نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز کی تازہ رپورٹ کے مطابق بچوں کی نشوونما کیلئے ٹیکنالوجی کا درست اور متوازن استعمال ضروری ہے۔
EPAPER
Updated: April 03, 2026, 12:34 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز کی تازہ رپورٹ کے مطابق بچوں کی نشوونما کیلئے ٹیکنالوجی کا درست اور متوازن استعمال ضروری ہے۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز (این آئی ایم ایچ اے این ایس) کی تازہ رپورٹ کے مطابق بچوں کے بڑھتے اسکرین ٹائم کی وجہ سے والدین کی پریشانی میں اضافہ ہوا ہے۔ مذکورہ ادارہ کاکہنا ہے کہ بچوں کی نشوونما کیلئے ٹیکنالوجی کا درست اور متوازن استعمال ضروری ہے۔
ڈیجیٹل آلات کے بڑھتے استعمال سے بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ملک میں بہت سے بچے تجویز کردہ حد سے زیادہ وقت موبائل فون، ٹیبلٹ اور دیگر اسکرین کے سامنے گزار رہے ہیں۔ اس کے پیچھے بڑی وجوہات آن لائن سیکھنے، ویڈیو گیمز اور سوشل میڈیا کا بڑھتا استعمال ہیں۔ نتیجتاً بچوں کی روزمرہ کی زندگی میں اسکرین کا عمل دخل بڑھتا جا رہا ہے۔ایسےمیں والدین کیلئے بچوں کو اسکرین سے دور رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اگروالدین ان سے ڈیجیٹل آلات چھین لیتےہیںتو بچے چڑچڑاپن ،برہمی اور بے چینی کا اظہارکرتےہیں۔ ایسابھی محسوس ہورہا ہے کہ بچوں کابڑھتا اسکرین ٹائم لت کی صورت اختیار کررہاہے۔
یہ بھی پڑھئے: گیس پائپ لائن کیلئے تمام وارڈوں میں کھدائی کی اجازت کا نوٹیفکیشن جاری
ماہرین کےمطابق بچوںمیں اسکرین کا یہ بڑھتا وقت ان کی ذہنی صلاحیتوں کو متاثر کر رہا ہے۔ ارتکاز میں کمی، خلفشاراور مطالعے میں دلچسپی کم ہونے جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ اس سے تعلیمی کارکردگی پر منفی اثرات پڑنے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ دماغی صحت کے حوالے سے یہ صورتحال تشویشناک ہے۔
اسکرین کا زیادہ استعمال بچوں میں موڈ سوئنگ، چڑچڑاپن اور سماجی تنہائی کو بڑھا رہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ روبروہونےوالی بات چیت میں کمی آنے سے سماجی تعلقات بھی متاثر ہورہےہیں۔ اس کے علاوہ جسمانی صحت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ اسکرین کے سامنے مسلسل بیٹھے رہنے سے جسمانی سرگرمیاں کم ہو جاتی ہیں جس سے موٹاپا، تھکاوٹ اور نیند کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: شاہ پور میں تھانے ضلع کا پہلا شاندار پلینیٹیریم تیار، ۵؍ اپریل کو افتتاح ہوگا
اس کے پیش نظر ماہرین نے والدین کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ گھر میں اسکرین کے استعمال کیلئے واضح اصول طے کرنا، اسکرین سے دور رہنے کاوقت متعین کرنا اور بچوں کو گیمز، پڑھنے اور دیگر تخلیقی سرگرمیوں کی طرف موڑنا ضروری ہے۔ والدین کیلئے خودبھی ڈیجیٹل آلات کےاستعمال میں تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک رول ماڈل قائم کرنا ضروری ہے۔ مجموعی طور پرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسزکی رپورٹ ڈیجیٹل دور میں بچوں کے طرز زندگی میں ہونے والی تبدیلیوں پر روشنی ڈالتی ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ بچوں کی ہمہ گیر نشوونما کیلئے ٹیکنالوجی کادرست اور متوازن استعمال ضروری ہے۔