱۹۶۵ءمیں گلوکار بننے کی تمنا لئے وہ ممبئی آگئے جہاں انہیں ایچ ایم وی نامی اس وقت کی مشہور ترین ریکارڈکمپنی نے ان کی آواز میں دو غزلیں ریکارڈ کرنے کی پیشکش کی۔ جگجیت سنگھ کو اسی دوران کچھ اشتہاری فلموں میں بھی اپنی آواز کا ہنر دکھانے کا موقع ملا۔ جدوجہد کے اسی دور میں ان کی ملاقات چتراسنگھ سے ہوئی جو خودبھی ایک گلوکارہ تھیں۔ ۱۹۷۰ءمیں دونوں نےشادی کرلی اور یہیں سے دونوں کی زندگی نے ایک نیا موڑ لیا اور اس جوڑی نے کئی البموں میں اپنی جادوئی گلوکاری سے ناظرین کو مسحور کیا۔
جگجیت سنگھ کافلموں میں گانے کا خواب ۱۹۸۰ء میں اس وقت پورا ہوا جب فلم ’ساتھ ساتھ‘میں جاوید اخترکی غزلوں اور نظموں کو انہوں نے اپنی آواز دی۔ اسی سال مہیش بھٹ کی فلم ’ارتھ‘سے جگجیت سنگھ اور چترا سنگھ کی شہرت آسمان چھونے لگی۔ اس فلم کا نغمہ ’تم اتنا جو مسکرارہے ہو‘سدابہار نغموں میں شامل ہے۔ ان کا فنی کریئرشہرت کی نئی بلندیوں کو چھو رہا تھا۔ اس دوران انہوں نے اپنے چاہنے والوں کو ایک سے بڑھ کر ایک کامیاب اورمشہور غزلیں دیں جن میں یہ زندگی کسی اور کی، میرے نام کا کوئی اور ہے، ہونٹوں سے چھولو تم، تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا، ہزار بار رکے ہم، ہزار بار چلے جیسی ہٹ غزلیں شامل ہیں۔ ہندوستان کے روایتی آلہ ساز ’سارنگی‘اور طبلے کے ساتھ جدید آلات موسیقی کو غزل گائیکی میں متعارف کرانے کا سہرا بھی جگجیت سنگھ کے سر ہی جاتاہے۔ اس تجربے کو انہوں نے اس قدر کامیابی سے سنوارا کہ انہیں جدید غزل سرائی کا موجد تسلیم کیا جانے لگا۔ ۲۰۰۳ء میں جگجیت سنگھ کو حکومت کی جانب سےپدم بھوشن سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ ان کی شاندار گائیکی کے اعزاز میں حکومت کی جانب سے ۲۰۱۴ء میں ۲؍ ڈاک ٹکٹ جاری کئے گئے تھے۔ اپنی گلوکاری سے ناظرین کے درمیان خاص شناخت بنانے والے جگجیت سنگھ ۱۰؍ اکتوبر۲۰۱۱ءکو اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔