طلبہ کے احتجاج کے خلاف پولیس کے کارروائی کی سخت مذمت کی گئی ۔اس تعلق سے شیتکری کامگار پکش کے دفتر میںبدھ کی شام ۴؍بجے کے بعد پروگریسیو اسٹوڈنٹس یونین کی پریس کانفرنس کی گئی۔
EPAPER
Updated: July 23, 2026, 5:38 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
طلبہ کے احتجاج کے خلاف پولیس کے کارروائی کی سخت مذمت کی گئی ۔اس تعلق سے شیتکری کامگار پکش کے دفتر میںبدھ کی شام ۴؍بجے کے بعد پروگریسیو اسٹوڈنٹس یونین کی پریس کانفرنس کی گئی۔
طلبہ کے احتجاج کے خلاف پولیس کے کارروائی کی سخت مذمت کی گئی ۔اس تعلق سے شیتکری کامگار پکش کے دفتر میںبدھ کی شام ۴؍بجے کے بعد پروگریسیو اسٹوڈنٹس یونین کی پریس کانفرنس کی گئی۔ اس میںآئینی حقوق کے تحفظ کے لئے قانونی جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا۔ پریس کانفرنس میں ۵؍ وکلاء نے خطاب کیا اورکئی قانونی نکات بتائے۔
ایڈوکیٹ سامیا کورڈے نے کہا کہ ’’پولیس نے ان کے ساتھ ظالمانہ رویہ اپنا یا اور انہیں گھر میں نظر بند کر دیا۔ ایمرجنسی کے دوران اس طرح کی گھروں میں نظربندیاں عام تھیںجبکہ آج پولیس اورانتظامیہ کا رویہ بھی ایسا ہی ہے۔ حکومت اور پولیس کے یہ اقدامات جابرانہ اور مکمل طور پر غیر قانونی ہیں۔ پولیس نے احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف انڈین سول سیکوریٹی کوڈ (بی این ایس ایس)، انڈین جسٹس کوڈ (بی این ایس) اور بمبئی پولیس ایکٹ کے تحت مقدمات درج کئے ہیں۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: یمراج کا حلیہ اپنا کر پٹریاں پار کرنے والے مسافروں کیلئے ’جیون رکشا‘ کا پیغام
ایڈوکیٹ وکرانت کھرے نے کہا کہ ’’مظاہرین نے بمبئی پولیس ایکٹ کی کسی بھی سیکشن کی خلاف ورزی نہیں کی ہے جس کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ مظاہرین کو دادر ریلوے اسٹیشن پر بھی حراست میں لیا گیا۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’شہریوں کی نقل و حرکت کی آزادی کو سلب کیا جا رہا ہے، جبکہ پرامن احتجاج، جس کی ضمانت ہندوستانی آئین کا بنیادی حق ہے، کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔‘‘
ایڈوکیٹ کھرے نے مزید کہا کہ ’’طلبہ کو حراست میں لینا، ان کے موبائل فون ضبط کرنا، ان سے پوچھ گچھ، کچھ مظاہرین کو ان کے گھروں میں قید کرنا، ان کے موبائل لوکیشنز کا مطالبہ کرنا، انہیں وہاٹس ایپ پر لائیو لوکیشنز شیئر کرنے پر مجبور کرنا اور ان کی نگرانی کرنا، یہ سب شہریوں کے پرائیویسی کے حق، ذاتی آزادی اور دیگر بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہیں، یہ سب مکمل طور پر غیر قانونی ہیں۔‘‘
ایڈوکیٹ کلیانی منگاوے نے کہا کہ ’’مظاہرین کو تحریری احکامات کے بغیر حراست میں لیا جا رہا ہے جو کہ قانون کےصریح خلاف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی قانون بغیر کسی کارروائی کے شہریوں کو غیر قانونی حراست میں رکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ممبئی کو پانی سپلائی کرنے والی تیسری جھیل بھی چھلک گئی
چھاترا بھارتی کے رکن لیسلی ڈیسوزا نے بتایاکہ’’ ۲۲؍ جولائی کی نصف شب تک امتناعی حکم نافذ نہ ہونے کے باوجود احتجاج میں حصہ لینے والے طلبہ کو حراست میں لیا جا رہا ہے، نوٹس جاری کئے گئے ہیں اور ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج کئے جا رہے ہیں۔ کئی طلبہ کو انڈین سول سروس کوڈ (بی این ایس ایس) کی دفعہ ۳۵؍(۳) کے تحت نوٹس جاری کیا گیا ہے۔‘‘
آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن (اے آئی ایس ایف) کے عامر قاضی نے بتایا کہ’’ پولیس نے انہیں انتہائی جارحانہ انداز میں حراست میں لینے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے۔ ڈاکٹروں نے انہیں ایم آر آئی کرانے کا مشورہ دیا تھا لیکن پولیس کو طبی مدد فراہم کرنے سے پہلے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی جلدی تھی۔‘‘ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’’حکومت اور پولیس احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ غیر انسانی سلوک کر رہی ہے۔‘‘
اس پریس کانفرنس میںیہ اعلان کیا گیا کہ ہر متاثر ہونے والے طالب علم اوراحتجاج میںشامل شخص کو قانونی مدد فراہم کرائی جائے گی۔اس کے علاوہ یہ بھی واضح کیا گیا کہ پرامن احتجاج کا حق، رازداری کا حق، آزادی اظہار اور نقل و حرکت کی آزادی ہندوستانی آئین کے ذریعہ ہر شہری کو فراہم کردہ اس کے بنیادی حقوق ہیں۔ ان حقوق کی خلاف ورزی غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔