Inquilab Logo Happiest Places to Work

جیہ پردا کو خوبصورت ترین اداکارہ تصور کیا جاتا رہا ہے

Updated: April 03, 2026, 11:03 AM IST | Mumbai

بالی ووڈ میں جیا پردا ان چنندہ اداکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں جن میںخوبصورتی اور اداکاری کا منفرد سنگم دیکھنے کو ملتا ہے۔

Beautiful actress Jaya Prada. Photo: INN
خوبصورت اداکارہ جیہ پردا۔ تصویر: آئی این این

بالی ووڈ میں جیا پردا ان چنندہ اداکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں جن میںخوبصورتی اور اداکاری کا منفرد سنگم دیکھنے کو ملتا ہے۔دیگر کے ساتھ فلمساز ستیہ جیت رےجیا پرداکی خوبصورتی اور اداکاری سے اتنے زیادہ متاثر تھے کہ وہ جیا پردا کو دنیا کی خوبصورت ترین خواتین میں سے ایک سمجھتےتھے۔ستیہ جیت رے انہیں لے کر ایک بنگلہ فلم بنانے والے تھے لیکن صحت خراب ہونے کی وجہ سے ان کا یہ منصوبہ ادھورا ہی رہ گیا۔جیا پردا کا اصل نام للتا رانی رائوہے، ان کی پیدائش آندھرا پردیش کے ایک چھوٹے سے گاؤں راجامندری میں ۳؍ اپریل۱۹۶۲ء کو ایک متوسط خاندان میں ہوئی تھی۔ ان کے والد کرشناتیلگو فلموں کے ڈسٹری بیوٹرتھے۔بچپن ہی سے جیا پردا کا رجحان رقص کی جانب تھا ان کی ماں نیلاونی نے رقص کی طرف ان کے بڑھتے ہوئےرجحان کو دیکھ لیااور انہیں رقص سیکھنے کے لیے داخلہ دلادیا۔۱۴؍برس کی عمر میں جیا پردا کو اپنے اسکول میں رقص پروگرام پیش کرنے کا موقع ملا جسے دیکھ کر ایک فلم ڈائریکٹر ان سے کافی متاثر ہوئے اور اپنی فلم ’بھومی وسم‘ میں ان سے رقص کرنے کی پیشکش کی لیکن انہوں نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔ بعد میں اپنے والدین کے زور دینے پر جیا پردا نے فلم میں رقص کرنا قبول کر لیا۔

یہ بھی پڑھئے: دھرندھر: دی ریوینج ۱۵؍ ویں دن ۱۴۶۶؍ کروڑ، دوسرے ہفتے میں نمایاں گراوٹ

۱۹۷۷ءمیں جیا پردا کی فلم’اداوی راماڈو‘منظرعام پر آئی جس نےباکس آفس کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے اورمستقل طور پر انہیں اسٹار کا درجہ دیا۔ اس فلم میں انہوں نےاداکار این ٹی راما راؤ کے ساتھ کام کیا اور شہرت کی بلندیوں پرجا پہنچیں۔ انہوں نے تیلگو فلموں کے علاوہ تمل ، ملیالم اور کنڑ زبان کی فلموں میں بھی قسمت آزمائی اور وہ سبھی فلموں میں کامیاب رہیں۔۱۹۷۹ء میں کے وشوناتھ نے فلم ’سری سری موا‘ (۱۹۷۶ء)کا ہندی ریمیک ’ سرگم‘ نام سے بنا کر جیا پردا کو بالی ووڈ میں متعارف کروایا تھا۔یہ فلم زبردست ہٹ ہوئی اور وہ راتوں رات یہاں بھی اسٹار بن گئیں اور بطور بہترین اداکارہ پہلی بار فلم فیئر ایوارڈ کے لئے نامزد بھی کی گئیں ۔سرگم کی کامیابی کے بعد انہوں نے لوک پرلوک، ٹکر، ٹیکسی ڈرائیور اورپیارا ترانہ جیسی کئی معروف فلموں میں کام کیا لیکن ان میں سے کوئی فلم باکس آفس پر کامیاب نہیں ہوئی۔ہدایتکار کے وشوناتھ نے۱۹۸۲ء میں فلم ’کام چور‘کے ذریعہ انہیں ہندی فلموں میں دوبارہ لانچ کیا۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر ہندی فلموں میں اپنی کھوئی ہوئی شناخت بنانے میں کامیاب ہوگئیں اور اس فلم میں پہلی بار وہ فراٹے دار ہندی بولتی ہوئی نظرآئیں۔۱۹۸۴ء میں پرکاش مہرہ کی سپرہٹ فلم ’شرابی‘ ریلیز ہوئی جس میںانہوں نے سپراسٹار امیتابھ بچن کے ساتھ اداکاری کے جوہر دکھائے تھے۔ان پر فلمایا نغمہ ’دے دے پیار دے‘ ناظرین کے درمیان ان دنوں کریز بن گیا تھا۔جیاپردا کو ایک مرتبہ پھر۱۹۸۵ء میں کے وشوناتھ کی فلم ’سنجوگ‘ میں کام کرنے کا موقع ملا جو ان کے کریئر کی ایک زبردست سپرہٹ فلم ثابت ہوئی۔ اس فلم میں انہوں نےاپنے چیلنجنگ کردار سے ناظرین کا دل جیت لیا۔ اپنے بالی ووڈ کے فلمی سفر کے ساتھ ساتھ انہوں نے جنوب میں بھی فلموں میں کام کرنا جاری رکھا۔انہوں نے تقریباً۳؍دہائی تک اپنے طویل کریئر میں۲۰۰؍ سے زائد فلموں میں کام کیا ہے۔ ہندی فلموں کے علاوہ تیلگو، تمل، مراٹھی ، بنگلہ، ملیالم اور کنڑ فلموں میں بھی کام کیا ہے۔جیہ پردا ۲۰۰۴ءسے ۲۰۱۴ءتک لوک سبھا کی ممبر بھی رہ چکی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK