۱۵-۲۰۱۴ء میں ۶۲۱ء۵۸؍ کروڑ تھا، مودی سرکار نے قرض کو مالیاتی اعتبار سے پائیدار قرار دیا، کہا:جی ڈی پی اوراِس کا تناسب کم ہو رہا ہے۔
EPAPER
Updated: July 23, 2026, 5:33 PM IST | New Delhi
۱۵-۲۰۱۴ء میں ۶۲۱ء۵۸؍ کروڑ تھا، مودی سرکار نے قرض کو مالیاتی اعتبار سے پائیدار قرار دیا، کہا:جی ڈی پی اوراِس کا تناسب کم ہو رہا ہے۔
رواں مالی سال یعنی ۲۶-۲۰۲۵ء میں (عارضی اعداد و شمار کے مطابق ) ہندوستان پرمجموعی قرض بڑھ کر۲۰۱ء۱۷؍ لاکھ کروڑ روپے ہوگیا ہے جو ۲۵-۲۰۲۴ء میں ۱۸۵؍ لاکھ کروڑ روپےتھا۔ یعنی ایک سال میں ملک پر مجموعی قرض میں ۸؍ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ تاہم مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ ملک کا عوامی قرض مالیاتی اعتبار سے پائیدار ہے کیونکہ قرض اور جی ڈی پی کا تناسب مسلسل کم ہو رہا ہے اور حکومتی آمدنی میں اضافے کے باعث بڑھتی ہوئی سودی ادائیگیوں کو بھی بآسانی پورا کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جیمینائی ۴؍کی اندرونی جھلک: اگلی نسل کے اے آئی ماڈل کی معلومات
راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں وزیر مملکت برائے خزانہ پنکج چودھری نے کہا کہ کووڈ-۱۹؍ کی وبا کے بعد سے قرض اور جی ڈی پی کا تناسب مجموعی طور پر کم ہونے کی سمت میں ہے جو عوامی قرض کے مالیاتی استحکام کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی محصولات میں اضافے نے سود کی ادائیگیوں کو بھی مالیاتی طور پر پائیدار انداز میں پورا کرنا ممکن بنایا ہے۔۲۰۱؍لاکھ کروڑ روپے کی مجموعی واجبات میں عوامی قرض کا حصہ سب سے زیادہ ہے جو ۱۸۳ء۴۳؍ لاکھ کروڑ روپے یعنی کل واجبات کا ۹۱ء۲؍ فیصد ہے۔ اس میں داخلی قرض ۱۷۳ء۵۵؍ لاکھ کروڑ روپے رہا، جبکہ موجودہ شرح مبادلہ کے مطابق بیرونی قرض ۹ء۸۹؍لاکھ کروڑ روپے تھا۔
وزارت خزانہ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ۵؍ برسوں میں سود کی ادائیگیاں مسلسل بڑھتی رہی ہیں۔ نشاندہی کی گئی ہے کہ مالی سال ۲۲-۲۰۲۱ء میں یہ ۸ء۰۵؍لاکھ کروڑ روپے تھیںجو ۲۶-۲۰۲۵ء میں بڑھ کر ۱۲ء۴۳؍ لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئیں۔
دوسری جانب مالی خسارہ میں گزشتہ برسوں کے دوران کمی آئی ہے۔ ۲۶-۲۰۲۵ء میں مالی خسارہ (عارضی اعداد و شمار کے مطابق)۱۵ء۱۹؍ لاکھ کروڑ روپے رہا جبکہ۲۳-۲۰۲۲ء میں یہ ۱۷ء۳۸؍ لاکھ کروڑ روپے اور۲۲-۲۰۲۱ء میں ۱۵ء۸۵؍ لاکھ کروڑ روپے تھا۔
حکومت نے کہا ہے کہ دستیاب مالی وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنانے کیلئے سماجی و اقتصادی ترقی اور معاشی نمو کو فروغ دینے والے شعبوں پر اخراجات کو ترجیح دی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں کل سرکاری اخراجات میں مؤثر سرمایہ جاتی اخراجات کا حصہ مالی سال۲۱-۲۰۲۰ء کے۱۸ء۷؍ فیصد سے بڑھ کر مالی سال۲۶-۲۰۲۵ء میں۲۷ء۲؍ فیصد ہو گیا ہے۔
۱۲؍ سال اور قرض میں اضافہ
۱۵-۲۰۱۴ء ۶۱ء۵۸؍ لاکھ کروڑ
۱۶-۲۰۱۵ء ۶۶ء۶۴؍ لاکھ کروڑ
۱۷-۲۰۱۶ء ۱۳ء۷۲؍ لاکھ کروڑ
۱۸-۲۰۱۷ء ۲۴ء۷۲؍ لاکھ کروڑ
۱۹-۲۰۱۸ء ۹۸ء۹۳؍ لاکھ کروڑ
۲۰-۲۰۱۹ء ۶۶ء۱۰۶؍ لاکھ کروڑ
۲۱-۲۰۲۰ء ۶۶ء۱۲۱؍ لاکھ کروڑ
۲۲-۲۰۲۱ء ۸۸ء۱۳۸؍ لاکھ کروڑ
۲۳-۲۰۲۲ء ۸۲ء۱۵۵؍ لاکھ کروڑ
۲۴-۲۰۲۳ء ۷۸ء۱۷۱؍ لاکھ کروڑ
۲۵-۲۰۲۴ء ۰۰ء۱۸۵؍ لاکھ کروڑ
۲۶-۲۰۲۵ء ۱۷ء۲۰۱؍ لاکھ کروڑ