Inquilab Logo Happiest Places to Work

فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کا فیفا سےکھلاڑیوں کےخلاف مبینہ خلاف ورزیوں پر اسرائیل کو نکالنے کا مطالبہ

Updated: May 02, 2026, 8:04 PM IST | Vancouver

رجوب نے فیفا کونسل کے اسرائیل کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے فیصلے کو ”غلط فیصلہ“ قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کی اور اسے بیرونی دباؤ کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ فلسطینی ایسوسی ایشن نے ثالثی عدالت برائے کھیل (سی اے ایس) میں اپیل دائر کر دی ہے۔

Jibril Rajoub. Photo: X
جبریل رجوب۔ تصویر: ایکس

فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کے سربراہ جبریل رجوب نے فیفا سے فلسطینی کھلاڑیوں، کھیل کی تنصیبات اور وسیع تر کھیلوں کے نظام کے خلاف جاری مبینہ ”جرائم“ کی بنا پر اسرائیل کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک انٹرویو میں رجوب نے کہا کہ مبینہ خلاف ورزیوں کی سنگینی فیفا اور اس کے براعظمی اداروں کی مداخلت کا تقاضا کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی کوششوں کا مقصد ایسا احتساب ہے جو ”عالمی فٹبال سے اسرائیل کی بے دخلی“ پر منتج ہو۔ انہوں نے دلیل دی کہ یہ مطالبہ فیفا کے قوانین اور اولمپک چارٹر پر مبنی ہے، جس کا مقصد نئے اقدامات متعارف کرانے کے بجائے موجودہ قوانین پر عمل درآمد کرانا ہے۔

رجوب نے مقبوضہ مغربی کنارے کی بستیوں میں سرگرم اسرائیلی فٹبال کلبوں کی موجودگی کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا کہ کم از کم ۹ ایسے کلب اسرائیلی فٹبال حکام کے تحت مقابلوں میں شریک ہوتے ہیں حالانکہ ان علاقوں کو بین الاقوامی سطح پر مقبوضہ علاقے تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے اسرائیلی حکام پر بین الاقوامی اداروں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ”ہم قوانین، ضوابط اور آئین کی زبان میں بات کر رہے ہیں۔“ انہوں نے مزید بتایا کہ حالیہ فیفا کانگریس میں اسرائیل کا موقف زمینی حقائق کی عکاسی کرنے میں ناکام رہا۔ کئی رکن ایسوسی ایشنز فلسطینی کھیلوں کو درپیش حقیقتوں سے آگاہ ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: بے گھر فلسطینیوں نے اسرائیل کی جنگ بندی کی خلاف ورزی سےتنگ آکر خیمے نذرآتش کئے

رجوب نے فیفا کونسل کے اسرائیل کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے فیصلے کو ”غلط فیصلہ“ قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کی اور اسے بیرونی دباؤ کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ فلسطینی ایسوسی ایشن نے ثالثی عدالت برائے کھیل (سی اے ایس) میں اپیل دائر کر دی ہے، جس کی باضابطہ فائلنگ ۲۲ اپریل ۲۰۲۶ء کو کی گئی۔

انہوں نے فیفا کے موقف کو تضاد کا شکار قرار دیتے ہوئے نوٹ کیا کہ جہاں امتیاز کے مسائل پر اسرائیلی فٹبال ایسوسی ایشن پر جرمانہ عائد کیا گیا، وہیں بستیوں میں قائم کلبوں کے حوالے سے کوئی وسیع تر کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ”خلاف ورزیوں کو تسلیم کرنا لیکن انہیں روکنے کیلئے کارروائی نہ کرنا، فیفا کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے۔“

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی مسلسل رکاوٹوں کے سبب غزہ کے اسپتالوں میں آکسیجن کی قلت

فیفا کانگریس میں واضح موقف

وینکوور، کنیڈا میں فیفا کانگریس کے دوران، رجوب نے فیفا صدر گیانی انفینٹینو کی جانب سے اسٹیج پر مدعو کئے جانے کے بعد اسرائیلی فٹبال ایسوسی ایشن کے نمائندے باسم شیخ سلیمان سے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا جس کے بعد یہ تناؤ مزید گہرا ہوگیا۔ اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے رجوب نے کہا کہ یہ انکار ”اس بات کی توثیق تھی کہ قومی وقار پروٹوکول کا محتاج نہیں ہوتا۔“ انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ کھلاڑیوں سمیت فلسطینی متاثرین کے احترام میں کیا گیا۔

انہوں نے اعادہ کیا کہ فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن ”قوانین کے مساوی اطلاق“ کو یقینی بنانے اور فلسطینی کھلاڑیوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے قانونی راستے اختیار کرنا جاری رکھے گی۔ ایسوسی ایشن نے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں فٹبال کی سرگرمیاں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ بھی کیا اور خبردار کیا کہ کارروائی نہ کرنا بین الاقوامی فٹبال گورننس کی سالمیت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK