جیا پرداحسن اور اداکاری کا منفرد سنگم

Updated: April 03, 2021, 3:54 PM IST | Agency | Mumbai

جیا پردا کا اصل نام للیتا رانی ہے، ان کی پیدائش آندھرا پردیش کے ایک چھوٹے سے گاؤں راجامندري میں ۳؍ اپریل۱۹۶۲ء کو ایک متوسط خاندان میں ہوئی تھی

Jaya Prada.Picture:INN
جیا پردا۔تصویر :آئی این این

  بالی ووڈ میں جیا پردا ان چنندہ اداکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں جن کی خوبصورتی اور اداکاری کا منفرد سنگم دیکھنے کو ملتا ہے۔عظیم فلمساز ستیہ جیت رے جیا پرداکی خوبصورتی اور اداکاری سے اتنے زیادہ متاثر تھے کہ وہ  جیا پردا کو دنیا کی خوبصورت ترین خواتین میں سے ایک سمجھتے تھے۔ ستیہ جیت رے انہیں لے کر ایک بنگلہ فلم بنانے والے تھے لیکن صحت خراب ہونے کی وجہ  سے ان کا یہ منصوبہ ادھورا ہی رہ گیا۔ جیا پردا کا اصل نام للیتا رانی  ہے، ان کی پیدائش آندھرا پردیش کے ایک چھوٹے سے گاؤں راجامندري میں ۳؍ اپریل۱۹۶۲ء کو ایک متوسط  خاندان میں ہوئی تھی۔ ان کے والد کرشنا تیلگو فلموں کے ڈسٹری بیوٹر تھے۔   بچپن ہی سے جیا پردا کا رجحان رقص کی جانب تھا ان کي ماں نيلاوني نے رقص کی طرف ان کے بڑھتے ہوئےرجحان کو دیکھ لیااور انہیں رقص سیکھنے کے لیے داخلہ دلا دیا۔ ۱۴؍برس کی عمر میں جیا پردا کو اپنے اسکول میں رقص پروگرام پیش کرنے کا موقع ملا جسے دیکھ کر ایک فلم ڈائریکٹر ان سے کافی متاثر ہوئے اور اپنی فلم `’بھومی كوسم‘ میں ان سے رقص کرنے کی پیشکش کی لیکن انہوں نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔بعد میں اپنے والدین کے زور دینے پر جیا پردا نے فلم میں رقص کرنا قبول کر لیا۔  ۱۹۷۷ءمیں جیا پردا کی فلم’اداوی راماڈو‘ میں منظرعام پر آئی جس نے باکس آفس کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے اورمستقل طور پر انہیں اسٹار کا درجہ دیا۔ اس فلم میں انہوں نےاداکار این ٹی راما راؤ کے ساتھ کام کیا اور شہرت کی بلندیوں پر جا پہنچیں۔ انہوں نے تیلگو فلموں کے علاوہ تمل ، ملیالم اور کنڑ زبان کی فلموں میں بھی قسمت آزمائی اور وہ سبھی فلموں میں کامیاب رہیں۔ ۱۹۷۹ء میں کے وشوناتھ نے فلم ’’سری سری  موا‘‘ (۱۹۷۶ء)کا  ہندی ریمیک ’’ سرگم‘‘ نام سے بنا کر  جیا پردا کو بالی ووڈ میں متعارف کروایا تھا۔یہ فلم زبردست ہٹ ہوئی اور وہ راتوں رات یہاں بھی اسٹار بن گئیں اور  بطور بہترین اداکارہ پہلی بار فلم فیئر ایوارڈ کے لئے نامزد بھی کی گئیں ۔ سرگم کی کامیابی کے بعد انہوں نے لوک پرلوک، ٹکر، ٹیکسی ڈرائیور اور پیارا ترانہ جیسی کئی معروف فلموں میں کام کیا لیکن ان میں سے کوئی فلم باکس آفس پر کامیاب نہیں ہوئی۔
 ہدایتکار کے وشوناتھ نے۱۹۸۲ء میں فلم ’کام چور‘کے ذریعہ انہیں ہندی فلموں میں دوبارہ  لانچ کیا۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر ہندی فلموں میں اپنی کھوئی ہوئی شناخت بنانے میں کامیاب ہوگئیں اور  اس فلم میں  پہلی بار وہ فراٹے دار ہندی بولتی ہوئی نظر آئیں۔ ۱۹۸۴ء میں  پرکاش مہرہ کی سپرہٹ فلم ’شرابی‘ ریلیز ہوئی جس میں انہوں نے سپراسٹار امیتابھ بچن کے ساتھ اداکاری کے جوہر دکھائے  تھے۔ ان پر فلمایا نغمہ ’دے دے پیار دے‘ ناظرین کے درمیان ان دنوں کریز بن گیا تھا۔
  جیاپردا کو ایک مرتبہ پھر۱۹۸۵ء میں کے وشوناتھ کی فلم ’سنجوگ‘ میں کام کرنے کا موقع ملا  جو ان کے کریئر کی ایک زبردست سپرہٹ فلم ثابت ہوئی۔ اس فلم میں انہوں نے   اپنے چیلنجنگ کردار سے ناظرین کا دل  جیت لیا۔ اپنے بالی ووڈ کے فلمی سفر کے ساتھ ساتھ انہوں نے جنوب میں بھی فلموں میں کام کرنا جاری رکھا۔ ۱۹۸۶ءمیں انہوں نے فلمساز سری کانت ناہٹا سے شادی کرلی لیکن فلموں میں کام کرنا جاری رکھا اس دوران ان کی گھرانہ، اعلان جنگ، مجبور اور شہزادے نامی فلمیں منظرعام پر آئیں جن میں جیا پردا کے مختلف انداز شائقین کو دیکھنے کو ملے۔ ۱۹۹۲ء میں ریلیزہونےوالی فلم ’ماں‘ ان کے کریئر کی اہم فلموں میں شمار کی جاتی  ہے۔  اس فلم میں انہوں نے ایک ایسی ماں کا کردار نبھایا  تھاجو اپنی بے وقت موت کے بعد اپنے بچے کو دشمنوں سے بچاتی ہے۔ اس فلم میں جذباتی کردار  نبھاکر  انہوں نے ناظرین کو محظوظ کردیا ۔ ان کے فلمی کریئر میں ان کی جوڑی جتیندر اور امیتابھ کے ساتھ کافی پسند کی گئی۔انہوں نے تقریباً۳؍دہائی تک اپنے طویل کریئر میں۲۰۰؍ سے زائد فلموں میں کام کیا ہے۔ ہندی فلموں کے علاوہ تیلگو، تمل، مراٹھی ، بنگلہ، ملیالم اور کنڑ فلموں میں بھی کام کیا ہے۔جیا پردا  ان دنوں سیاسی حلقے میں سرگرم ہیں۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK