Updated: July 23, 2026, 4:33 PM IST
| Mumbai
۱۹۶۷ءمیںریلیز ہونے والی بالی ووڈ کی یادگار جاسوسی فلم ’جیول تھیف‘نےنہ صرف شاندار کامیابی حاصل کی بلکہ ہندی سنیما کے کئی عظیم فنکاروں کو ایک ساتھ پردۂ سیمیں پرجمع بھی کیا۔ دیو آنند، وجینتی مالا، اشوک کمار اور تنوجا جیسے نامور اداکار، جو اس وقت تک متعدد سپر ہٹ فلمیں دے چکے تھے۔
وجے آنند اور وجینتی مالا۔ تصویر: آئی این این
۱۹۶۷ءمیںریلیز ہونے والی بالی ووڈ کی یادگار جاسوسی فلم ’جیول تھیف‘نےنہ صرف شاندار کامیابی حاصل کی بلکہ ہندی سنیما کے کئی عظیم فنکاروں کو ایک ساتھ پردۂ سیمیں پرجمع بھی کیا۔ دیو آنند، وجینتی مالا، اشوک کمار اور تنوجا جیسے نامور اداکار، جو اس وقت تک متعدد سپر ہٹ فلمیں دے چکے تھے، اس فلم میں معروف ہدایت کار وجے آنند کے ساتھ نظر آئے۔ اگرچہ فلم نے باکس آفس پر زبردست کامیابی حاصل کی اور ناقدین سے بھی خوب داد سمیٹی، لیکن اس کی شوٹنگ کے دوران ہدایت کار وجے آنند کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں سب سے نمایاں اداکارہ وجینتی مالا کے ساتھ ان کے اختلافات تھے۔ ان تمام واقعات کا تفصیلی ذکر وجے آنند کی سوانح عمری’گولڈی: دی مین اینڈ ہز مویز‘میں کیا گیا ہے۔۱۹۶۵ءمیںاپنی شہرۂ آفاق فلم ’گائیڈ‘کی کامیابی کے بعد وجے آنند رومانوی کہانیوں سے ہٹ کر کسی نئے موضوع پر کام کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے نارائن سانیال کے ساتھ مل کر ’جیول تھیف‘کی کہانی لکھی، جس میں دیو آنند نے ونے کا کردار ادا کیا ہے۔کتاب میں بتایا گیا ہے کہ شوٹنگ شروع ہوتے ہی وجے آنند اور وجینتی مالا کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے تھے۔ ایک واقعہ اس وقت پیش آیا جب وجینتی مالا سیٹ پر تاخیر سے پہنچیں اور پوری یونٹ کو انتظار کرنا پڑا۔ تمام فنکار شوٹنگ کے لیے تیار تھے، لیکن وہ کافی دیر تک اپنے میک اپ روم سے باہر نہیں آئیں۔جب وہ آخرکار باہر آئیں تو انہوں نے تاخیر پر معذرت کرنے کے بجائے وجے آنند سے پوچھا، ’’میں آپ کے لیے کیا کر سکتی ہوں؟‘‘یہ سن کر وجے آنند سخت ناراض ہو گئے اور غصے میں بولے،’’آپ اب کچھ نہیں کر سکتیں۔ اب دوپہر کے کھانے کا وقت ہو گیا ہے، شوٹنگ بعد میں ہوگی۔‘‘ وجے آنند کا خیال تھا کہ وجینتی مالا نے نہ صرف پوری یونٹ بلکہ سینئر اداکار اشوک کمار کی بھی بے عزتی کی، جو صحت کے مسائل کی وجہ سے ایک منظم شیڈول کے مطابق کام کرتے تھے۔ شوٹنگ آگے بڑھتی گئی اوردونوں کےاختلافات بھی بڑھتے گئے۔