اترپردیش کے سابق وزیر اعظم اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم خان کو مبینہ دو پین کارڈ معاملے میں سزا سنائی گئی تھی، جسے اب الہ آباد ہائی کورٹ نے معطل کرتے ہوئے دونوں کی ضمانت منظور کرلی ہے۔
EPAPER
Updated: October 29, 2026, 3:02 PM IST | Allahabad
اترپردیش کے سابق وزیر اعظم اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم خان کو مبینہ دو پین کارڈ معاملے میں سزا سنائی گئی تھی، جسے اب الہ آباد ہائی کورٹ نے معطل کرتے ہوئے دونوں کی ضمانت منظور کرلی ہے۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے جمعرات کو اترپردیش کے سابق کابینی وزیر محمد اعظم خان اور ان کے بیٹے، سابق رکن اسمبلی عبداللہ اعظم خان کی مبینہ دو پین کارڈ معاملے میں سزا معطل کرتے ہوئے دونوں کو ضمانت دے دی۔ امکان ہے کہ دونوں جلد جیل سے باہر آجائیں گے۔ جسٹس سمیت گوپال کی سربراہی والی بنچ نے سزا معطل کرنے کی درخواستوں کو منظور کرتے ہوئے یہ حکم جاری کیا۔ اس سے قبل عدالت نے ۱۵؍ اکتوبر کو اعظم خان اور عبداللہ اعظم خان کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکلا ابھیشیک منو سنگھوی اور این آئی جعفری، نیز وکیل شاشوت آنند کے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ ریاست کی جانب سے سینئر وکیل انوپ ترویدی اور وکیل پارتھوش کمار مالویہ نے پیروی کی۔
یہ بھی پڑھئے: طوفان ارنب کا مہاراشٹر تک اثر، ودربھ میں موسلادھار بارش کا الرٹ
اعظم خان اور عبداللہ خان نے مبینہ دو پین کارڈ معاملے میں اپنی سزا اور مجرم قرار دیے جانے کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں فوجداری نظرثانی کی درخواستیں دائر کی تھیں۔ گزشتہ سال نومبر میں رام پور کی عدالت کے ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ شوبھت بنسل نے دونوں کو تعزیراتِ ہند کی دفعات ۴۶۷، ۴۶۸، ۴۲۰، ۴۷۱ اور ۱۲۰-بی کے تحت جعل سازی، دھوکہ دہی، جعلی دستاویزات کے استعمال اور مجرمانہ سازش کے الزامات میں قصوروار قرار دیا تھا۔ اس معاملے میں ۲۰۱۹ء میں بی جے پی رہنما آکاش سکسینہ، جو اب رکن اسمبلی ہیں، نے ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ ان کا الزام تھا کہ عبداللہ نے مختلف تاریخِ پیدائش والے دو پین کارڈ استعمال کیے اور ان کے ذریعے ناجائز فائدہ حاصل کیا۔
یہ بھی پڑھئے: مروڈ جنجیرہ کی راجپوری جیٹی کے اطراف بڑی مقدار میں ریت اور گاد جمع
استغاثہ کے مطابق عبداللہ نے ابتدا میں محکمہ انکم ٹیکس سے ایک پین کارڈ حاصل کیا تھا، جس میں ان کی تاریخِ پیدائش یکم جنوری ۱۹۹۳ء درج تھی۔ یہی تاریخ ان کے اسکول اور ہائی اسکول کے سرٹیفکیٹس میں بھی درج تھی۔ اس پین کارڈ کا استعمال بینک اکاؤنٹ چلانے اور انکم ٹیکس ریٹرن داخل کرنے کے لیے بھی کیا گیا تھا۔ تاہم الزام ہے کہ ۲۰۱۷ء کے اسمبلی انتخابات لڑنے کے لیے عبداللہ نے اپنی بینک پاس بک میں تبدیلی کی، پین کارڈ کی تفصیلات بھی تبدیل کیں اور نامزدگی کے کاغذات جمع کراتے وقت پاس بک کی مبینہ طور پر جعلی نقل پیش کی۔
یہ بھی پڑھئے: اورنگ آباد میں گئو ونش اسمگلنگ کے خلاف دیہی پولیس کی بڑی کارروائی
دوسرے پین کارڈ میں ان کی تاریخِ پیدائش ۳۰؍ ستمبر ۱۹۹۰ء درج تھی۔ استغاثہ کا الزام تھا کہ یہ تبدیلی اس لیے کی گئی تاکہ عبداللہ انتخابات لڑنے کے لیے مقررہ کم از کم عمر، یعنی ۲۵ سال، کی شرط پوری کرسکیں۔ استغاثہ نے دعویٰ کیا کہ اس مبینہ جعل سازی میں ان کے والد اعظم خان بھی شریک تھے۔ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ نامزدگی کے کاغذات میں درج بینک اکاؤنٹ کا دوسرے پین کارڈ سے کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی اسے اس پین کارڈ کے ذریعے چلایا جاتا تھا۔