Inquilab Logo Happiest Places to Work

کے آصف جنہوں نے ’مغلِ اعظم‘ بنا کر فلم بینوں کے دلوں پر اَنمِٹ نقوش چھوڑے

Updated: March 09, 2020, 10:49 AM IST | Agency | Mumbai

فلمساز و ہدایتکار کے آصف کو جن کا پورا نام آصف کریم تھا، بالی ووڈ کی دنیا میں ایک عظیم فلمی ہستی کے طور پر یاد کیا جاتا هے، جنهوں نے ۳؍ عشروں پر محیط اپنے فلمی کریئر میں اپنی فلموں کے ذریعے فلم بینوں کے دلوں پر انمٹ نقوش چھوڑے۔

K Asif Director - Pic : INN
کے آصف ہدایتکار ۔ تصویر : آئی این این

 فلمساز و ہدایتکار کے آصف کو جن کا پورا نام آصف کریم تھا، بالی ووڈ کی دنیا میں ایک عظیم فلمی ہستی کے طور پر یاد کیا جاتا هے، جنهوں نے ۳؍ عشروں پر محیط اپنے فلمی کریئر میں اپنی فلموں کے ذریعے فلم بینوں کے دلوں پر انمٹ نقوش چھوڑے۔ کے آصف کا اپنا فلمی کریئر بظاہر ۴۔۳؍ فلموں تک ہی محدود رہا لیکن ان میں کام کرنے کا جو جذبہ تھا وہ اتنی شدت سے ابھرکر سامنے آتا تھا کہ فلم بینوں کے دلوں پر نقش چھوڑ جاتا تھا۔ وہ اپنے کام کو بے نقص رکھنے میں اس قدر استغراق سے کام لیتے تھے کہ اکثر ان پر سست رفتاری کا الزام بھی لگ جاتا تھا جس کی انہوں نے کبھی پروا نہیں کی اور جب بھی ان کی فلم پردۂ سیمیں کی زینت بنی تو ایک عہد کو متاثر کر گئی۔
 کے آصف نے ۱۴؍ جون ۱۹۲۲ء کو اتر پردیش کے اٹاوہ میں ایک متوسط طبقے کے مسلم خاندان میں آنکھیں کھولیں۔ ۴۰ء کے عشرے میں وہ اپنے ماموں نذیر احمد خان کے پاس ممبئی آ گئے جہاں ان کی درزی کی دُکان تھی۔ ان کے ماموں فلم انڈسٹری میں کپڑے سپلائی کیا کرتے تھے۔ ساتھ ہی انہوں نے چھوٹے بجٹ کی ۲؍ فلمیں بھی بنائی تھیں۔ اس طرح کے آصف اپنے ماموں کا ہاتھ بٹانے لگے۔ انہیں اپنے ماموں کے ساتھ فلم اسٹوڈیو جانے کا موقع ملنے لگا ۔ آہستہ آہستہ ان میں فلموں سے دلچسپی بڑھتی گئی۔
 کے آصف سليم اور اناركلي کی محبت کی کہانی سے کافی متاثر تھے۔ فلموں سے دلچسپی بڑھنے پر وہ اس کہانی کو پردۂ سیمیں پر لانے کا خواب دیکھنے لگے تھے۔ ۱۹۴۵ء میں ہدایتکار کی حیثیت سے انہوں نے فلم ’پھول‘ کے ذریعے اپنے فلمی کریئر کا آغاز کیا۔ پرتھوی راج کپور، ثریا اور درگا کھوٹے جیسے بڑے ستاروں والی یہ فلم باکس آفس پر سپر ہٹ ثابت ہوئی۔
  اس فلم کی کامیابی کے بعد کے آصف نے اپنے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کی ہمت پیدا کی اور ’مغلِ اعظم‘ بنانے کا فیصلہ کیا۔ کرداروں کے انتخاب کا مرحلہ آسان نہ تھا۔کے آصف کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک مرحلے پر شہزادہ سلیم کے کردار کیلئے انہوں نے اداکار سپرو کا انتخاب کیا اور اکبر کے کردار کیلئے چندر موہن کے سامنے تجویز پیش کی لیکن چندر موہن نے ان سےصاف لفظوں میں یہ کہہ دياکہ وہ اس فلم میں اسی شرط پر کام کریں گے جب وہ اس فلم کی ہدایتکاری کی ذمہ داری خود نہ اٹھائیں۔ اس پر کے آصف نے انہیں یہ جواب دیا تھا کہ وہ اس دن کا انتظار کریں گے جب ان (چندر موہن) کو ان (کے آصف) کی صورت پسند آنے لگے۔ ا كبر کے کردار کیلئے کے آصف نے چندر موہن کا انتخاب اس لئے کیاتھا کیونکہ ان کی آنکھ بھی اداکار سپرو کی طرح نیلی تھی۔
 اداکار چندر موہن کی ۱۹۴۶ء موت ہو گئی۔ اس کے بعد کے آصف نے سپرو کے سامنے اکبر کا کردار ادا کرنے کی تجویز پیش کی اور انارکلی کے کردار کیلئے نرگس اور سلیم کے کردار کیلئے دلیپ کمار کو منتخب کیا لیکن سپرو نے جو نرگس کے ساتھ فلموں میں بطور اداکار کام کر چکے تھے، اکبر کا کردار نبھانے سے انکار کر دیا۔ بعد میں اداکارہ نرگس نے بھی فلم میں کام کرنے سے انکار کر دیا، تب مدھوبالا کے سامنے انار کلی کا کردار ادا کرنے کی تجویز پیش کی گئی اور اکبر کے کردار کیلئے پرتھوی راج کپور کو منتخب کیا گیا۔ اس طرح ۱۹۶۱ءمیں ایک بار پھر ’مغل اعظم‘ کی فلمسازی کا کام شروع ہوا۔
  اسی دوران كےآصف نے بحیثیت فلمساز دلیپ کمار نرگس اور بلراج ساہنی کے ساتھ فلم ’هلچل‘ شروع کی جو کامیاب ثابت ہوئی ۔اس فلم سے منسلک ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ’اپٹا‘ سے وابستگی اور اپنے انقلابی اور کمیونسٹ خیالات کی وجہ بلراج ساہنی کو جیل بھی جانا پڑا۔ خصوصی انتظامات کے تحت وہ فلم کی شوٹنگ کیا کرتے تھے اور شوٹنگ ختم ہونے کے بعد واپس جیل چلے جاتے تھے۔ ’ مغل اعظم‘ بنانے میں تقریباً ۱۰؍ سال لگ گئے۔  اس دوران سلیم انارکلی کی محبت کی کہانی پر بنی ایک اور فلم ’اناركلي‘ پردۂ سیمیں پر آکر سپر ہٹ بھی ہو گئی۔ باوجوداس کے ۱۹۶۰ء میں جب ’مغل اعظم‘ منظر عام پر آئی تو اس نے باکس آفس کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے۔ فلم کی موسیقی بے انتہا مقبول ہوئی۔ اس سے منسلک بھی ایک دلچسپ واقعہ یہ ہے کہ موسیقار نوشاد نے ایک لاکھ روپے ایڈوانس کی پیشکش کے باوجود اپنی مصروفیت کی وجہ سے اس فلم کی موسیقی ترتیب دینے سے انکار کر دیا تھا۔ كےآصف ہر قیمت پر فلم میں نوشاد سے کام لینا چاہتے تھے۔ انہوں نے جب نوشاد کو کام کرنے کیلئے اور روپیوں کا لالچ دیا تو وہ پلٹ کر بولے کہ’’کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ پیسے سے ہر چیز خریدی جا سکتی ہے اور آپ ہر چیز خرید لیں گے۔ آپ اپنے پیسے واپس لیں میں یہ فلم نہیں كروں گا۔‘‘ اس پر آصف صاحب نے چٹکی بجاتے ہوئے کہا ’’دیکھتا ہوں کس طرح نہیں کریں گے ۔ اتنے پیسے دوں گا کہ آج تک کسی نے نہیں دیئے ہوں گے۔‘‘ اس کے بعد آصف نے جب اور پیسہ بڑھانے کا اشارہ دیا تو نوشاد نے غصے میں آکر نوٹوں کا بنڈل اس طرح پھینکا کہ پورے کمرے میں نوٹ ہی نوٹ بکھر گئے۔ نوشاد کی بیوی اور نوکر نے سارے نوٹ اٹھالئے تو نوشاد نے کہا ’’اچھا آصف صاحب! آپ اپنے پیسے اپنے پاس رکھ لیجئے ہم فلم میں ساتھ کام کریں گے۔‘‘
 ’مغل اعظم‘ کی کامیابی کے بعد كےآصف نے راجندر کمار اور سائرہ بانو کے ساتھ’ سستا خون مہنگا پانی ‘ بنانی شروع کی تھی لیکن کچھ دنوں کی شوٹنگ کے بعد انہوں نے اس فلم کو بند کر دیا اور گرودت اور نمي کے ساتھ لیلی مجنوں کی کہانی پر مبنی فلم ’محبت اور خدا‘ کی عکس بندی شروع کی۔
 گرو دت کی ۱۹۶۴ء میں موت کے بعد ان کی جگہ اداکار سنجیو کمار کو کام کرنے کا موقع دیا لیکن ان کا یہ خواب پورا نہ ہو سکا اور ۹؍ مارچ ۱۹۷۱ء کو دل کا دورہ پڑنے سے وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ کے آصف کی بیوی اختر آصف کی کوشش سے یہ فلم ۱۹۸۶ء میں کسی طرح آدھی ادھوری ہی ریلیز کر دی گئی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK