• Thu, 29 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جتیندر بالی ووڈ کے پہلے ’ریئل ڈانسنگ اسٹار‘ تھے

Updated: April 07, 2020, 4:35 AM IST | Agency | Mumbai

ممبئی کے گوریگاؤں علاقے میں لڑکوں کا ایک گروپ اکثر فلموں کا پہلا شو دیکھنے جاتا تھا۔ فلم دیکھنے کے بعد وہ لوگوں کو بتاتے کہ فلم کیسی ہے۔ ایک دن ہدایتکار وي شانتا رام فلم دیکھنے آئے ہوئے تھے

Jitendar Kapoor - Pic : INN
جتندر کپور ۔ تصویر : آئی این این

ممبئی کے گوریگاؤں علاقے میں لڑکوں کا ایک گروپ اکثر فلموں کا پہلا شو دیکھنے جاتا تھا۔ فلم دیکھنے کے بعد وہ لوگوں کو بتاتے کہ فلم کیسی ہے۔ ایک دن ہدایتکار وي شانتا رام فلم دیکھنے آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے لڑکوں کے گروپ میں ایک لڑکے کو فلم کے بارے میں لوگوں سے بات چیت کرتے ہوئے سُنا۔ وي شانتا رام اس لڑکے سے کافی متاثر ہوئے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اسے اپنی فلم میں کام کرنے کا موقع دیں گے۔ انہوں نے اسے اپنے پاس بلا کر اپنی فلم ’نورنگ‘(۱۹۵۹ء) میں اداکارہ سندھیا کے ڈوپلیکیٹ کی حیثیت سے کام کرنے کا موقع دیا۔ بعد ازاں ۱۹۶۴ء کی فلم ’گیت گایا پتھروں نے‘میں کام کرنے کی پیشکش کی۔ وہ لڑکا روی کپور تھا جو بعد میں فلمی دنیا میں جتیندر کے نام سے مشہور ہوا۔
 ۷؍ اپریل ۱۹۴۲ء کو امرتسر(پنجاب) کے ایک جوہری خاندان میں پیدا ہونے والے جتیندر کا رجحان بچپن ہی سےہی فلموں کی جانب تھا اوربڑے ہوکر ان کی خواہش اداکار بننے کی تھی۔ وہ اکثر گھر سے بھاگ کر فلم دیکھنے جاتے تھے۔ جتیندر نے اپنے فلمی کریئر کا آغاز ۱۹۵۹ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’نو رنگ‘ سے کیا جس میں انہیں چھوٹا سا کردار ادا کرنے کا موقع ملا تھا۔ اس کے بعد تقریباً ۵؍ سال تک جتیندر فلموں میں کام حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کر تے رہے۔ ۱۹۶۴ء میں انہیں وهي شانتا رام کی فلم ’گیت گایا پتھروں نے‘ میں کام کرنے کا موقع ملا۔ اس فلم کے بعد جتیندر اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ ۱۹۶۷ء میں ان کی سپر ہٹ فلم ’فرض‘ ریلیز ہوئی۔ روی کانت نگائچ کی ہدایتکاری والی اس فلم میں جتیندر نے ’ڈانسنگ اسٹار‘ کا کردار ادا کیا۔ اس فلم میں ان پر فلمایا گیت ’مست بهاروں کا میں عاشق‘ سامعین اور ناظرین کے درمیان کافی مقبول ہوا۔ اس فلم کے بعد جتیندر کو ’جمپنگ جیک‘ کہا جانے لگا۔
 ’فرض‘ کی کامیابی کے بعد جتیندر کی شبیٖہ ’ڈانسنگ اسٹار‘ کے طور پر بن گئی۔ اس فلم کے بعد فلمسازوں اور ہدایتکاروں نے زیادہ تر فلموں میں ان کی ’ڈانسنگ امیج‘ کو کو کیش کیا۔ فلمسازوں نے ان کو ایک ایسے ہیرو کے طور پر پیش کیا جو اداکاری کے ساتھ ساتھ رقص کر سکتا تھا۔ جتیندر کی ان فلموں میں ’ہمجولی‘ اور ’كارواں‘ جیسی سپر ہٹ فلمیں شامل ہیں۔ اس دوران جتیندر نے ’جینے کی راہ‘، ’دو بھائی‘ اور ’دھرتی کہے پکار کے‘ جیسی فلموں میں ہلکے پھلكے رول کرکے اپنی کثیر جہتی صلاحیت کا ثبوت دیا۔۱۹۷۳ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’جیسے کو تیسا‘ کے ہٹ ہونے کے بعد فلمی صنعت میں ان کے نام کے ڈنکے بجنے لگے اور وہ ایک کے بعد ایک مشکل کردار کرکے شہرت حاصل کرتے گئے۔
 ۷۰ء کے عشرے میں جتیندر پر الزام لگنے لگا کہ وہ صرف ناچ گانے سے بھرپور رومانی کردار ہی ادا کر سکتے ہے۔ انہیں اس امیج سے باہر نکالنے میں ہدایت کار گلزار نے ان کی مدد کی اور ان کے ساتھ ’پریچے‘، ’خوشبو‘ اور ’کنارا‘ جیسی فیملی فلمیں بنائیں۔ ان فلموں میں ان کی سنجیدہ اداکاری نے ناظرین کو متحیر کر دیا۔ جتیندر کے فلمی کریئر پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ملٹی اسٹارَر فلموں کا اہم حصہ رہے ہیں۔ پردۂ سیمیں پر جتیندر کی جوڑی ریکھا کے ساتھ کافی پسند کی گئی۔ اس کے بعد ۸۰ء کے عشرے میں ان کی جوڑی اداکارہ سری دیوی اور جیہ پردا کے ساتھ خوب جمی۔ منفرد طرز کے رقص کی وجہ سے اس جوڑی کو ناظرین نے سر آنکھوں پر بٹھا یا۔
  ۱۹۸۲ء تا ۱۹۸۷ء جتیندر نے جنوبی ہند کے ہدایتکاروں ٹی راماراؤ، کے باپيّا اور کے راگھویندر راؤ وغیرہ کی متعدد فلموں میں کام کیا۔ ۹۰ء کے عشرے میں اداکاری میں یکسانیت سے بچنے اور خود کو ایک ہی طرح کے کردار سے بچانے کیلئے انہوں نے مختلف اقسام کے معاون کردار ادا کئے۔ ۲۰۰۰ء کے عشرے میں فلموں میں اچھے کردار نہ ملنے کے سبب انہوں نے فلموں میں کام کرنا کافی حد تک کم کر دیا۔ ان کے ۲؍ بچے ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔ بیٹے تشار کپور نے کئی فلموں میں اداکاری کی ہے جبکہ بیٹی ٹی وی اور فلموں کی مشہور فلمساز بن گئی ہیں۔ جتیندر نے ۴؍ عشروں پر مشتمل اپنے طویل فلمی کریئر میں زائد از ۲۵۰؍ فلموں میں اپنی بااثر اداکاری سے ناظرین کی تفریح کی۔ وہ ان دنوں اپنی بیٹی ایکتا کپور کو فلمسازی میں تعاون کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK