Updated: July 23, 2026, 5:05 PM IST
| Mumbai
بالی ووڈ اور ہالی ووڈ کی معروف اداکارہ پرینکا چوپڑا نے اپنی خود نوشت ’ابھی باقی ہے سفر‘ میں اپنی زندگی کا ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ۲۰۰۰ءمیںمس انڈیا مقابلے میں حصہ لینے سے پہلے ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنے والد کو راضی کرنا اور ان سے اجازت حاصل کرنا تھا۔
پرینکا چوپڑا۔ تصویر: آئی این این
بالی ووڈ اور ہالی ووڈ کی معروف اداکارہ پرینکا چوپڑا نے اپنی خود نوشت ’ابھی باقی ہے سفر‘ میں اپنی زندگی کا ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ۲۰۰۰ءمیںمس انڈیا مقابلے میں حصہ لینے سے پہلے ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنے والد کو راضی کرنا اور ان سے اجازت حاصل کرنا تھا۔پرینکا چوپڑا کے والد کیپٹن ڈاکٹر اشوک چوپڑا اور والدہ ڈاکٹر مدھو چوپڑا فوج میں ڈاکٹر تھے۔ان کے گھر میں تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی کو ہمیشہ اولین ترجیح دی جاتی تھی، اس لیے حسن کے مقابلے میں شرکت کی بات گھر میں کرنا آسان نہیں تھا۔اس وقت پرینکا صرف ۱۷؍برس کی تھیں اور اپنی تعلیم میں مصروف تھیں۔ ایک دن اسکول اور ٹیوشن کے درمیان انہیں فیمینا میگزین کی جانب سے فون آیا۔ انہیں بتایا گیا کہ مس انڈیا نارتھ انڈیا راؤنڈ کے لیے ان کا انتخاب ہو گیا ہے اور انہیں دہلی میں ہونے والے ابتدائی آڈیشن میں شرکت کرنی ہوگی۔یہ خبر سن کر پرینکا کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ ابتدا میں انہیں لگا کہ شاید بریلی میں ان کی مقبولیت کی وجہ سے مس انڈیا کی ٹیم انہیں جانتی ہے، لیکن بعد میں ان کی والدہ نے انکشاف کیا کہ انہوں نے ہی خاموشی سے پرینکا کا درخواست فارم بھر کر بھیج دیا تھا۔اس کے بعد پرینکا اپنی والدہ کے ساتھ ٹرین کے ذریعے دہلی پہنچیں اور مس انڈیا کے ابتدائی مرحلے میں حصہ لیا۔وہاں پہنچ کر وہ حیران رہ گئیں، کیونکہ مقابلے میں شریک بیشتر لڑکیاں پہلے ہی ماڈلنگ اور فیشن انڈسٹری سے وابستہ تھیں، جبکہ انہیں اس میدان کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ اس وقت انہیں اندازہ بھی نہیں تھا کہ یہی مقابلہ ان کی پوری زندگی بدل دے گا۔پرینکا چوپڑا نے پہلے مس انڈیا مقابلے میں کامیابی حاصل کی اور پھر اسی سال مس ورلڈ۲۰۰۰ءکاتاج بھی اپنے نام کر لیا۔ اس عالمی اعزاز نے ان کے لیے فلمی دنیا کے دروازے کھول دیے۔