Updated: April 08, 2026, 3:57 PM IST
| Patna
بالی ووڈ کے معروف نغمہ نگار اور اسکرپٹ رائٹر جاوید اختر نے طویل وقفے کے بعد فلمی کہانی نویسی میں واپسی کا اعلان کر دیا ہے۔ پٹنہ میں منعقدہ کتاب اتسو کی اختتامی تقریب میں اپنی نئی کتاب ’’سیپیاں‘‘ پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ دو نئی فلموں کے اسکرپٹ مکمل کر چکے ہیں اور جلد ان پر کام شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسکرپٹ پہلے اپنے بچوں فرحان اختر اور زویا اختر کو سنائیں گے۔ جاوید اختر نے موجودہ گانوں کے معیار پر بھی تشویش ظاہر کی۔
جاوید اختر۔ تصویر: آئی این این
پٹنہ میں منعقدہ کتابی میلے ’’کتاب اتسو‘‘ کی اختتامی تقریب کے دوران بالی ووڈ کے ممتاز نغمہ نگار اور اسکرپٹ رائٹر جاوید اختر نے فلمی دنیا میں اپنی واپسی کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے دو نئی فلموں کے اسکرپٹ مکمل کر لیے ہیں اور جلد ہی ان منصوبوں پر عملی کام کا آغاز کیا جائے گا۔ تقریب میں اپنی نئی کتاب ’’سیپیاں‘‘ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اپنے تخلیقی سفر کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ جاوید اختر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’کورونا کے ایام میں، مَیں نے دوبارہ اسکرپٹ رائٹنگ کی طرف توجہ دی اور اب دو فلموں کی کہانیاں مکمل ہیں۔ مَیں یہ اسکرپٹ اپنے بچوں، فرحان اختر اور زویا اختر کو سناؤں گا۔ اگر انہیں پسند آئے تو ٹھیک، ورنہ میں دوسرے پروڈیوسرز کے پاس جاؤں گا۔‘‘ ان کے اس بیان کے بعد فلمی حلقوں میں ان کی واپسی کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’دُھرندھر۲‘‘لیک کیس : ٹیلیگرام پر فروخت کی جا رہی تھی فلم
واضح رہے کہ جاوید اختر نے ماضی میں سلیم خان کے ساتھ مل کر بالی ووڈ کو کئی یادگار فلمیں دی ہیں جن میں ’’شعلے‘‘، ’’دیوار‘‘، ’’زنجیر‘‘ اور ’’ڈان‘‘ شامل ہیں۔ ان فلموں نے نہ صرف باکس آفس پر کامیابی حاصل کی بلکہ ہندوستانی سنیما کی تاریخ میں ایک اہم مقام بھی حاصل کیا۔ انہوں نے آخری بار ۲۰۰۴ء میں اپنے بیٹے فرحان اختر کی فلم ’’لکشیا‘‘ کا اسکرپٹ لکھا تھا، جس کے بعد وہ اسکرپٹ رائٹنگ سے دور تھے۔
تقریب کے دوران جاوید اختر نے اپنے بطور نغمہ نگار کریئر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’۱۹۸۱ء میں یش چوپڑا کی فلم ’’سلسلہ‘‘ سے میں نے بطور نغمہ نگار کام کا آغاز کیا۔ اس فلم کا گیت ’’دیکھا ایک خواب تو یہ سلسلے ہوئے‘‘ بے حد مقبول ہوا۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ اس کے بعد انہوں نے کئی یادگار گیت تحریر کیے، تاہم اب وہ فلمی گیت کم لکھ رہے ہیں۔ انہوں نے موجودہ دور کے گانوں کے معیار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں پیشہ ورانہ طور پر کافی کام کر چکا ہوں، لیکن موجودہ حالات میرے مزاج کے مطابق نہیں ہیں۔‘‘ جاوید اختر نے ۱۹۹۰ء کی دہائی کے کچھ گانوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کئی بڑے بجٹ کی فلمیں صرف اس لیے مسترد کر دیں کیونکہ ان میں غیر شائستہ زبان کے استعمال کا تقاضا کیا گیا تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’’میرے طویل کریئر میں ایک بھی ایسا نغمہ نہیں ہے جس میں فحش یا نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے ہوں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: سلمان خان کو راحت، راجستھان ہائی کورٹ نے ضمانتی وارنٹ پر روک لگا دی
اپنی نئی کتاب ’’سیپیاں‘‘ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے جاوید اختر نے بتایا کہ اس میں انہوں نے کلاسیکی شعرا کے منتخب دوہوں کی سادہ زبان میں تشریح پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس کتاب میں میں نے کبیر، تلسی، رحیم اور ورند جیسے عظیم شعراء کے دوہوں کو آسان انداز میں بیان کیا ہے تاکہ نئی نسل اپنی تہذیبی جڑوں سے جڑی رہے۔‘‘ ادبی اور فلمی حلقوں میں جاوید اختر کی اس واپسی کو ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ ان کے مداحوں میں بھی نئی فلموں کے حوالے سے جوش و خروش پایا جا رہا ہے۔