مظاہرین نے کہا کہ وزیراعظم عوام سے خوفزدہ ہیں اس لئے ان کے احتجاج کو کچلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: July 23, 2026, 12:52 PM IST | Ismaeel Shad | Dhule
مظاہرین نے کہا کہ وزیراعظم عوام سے خوفزدہ ہیں اس لئے ان کے احتجاج کو کچلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دہلی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کرنے والے طلبہ پر لاٹھی چارج اور راہل گاندھی کے ساتھ دھکامکی کے خلاف بدھ کو دھولیہ میں کانگریس کارکنان نے حتجاج کیا ۔کانگریس کے ضلع صدر یوراج کرنکال کی قیادت میں پارٹی کارکنان نے گاندھی جی کے مجسمے کے سامنے بی جے پی حکومت کے خلاف جم کر نعرے لگائے۔ ساتھ ہی مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: پیپر لیک معاملے میں راہل گاندھی کی مودی پر تنقید، طلبہ کے ۳؍ مطالبات دہرائے
یوراج کرنکال نے میڈیاسے کہا کہ دہلی جنتر منتر پر پورے ملک کے طلبہ دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ ان کی باتیں سننے کے بجائے حکومت اپنی طاقت کے زعم میں طلبہ پر بے دردی سے لاٹھیاں برسا رہی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو انصاف دلانے کیلئے منگل کو کانگریس لیڈر راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، ملکاارجن کھرگے وزیر اعظم کے بنگلے کے سامنے جمہوری طریقے سے دھرنے پر بیٹھے تھے۔پولیس نے ان لیڈروں کے ساتھ ناروا سلوک کیا۔مظاہرین کو گھسیٹتے ہوئے پولیس گاڑی میں ڈالا گیا جس کی وجہ سے راہل گاندھی کے جسم پر خراش آئی۔حراست میں لئے گئے گانگریس لیڈروں کو الگ الگ مقامات پر چار سے پانچ گھنٹوں تک قید کرکے رکھا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر احتجاج: فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز بھی انسان دوستی کی علامت بن گئے
شہر صدر الحاج صابر سیٹھ نے کہا کہ مودی حکومت عوام سے بہت زیادہ خوفزدہ ہے۔ عوام سے کیا گیا ایک بھی وعدہ اب تک پورا نہیں کیا گیا اسلئے وہ عوام کا سامنا کرنے سے گھبراتے ہیں۔ اس مظاہرے میں یوراج کرنکال، الحاج صابر سیٹھ، مظفر حسین راجا بھیا، بھائی جی نگرالے، گوپال انصاری، بھوسن اہیرے، رہتیش بھاو صاحب پاٹل، سدھیر جادھو وغیرہ شامل تھے۔