مرکز کی مودی حکومت کی مبینہ ناکامیوں اور بین الاقوامی سطح پر زیر بحث جیفری ایپسٹین کیس سے متعلق حقائق پر پردہ ڈالنے کے الزامات کے خلاف سنیچر کو کلیان میں کانگریس کی جانب سے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
EPAPER
Updated: February 08, 2026, 12:29 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai
مرکز کی مودی حکومت کی مبینہ ناکامیوں اور بین الاقوامی سطح پر زیر بحث جیفری ایپسٹین کیس سے متعلق حقائق پر پردہ ڈالنے کے الزامات کے خلاف سنیچر کو کلیان میں کانگریس کی جانب سے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
مرکز کی مودی حکومت کی مبینہ ناکامیوں اور بین الاقوامی سطح پر زیر بحث جیفری ایپسٹین کیس سے متعلق حقائق پر پردہ ڈالنے کے الزامات کے خلاف سنیچر کو کلیان میں کانگریس کی جانب سے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس موقع پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان معمولی جھڑپیں ہوئیں جس کے بعد امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس کو ہلکا لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ شہر کے مصروف ترین علاقے چھترپتی شیواجی مہاراج چوک پر سنیچر کی شام ۶؍ بجے کانگریس نے مظاہرہ کیا۔ بعدازاں کانگریس کے سینکڑوں کارکنان نے ہاتھوں میں سیاہ جھنڈے اور بینرز لے کر بی جے پی دفتر کی جانب پیش قدمی شروع کی۔ احتجاج کے دوران مودی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ اس احتجاج کی خاص بات اس کا اچھوتا انداز تھا۔ کانگریس کارکنان نے حکومت پر تنقید کے لیے علامتی طور پر گوریلا اور مراٹھی فلموں کے مشہور منفی کردار تاتیا ونچو کا سہارا لیا۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی : کالوار گرام پنچایت کا تعلیمی ماڈل دوسروں کیلئے قابلِ تقلید
سب سے زیادہ توجہ ان پوسٹرز نے حاصل کی جن میں وزیراعظم نریندر مودی اور جیفری ایپسٹین کی تصاویر ایک ساتھ آویزاں تھیں اور ان پر مودی ایپسٹین بھائی بھائی کے نعرے درج تھے۔ مظاہرین کا الزام تھا کہ حکومت اہم ترین بین الاقوامی معاملات پر عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔ جیسے ہی احتجاجی مورچہ بی جے پی کے دفتر کے قریب پہنچا ماحول کشیدہ ہو گیا۔ پولیس نے مظاہرین کو بیریکیڈز لگا کر روکنے کی کوشش کی تاہم کارکنان کے آگے بڑھنے پر پولیس نے پکڑ دھکڑ شروع کر دی۔
مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پولیس کی جانب سے ہلکا لاٹھی چارج کیا گیا جس کے بعد کئی مقامی لیڈروں اورکارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ مقامی کانگریس قیادت کا کہنا ہے کہ حکومت طاقت کے بل بوتے پر آواز دبانا چاہتی ہے لیکن عوامی مسائل اور سچائی کی یہ لڑائی جاری رہے گی۔