Inquilab Logo Happiest Places to Work

فاروق عبداللہ پر حملے کے بعد سیکوریٹی پر بحث، نائب وزیر اعلیٰ نےگاڑیوں کی خرابی کی شکایت کی

Updated: March 17, 2026, 11:53 AM IST | Agency | Srinagar

سریندر چودھری نے اپنی سیکوریٹی گاڑیوں کو’میکانیکی طورپرناقابل بھروسہ‘ قراردیا،سیکوریٹی کےفوری جائزےکا مطالبہ کیا، ا ن کے آفیسر آن ا سپیشل ڈیوٹی نے ایس ایس پی کو خط لکھا ۔

Jammu And Kashmir Deputy Chief Minister Surendra Chaudhary.Photo:INN
جموں کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری- تصویر:آئی این این

  نیشنل کانفرنس کے صدر اور ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر قاتلانہ حملے کی کوشش کے ایک ہفتے بعد ہی ان کے پارٹی کے ایک ساتھی اور جموں کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے اپنی سیکوریٹی گاڑیوں کو ’میکانیکی طور پر ناقابلِ بھروسہ ‘ قرار دیتے ہوئے مکمل سیکوریٹی کے فوری جائزے اور بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کو زیڈ پلس سیکوریٹی حاصل تھی ، اس کے باوجودان پراس طرح حملہ کیاگیا کہ وہ آسانی سے نشانہ بن سکتے تھے۔

یہ بھی پڑھئے:افغانستان کی طرف سے پاکستان پر ۴۰۰؍ افراد کے قتل کا الزام ، پاکستان کی تردید

سریندر چودھری کے آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی سریش چندر نے۱۵؍ مارچ کو ایس ایس پی سیکوریٹی جموں کو ایک خط لکھ کر بلٹ پروف، پائلٹ اور اسکاؤٹ گاڑیوں سمیت سیکوریٹی قافلے میں شامل گاڑیوں کی خراب حالت کی طرف توجہ مبذول کرائی اور خط میں وی وی آئی پیز کی سیکوریٹی کا جائزہ لینے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔خط میں بتایا گیا کہ نائب وزیر اعلیٰ نے۱۵؍ مارچ کو سرحدی ضلع راجوری کے نوشہرہ حلقے کے دورے کے دوران بلٹ ریزسٹنٹ گاڑی (فورچیونر) فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔ تاہم یہ گاڑی فراہم نہیں کی گئی حالانکہ حال ہی میں جموں کے گریٹر کیلاش میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ جیسے قدآور لیڈر پر قاتلانہ حملہ کیا گیا اور حملہ آور نے فاروق عبداللہ کے کان کے نزدیک فائر کرکے انہیں ہلاک کرنے کی کوشش کی تھی ۔ ۱۱؍ مارچ کو جموں میں اس وقت ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر قاتلانہ حملے کی کوشش ہوئی جب وہ اپنی پارٹی کے ایک عہدیدار کی شادی کی تقریب سے واپس جا رہے تھے۔

یہ بھی پڑھئے:غلام محمدکی موسیقی دل کے سازوں کو چھیڑ دیتی ہے

 اس دوران۶۳؍ سالہ کمل سنگھ جموال نامی ایک جموں کے رہائشی نے ریوالور سے ان پر فائر کیا جس میں وہ بال بال بچ گئے۔ پولیس نے حملہ آور کو وہیں گرفتار کر لیا اور اس واقعے کی جانچ کیلئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم(ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی ہے۔خط میں مزید کہا گیا ہے کہ نائب وزیر اعلیٰ کے قافلے میں شامل جیمر گاڑی تقریباً ۶؍ ماہ سے مرمت کے بہانے ہٹا دی گئی ہے اور ابھی تک واپس نہیں لائی گئی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس وقت قافلے میں شامل بُلٹ پروف، پائلٹ اور اسکاؤٹ گاڑیاں میکانیکی طور پر قابل اعتماد نہیں ہیں اور ماضی قریب میں ان کی وجہ سے سنگین اور تقریباً جان لیوا واقعات بھی پیش آ چکے ہیں ۔ متعلقہ حکام سے بار بار درخواست کرنے کے باوجود سیکوریٹی انتظامات کے جائزے اور نئی گاڑیاں فراہم کرنے کے لیے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا گیا۔خط میں کہا گیا کہ جموں و کشمیر کی موجودہ سیکوریٹی صورتحال اور نائب وزیر اعلیٰ کے دور دراز اور حساس علاقوں کے مسلسل دوروں کے پیش نظر مکمل اور قابلِ اعتماد سیکوریٹی کے بغیر ان کی نقل و حرکت ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK