Updated: May 02, 2026, 9:05 PM IST
| New Delhi
ایئر انڈیا نے بڑھتی ہوئی جیٹ ایندھن (اے ٹی ایف) قیمتوں اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث اپنے آپریشنز میں بڑی کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت روزانہ تقریباً ۱۰۰؍ گھریلو و بین الاقوامی پروازیں کم کی جائیں گی۔ ایئر لائن کے سی ای او ولسن کیمپبیل کے مطابق طویل روٹس اور فضائی حدود کی رکاوٹوں نے کئی پروازوں کو غیر منافع بخش بنا دیا ہے۔ حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مسافروں کو ریفنڈ، ری شیڈولنگ اور مناسب سہولیات فراہم کی جائیں گی، جبکہ کرایوں میں فوری اضافے کا امکان نہیں ہے۔
ہندوستان کی سرکاری ایئر لائن ایئر انڈیا نے بڑھتی ہوئی لاگت اور عالمی حالات کے دباؤ کے پیش نظر اپنے فلائٹ آپریشنز میں نمایاں کمی کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت روزانہ تقریباً ۱۰۰؍ پروازیں کم کی جائیں گی۔ ایئر لائن کے ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ کٹوتی گھریلو اور بین الاقوامی دونوں روٹس پر لاگو ہوگی۔ حکام کے مطابق، متاثرہ پروازوں کے شیڈول کو ایڈجسٹ کیا جا رہا ہے اور مسافروں کو متبادل انتظامات فراہم کیے جائیں گے، جن میں ریفنڈ، ری شیڈولنگ اور دیگر سہولیات شامل ہیں تاکہ سفر میں کم سے کم خلل پڑے۔
یہ بھی پڑھئے: کمرشیل سلنڈر مہنگا ہونے پر اپوزیشن نے مودی حکومت کو گھیرا
ولسن کیمپبیل نے ملازمین کے لیے جاری ایک داخلی پیغام میں اس فیصلے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایئر لائن پہلے ہی اپریل اور مئی میں کچھ پروازیں کم کر چکی ہے، اور جون اور جولائی میں مزید کٹوتیوں کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ایئر اسپیس کی بندش، طویل پرواز کے راستے اور جیٹ ایندھن کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہماری کئی بین الاقوامی پروازوں کو غیر منافع بخش بنا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ایئر لائن نے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے کرایوں میں اضافہ اور ایندھن سرچارجز بھی متعارف کرائے، لیکن زیادہ قیمتوں نے مسافروں کی طلب پر منفی اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ ولسن نے کہا کہ ’’ہم ایک حد تک ہی کرایے بڑھا سکتے ہیں، اس کے بعد مسافر سفر سے گریز کرنے لگتے ہیں۔‘‘
موجودہ بحران کی ایک بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی ہے، جس کے باعث نہ صرف ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا بلکہ کئی فضائی راستے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں طیاروں کو لمبے راستے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں، جس سے ایندھن کی کھپت اور آپریشنل لاگت مزید بڑھ گئی ہے۔ یہ صورتحال صرف ایئر انڈیا تک محدود نہیں ہے۔ فیڈریشن آف انڈین ایئرلائنز جس میں انڈیگو اور اسپائس جیٹ بھی شامل ہیں، نے حال ہی میں حکومت سے اپیل کی تھی کہ ایوی ایشن ٹربائن فیول کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
ایئر لائنز کے مطابق، موجودہ لاگت کا ماحول پورے شعبے کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ ایک سرکاری خط میں کہا گیا کہ ’’ایئر لائن آپریشنز جاری رکھنے کے لیے فوری حکومتی مداخلت ضروری ہے، کیونکہ صنعت شدید مالی دباؤ کا شکار ہے۔‘‘ جہاں ایئر انڈیا لاگت کم کرنے کے لیے پروازیں گھٹا رہی ہے، وہیں انڈیگو نے مختلف حکمت عملی اپناتے ہوئے اپنے بین الاقوامی آپریشنز کو جاری رکھا ہوا ہے۔ کمپنی یورپی روٹس کے لیے نورس اٹلانٹک ایئرویز کے طیارے لیز پر لے رہی ہے اور مشرقِ وسطیٰ کے متاثرہ روٹس کو بھی بحال کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جبل پور کروز سانحہ، ۹؍لاشیں برآمد، جانچ کا حکم جاری
صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی مستقبل میں فضائی سفر کو مزید مہنگا اور محدود بنا سکتی ہے۔ اگرچہ فی الحال کرایوں میں بڑے اضافے سے گریز کیا جا رہا ہے، لیکن طویل مدت میں اس کے اثرات مسافروں پر پڑنا ناگزیر ہو سکتا ہے۔ ایئر انڈیا کی جانب سے یہ اقدام اس بات کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی حالات اور ایندھن کی قیمتیں ایوی ایشن انڈسٹری کے لیے کس قدر چیلنج بن چکی ہیں، اور آنے والے مہینوں میں مزید ایڈجسٹمنٹ دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔