Updated: July 23, 2026, 1:48 PM IST
| New Delhi
دہلی میں جاری طلبہ احتجاج کے دوران متعدد میٹرو اسٹیشن بند کیے جانے کے معاملے پر ایک وکیل نے سپریم کورٹ سے فوری مداخلت کی اپیل کی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے درخواست پر سماعت کے دوران کہا کہ اگر صورتحال میں عدالتی مداخلت کی ضرورت محسوس ہوئی تو عدالت ضرور کارروائی کرے گی۔ دوسری جانب سیکوریٹی وجوہات کی بنا پر بند کیے گئے متعدد میٹرو اسٹیشنوں سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
جسٹس سوریہ کانت۔ تصویر: آئی این این
دہلی میں جاری طلبہ احتجاج اور اس کے پیش نظر متعدد دہلی میٹرو اسٹیشنوں کی بندش کے معاملے نے سپریم کورٹ کا رخ کر لیا ہے۔ ایک وکیل نے چیف جسٹس سوریہ کانت کے سامنے درخواست پیش کرتے ہوئے کہا کہ میٹرو اسٹیشنوں کی اچانک بندش سے عام شہریوں، طلبہ اور ملازمت پیشہ افراد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اس لیے عدالت فوری مداخلت کرے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ عدالت صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر عدالتی مداخلت ضروری ہوئی تو سپریم کورٹ مناسب کارروائی کرے گی۔ تاہم انہوں نے فوری عبوری حکم جاری کرنے سے گریز کیا اور معاملے کو حالات کے مطابق دیکھنے کی بات کہی۔
یہ بھی پڑھئے: دھولیہ میں کانگریس کا زبردست احتجاج، وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ
یہ درخواست ایسے وقت میں سامنے آئی جب دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (DMRC) نے سیکوریٹی خدشات کے پیش نظر وسطی دہلی کے ۱۶؍ میٹرو اسٹیشن عارضی طور پر بند کر دیے تھے۔ ان میں راجیو چوک، پٹیل چوک، جن پتھ، منڈی ہاؤس، سینٹرل سیکریٹریٹ، آئی ٹی او، دہلی گیٹ، خان مارکیٹ، جور باغ سمیت کئی اہم اسٹیشن شامل تھے، اگرچہ چند مقامات پر انٹرچینج سہولت برقرار رکھی گئی۔ میٹرو اسٹیشنوں کی بندش کے باعث ہزاروں مسافروں کو متبادل راستے اختیار کرنا پڑے، جبکہ متعدد افراد دفتر، کالج اور دیگر مقامات پر بروقت نہ پہنچ سکے۔ سوشل میڈیا پر بھی شہریوں نے اس اچانک بندش پر ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پیشگی اطلاع نہ ہونے کی وجہ سے انہیں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھئے: پیپر لیک معاملے میں راہل گاندھی کی مودی پر تنقید، طلبہ کے ۳؍ مطالبات دہرائے
دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صرف عوامی سلامتی اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا۔ پولیس اور ڈی ایم آر سی کے مطابق احتجاج کے باعث سیکوریٹی خدشات پیدا ہوئے تھے، اسی لیے احتیاطی تدبیر کے طور پر مخصوص اسٹیشن بند کیے گئے۔ بعد ازاں صورتحال معمول پر آنے کے بعد اسٹیشن دوبارہ کھول دیے گئے۔ یہ معاملہ اس وسیع تر قانونی تنازع سے الگ ہے جس میں سپریم کورٹ کے سامنے طلبہ احتجاج کے دوران مبینہ پولیس کارروائی سے متعلق بھی درخواست دائر کی گئی تھی۔ اس مقدمے میں عدالت نے فوری سماعت سے انکار کیا تھا، جبکہ میٹرو بندش کے معاملے میں چیف جسٹس سوریہ کانت نے واضح کیا کہ اگر حالات نے تقاضا کیا تو عدالت مداخلت کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔