Updated: May 02, 2026, 9:04 PM IST
| Biejing
چین کے ہانگزو انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں ایک انسانی ملازم کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی بنیاد پر ملازمین کو نکالنا غیر قانونی ہو سکتا ہے۔ عدالت نے ایک ٹیک کمپنی کی جانب سے سینئر ملازم کو کم تنخواہ پر تنزلی اور پھر برطرفی کو غلط قرار دیا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب دنیا بھر میں کمپنیاں، خصوصاً میٹا اور امیزون، اے آئی اپنانے کے ساتھ ملازمتوں میں کمی کر رہی ہیں، جس سے کارکنوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔
چین کی ایک اعلیٰ عدالت نے ایک ایسے فیصلے میں انسانی افرادی قوت کے حق میں مضبوط پیغام دیا ہے، جسے عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے بڑھتے اثرات کے تناظر میں ایک اہم قانونی نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ہانگزو انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ نے ۳۰؍ اپریل کو ایک سینئر ٹیک ملازم کے کیس میں کمپنی کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ اے آئی کے نفاذ کو بنیاد بنا کر ملازم کو تنزلی (ڈی موٹ) یا برطرف کرنا قانونی طور پر درست نہیں تھا۔ عدالت نے نچلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ کمپنی اپنے اقدام کو ’’معروضی حالات میں بڑی تبدیلی‘‘ ثابت کرنے میں ناکام رہی۔ خیال رہے کہ یہ کیس ایک ایسے ملازم، جس کی شناخت ’ژو‘ کے نام سے کی گئی، سے متعلق تھا جو ایک اے آئی کمپنی میں کوالیٹی ایشورنس سپروائزر کے طور پر کام کر رہا تھا۔ اس کی ذمہ داریوں میں بڑے لینگوئج ماڈلز کے لیے مواد کی نگرانی اور فلٹرنگ شامل تھی۔ تاہم، کمپنی نے بعد میں اسی کام کے لیے اے آئی سسٹمز متعارف کرائے اور ژو کو کم تنخواہ کے ساتھ نچلے درجے کے عہدے پر منتقل کرنے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھئے: گوگل کے معاون بانی لیری پیج کی مجموعی دولت ۳۰۰؍ ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی
ژو نے اس تنزلی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، جس کے بعد کمپنی نے تنظیمی تبدیلی کا حوالہ دیتے ہوئے اس کا معاہدہ ختم کر دیا۔ اگرچہ کمپنی نے اسے علیحدگی پیکج کی پیشکش کی، مگر اس نے زیادہ معاوضے کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا۔ ثالثی پینل اور بعد ازاں عدالت نے اس کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے برطرفی کو غیر قانونی قرار دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات پر بھی زور دیا کہ صرف ٹیکنالوجی میں تبدیلی یا اے آئی کے استعمال کو ملازمت ختم کرنے کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ اس حوالے سے اسٹیٹ کاؤنسل انفارمیشن آفس آف چائنا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کمپنی یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی کہ ملازم کی خدمات غیر ضروری ہو چکی تھیں۔
قانونی ماہر وانگ ژویانگ نے اس کیس کے متعلق کہا کہ ’’اگرچہ کمپنیاں اے آئی کے ذریعے کارکردگی بڑھا سکتی ہیں، لیکن انہیں اپنی سماجی ذمہ داریوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ اے آئی کی تبدیلی خود بخود ملازمت ختم کرنے کا جواز نہیں بنتی۔‘‘ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر اے آئی کے بڑھتے استعمال کے باعث بڑے پیمانے پر ملازمتوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ میٹا، امیزون اور اوریکل جیسی بڑی کمپنیوں میں حالیہ برسوں میں ہزاروں ملازمین کو نکالا گیا ہے، جہاں اے آئی اور آٹومیشن کو بنیادی وجہ قرار دیا گیا۔ اعداد و شمار کے مطابق، چین کی اے آئی انڈسٹری ۲۰۲۵ء میں ۲ء۱؍ کھرب یوآن سے تجاوز کر چکی ہے اور ۶۲۰۰؍ سے زائد کمپنیاں اس شعبے میں کام کر رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ۲۰۳۰ء تک اے آئی ٹیکنالوجی کی رسائی ۹۰؍ فیصد سے زیادہ ہو سکتی ہے، جو افرادی قوت کے لیے نئے چیلنجز پیدا کرے گی۔
یہ بھی پڑھئے: گوگل کی ایک ہی دن میں مارکیٹ ویلیو ۴۲۰؍ ارب ڈالربڑھ گئی
دوسری جانب، امریکہ میں بھی اے آئی کے استعمال میں تیزی آئی ہے۔ پینٹاگون نے حال ہی میں گوگل، اوپن اے آئی اور دیگر بڑی کمپنیوں کے ساتھ اے آئی ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے معاہدے کیے ہیں، جس کا مقصد فوجی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ٹیکنالوجی کی ترقی ناگزیر ہے، لیکن اس کے ساتھ قانونی اور سماجی فریم ورک کو بھی مضبوط بنانا ضروری ہے تاکہ کارکنوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ یہ فیصلہ نہ صرف چین بلکہ عالمی سطح پر ایک اہم پیغام دیتا ہے کہ اے آئی کے دور میں بھی انسانی محنت اور حقوق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔