Inquilab Logo Happiest Places to Work

کے آصف نے چند ہی فلمیں بنائیں لیکن وہ تاریخ ساز ہیں

Updated: March 09, 2026, 10:47 AM IST | Mumbai

کے آصف نے۱۴؍جون ۱۹۲۲ءکواترپردیش کےاٹاوہ میں ایک درمیانےطبقےکےمسلم خاندان میں آنکھیں کھولیں۔ ۴۰ءکی دہائی میں وہ اپنے ماموں جان نذیرکےپاس ممبئی آ گئے جہاں ان کی درزی کی دکان تھی۔

Best of luck to K. Asif. Photo: INN
بہترین کام کرنے والے کے آصف۔ تصویر: آئی این این

فلم ساز کے آصف جن کا پورا نام آصف کریم تھا، بالی ووڈ کی دنیا میں ایک معروف فلمی ہستی کے طور پر یاد کیا جاتاہےجنہوں نے۳؍دہائیوں پرمحیط اپنےفلمی کریئرمیں اپنی فلموں کے ذریعے فلم بینوں کے دلوں پر انمٹ نقوش چھوڑے۔ کے آصف کافلمی کرئیربظاہر۳؍، ۴؍فلموں تک ہی محدودہےلیکن ان کے اندر کام کرنے کا جو جذبہ تھا وہ اتنی شدت سے ابھرکر سامنے آتا تھا کہ فلم بینوں کے دلوں پر نقش ہو جاتا تھا۔ وہ اپنے کام کو بے نقص رکھنے میں اس قدر استغراق سے کام لیتے تھے کہ اکثر ان پر سست رفتاری کا الزام بھی لگتا رہا جس کی انہوں نے کبھی پروا نہیں کی اور جب بھی ان کی فلم پردہ سیمیں کی زینت بنی تو ایک عہد کو متاثر کر گئی۔ 
کے آصف نے۱۴؍جون ۱۹۲۲ءکواترپردیش کےاٹاوہ میں ایک درمیانےطبقےکےمسلم خاندان میں آنکھیں کھولیں۔ ۴۰ءکی دہائی میں وہ اپنے ماموں جان نذیرکےپاس ممبئی آ گئے جہاں ان کی درزی کی دکان تھی۔ ان کے ماموں فلموں میں ملبوسات سپلائی کیا کرتےتھے۔ ساتھ ہی انہوں نے چھوٹے بجٹ کی ایک دو فلمیں بھی بنائی تھیں۔ اس طرح کے آصف ماموں کا ہاتھ بٹانے لگے۔ انہیں اپنے ماموں کے ساتھ فلم اسٹوڈیو جانے کا موقع ملنے لگا۔ آہستہ آہستہ ان میں بھی فلموں سے دلچسپی بڑھتی گئی۔ 

یہ بھی پڑھئے: سلمان خان کی ممکنہ سپر ہیرو فلم، راج اور ڈی کے کے ساتھ بات چیت

کے آصف سليم اور انارکلی کی محبت کی کہانی سے کافی متاثر تھے۔ فلموں سے دلچسپی بڑھنے پر وہ اس کہانی کو پردہ سیمیں پر لانے کا خواب دیکھنےلگے۔ ۱۹۴۵ءمیں بطور ڈائریکٹرفلم پھول سے اپنے فلمی کریئر کا آغاز کیا۔ پرتھوی راج کپور، ثریا اور درگا کھوٹے جیسے بڑےستاروں والی یہ فلم باکس آفس پر سپر ہٹ ثابت ہوئی۔ 
اس فلم کی کامیابی کے بعد کے آصف نے اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی ہمت پیدا کی اور’مغل اعظم‘ بنانے کا فیصلہ کیا۔ ابتدا میں انہوں نے شہزادہ سلیم کےکردار کےلئےچندرموہن کو اور انارکلی کے کردار کے لئےاداکارہ ویناکے علاوہ اکبر کے کردار کے لیے سپرو کا انتخاب کیا۔ فلم’مغل اعظم‘ بنانے میں تقریبا ۱۰؍سال کا وقت لگ گیا۔ اس دوران سلیم انارکلی کی محبت کی کہانی پر بنی ایک اور فلم انارکلی پردہ سیمیں پر آکر سپر ہٹ بھی ہو گئی۔ باوجودیکہ ۱۹۶۰ءمیں جب مغل اعظم منظر عام پر آئی تو اس نے باکس آفس کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے۔ فلم کی موسیقی بےانتہا مقبول ہوئی۔ اس سے منسلک بھی ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ موسیقار نوشاد نےایک لاکھ روپے ایڈوانس کی پیشکش کے باوجود اپنی مصروفیت کی وجہ سے اس فلم کی موسیقی ترتیب دینے سے انکار کر دیا تھا۔ 
فلم مغل اعظم کی کامیابی کے بعدکےآصف نے راجندر کمار اور سائرہ بانو کے ساتھ’سستاخون مہنگا پانی‘ بنانی شروع کی لیکن کچھ دنوں کی شوٹنگ ہونےکے بعد انہوں نے اس فلم کو بند کر دیا اور گرودت اور نمی کے ساتھ لیلی مجنوں کی کہانی پر مبنی فلم ’محبت اور خدا‘کی عکس بندی شروع کردی۔ گرو دت کی ۱۹۶۴ءمیں بےوقت موت کے بعد گرودت کی جگہ اداکارسنجیو کمار کو کام کرنےکا موقع دیا لیکن ان کا یہ خواب پورا نہ ہوسکا اور۹؍مارچ۱۹۷۱ءکودل کا دورہ پڑنے سے وہ اس دنیاسے رخصت ہوگئے۔ کے آصف کی اہلیہ اختر کی کوشش سے یہ فلم ۱۹۸۶ءمیں کسی طرح نامکمل ہی ریلیز کر دی گئی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK