ہانڈی والی مسجد میںعلماء کی میٹنگ ۔ شرکاء نےکہا:ایک ہی دن ’یوم القدس‘ منانے سے مثبت پیغام عام ہوگا۔
مسلمان نماز اداکرتے ہوئے۔ تصویر:آئی این این
۱۳؍مارچ بروز جمعہ کو’ یومِ القدس ‘منانے پر اتفاق کیا گیا۔اس تعلق سے ہانڈی والی مسجد میںپیر کی شب میںتراویح کی نماز کے بعد علماء کی میٹنگ ہوئی جس میںاس کا اعلان کیا گیا اوریہ واضح کیا گیا کہ ایک ہی دن پورے ملک میں’یوم القدس‘ منانے سے مثبت پیغام عام ہوگا۔
رضا اکیڈمی کے سربراہ محمدسعید نوری نےکہاکہ’’ یوم القدس کے تعلق سے علماء کی آراء قابل ستائش رہیںاور ایک ہی دن ’یوم القدس‘ منانے سے مثبت پیغام عام ہوگا ۔یہ انتہائی اہم موقع ہے اورموجودہ حالات میں اس کی اہمیت اوربڑ ھ جاتی ہے ۔‘‘مولانا اعجاز احمد کشمیری نے کہا کہ ’’یومِ القدس دراصل ظلم و استکبار کے خلاف حریت پسند اقوام اور امت ِ مسلمہ کے متحدہ جذبات کے اظہارکی علامت ہے۔ یہ دن ہمیں اس عہد کی یاد دلاتا ہے کہ مسلمان مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور ان کے حقِ آزادی کیلئے آواز بلند کرتے رہیں گے۔‘‘مفتی محمد عباس ازہری مصباحی نے مسجد ِ اقصیٰ کی عظمت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’’یہی وہ مقدس مقام ہے جہاں سے رسولِ اکرمؐکو معراج کی سعادت نصیب ہوئی اور ابتدائی دور میں مسلمان اسی سمت کو قبلہ بنا کر نماز ادا کرتے تھے۔‘‘
مولانا ظفر الدین رضوی نے کہا کہ ’’یومِ القدس امت ِ مسلمہ کے اتحاد، بیداری اور ظلم کے خلاف مزاحمت کا پیغام دیتا ہے۔ اگر مسلمان اتحاد و اتفاق کو مضبوط کریں اور اپنے ایمان و اجتماعی قوت پر اعتماد رکھیں تو عالمِ اسلام کی سربلندی اور مظلوم اقوام کی مدد یقینی ہے۔‘‘اخیرمیں آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء، رضا اکیڈمی اور جمعیۃ علمائے اہلِ سنت ممبئی کی جانب سے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ بروز جمعہ ۱۳؍مارچ کو ’یومِ القدس‘ عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جائے گا۔ تمام مسلمانوں، علمائے کرام، ائمہ مساجد اور دینی و سماجی تنظیموں سے اپیل کی گئی کہ وہ یومِ قدس کے موقع پر اپنے خطباتِ جمعہ، اجتماعات اور مجالس میں فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت اور مسجد ِ اقصیٰ کی آزادی کیلئے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں۔
میٹنگ میں مولانا عباس رضوی، مفتی افتخار احمد علیمی، مولانا امام الدین اشاعتی ، مولانا رضوان المصطفیٰ علیمی، مولانا شکیل قادری، حافظ امام الدین نعیمی، سلیمان اشرف نعیمی، محمد حامد رضا قادری، محمد امان رضا ، قاری محمد رضوان خان اعظمی، محمد قمر الحسن قادری علیمی، غلام مصطفیٰ قادری،مولانا محمد حاتم طائی رضوی وغیرہ شریک تھے۔