Inquilab Logo Happiest Places to Work

قادر خان مکالمہ نویسی میں بھی مہارت رکھتے تھے

Updated: December 20, 2019, 9:43 PM IST | Anees Amrohvi | New Delhi

انہوں نے جہاں ۳۰۰؍ سے زائد فلموں میں اداکاری کی اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا وہیں تقریباً ۲۰۰؍ فلموں کے مکالمے بھی لکھے۔ بطور مکالمہ نویس اِن کی ۵۰؍ سے زائدفلمیں کامیاب ہیں جن میں فلم ’روٹی، گنگا جمنا سرسوتی، شرابی، قلی، دیش پریمی، لاوارث، سہاگ، مقدر کا سکندر، پرورش،امر اکبر انتھونی، میری آواز سنو، ہمت والا،قانون اپنا اپنا، خون بھری مانگ، کرما اورسرفروش کے نام قابل ذکر ہیں۔

قادر خان۔ تصویر: مڈڈے
قادر خان۔ تصویر: مڈڈے

اکتیس دسمبر ۲۰۱۸ء کی شام فلمی دنیا کے مشہور اور مقبول اداکار، مکالمہ نگار و کہانی کار قادر خان کا ۸۱؍برس کی عمر میں کناڈا کے ایک اسپتال میں انتقال ہو گیا۔ وہ کافی عرصے سے بیمار تھے اور کناڈا میں زیر علاج تھے۔ اُن کی تینوں بیٹے کناڈا ہی میں رہتے ہیں۔ قادر خان کی تدفین یکم جنوری ۲۰۱۹ء کو کناڈا کے ایک قبرستان میں عمل میں آئی۔
 قادر خان فلمی دُنیا کے ایک ایسے مختلف الجہات قسم کے فنکار تھے، جنہوں نے فلموں میں کہانی کار، مکالمہ نگار، ولن، معاون اداکار اور مزاحیہ اداکار کے طور پر اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور فلم شائقین سے اپنی صلاحیتوں کی داد بھی وصول کی ہے۔قادر خان ۲۲؍اکتوبر ۱۹۳۷ء کو افغانستان کے مشہورِ زمانہ شہر کابل میں پیدا ہوئے تھے۔ قادر خان کے والد کا نام عبدالرحمان تھا۔ والدہ کا نام اقبال بیگم تھا جن کا تعلق برٹش انڈیا کے زمانے کے پُشِن قصبے سے تھا۔ قادر خان کا تعلق پشتون خاندان کے ککر قبیلے سے تھا۔ قادر خان کے بچپن میں ہی، جب اُن کی عمر لگ بھگ آٹھ برس کی تھی، اُن کے والدین میں علاحدگی ہو گئی تھی۔ اس کے بعد اُن کے نانا نے اُن کی والدہ کا دوسرا نکاح کرا دیا تھا۔ قادر خان کے تین بھائی تھے، شمس الرحمان، فضل الرحمان اور حبیب الرحمان۔ قادر خان کی ابتدائی تعلیم ممبئی کے مقامی میونسپل اسکول میں ہوئی۔ اس کے بعدانہوں نے اسماعیل یوسف کالج سے انٹر اورممبئی یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ اس کے بعد انسٹی ٹیوشن آف سول انجینئرس سے ماسٹر ڈپلوما حاصل کیا۔ گریجویشن کے بعد ۱۹۷۰ء سے ۱۹۷۵ء کے درمیان اُن کی تقرری بمبئی کے صابو صدیق کالج آف انجینئرنگ میں بطور لیکچرار کے ہوئی۔ قادر خان نے عربی زبان سکھانے کیلئے ایک ادارے کے قیام کا اِرادہ بھی کیا تھا۔
 ملازمت کے دوران قادر خان اُسی کالج کے ڈراموں میں حصہ لینے لگے جہاں وہ پڑھاتے تھے۔ ایک بار کالج کے سالانہ پروگرام میں شہنشاہِ جذبات دلیپ کمار بھی موجود تھے۔ دلیپ کمار کی موجودگی میں قادر خان کو اسٹیج پر ایک ڈرامے میں پرفارمنس کرنے کا موقع ملا۔ یہ ایک ایسا لمحہ تھاجس نے قادر خان کی زندگی کا رُخ ہی موڑ دیا۔ اس ڈرامے میں قادر خان کی اداکارانہ صلاحیتوں کو دلیپ کمار نے پسند کیا اور اپنی زیر تکمیل دو فلموں ’سگینہ ماہتو‘ اور ’بیراگ‘ میں اداکاری کرنے کی پیشکش بھی کر دی۔ ’سگینہ ماہتو‘ ۱۹۷۴ء میں نمائش کیلئے پیش کی گئی۔ اس کے ہدایت کار تپن سنہا تھے۔ اس فلم میں ایک چھوٹا سا کردار کرنے کے بعد قادر خان کو کئی فلموں میں چھوٹے چھوٹے کردار مل گئے۔اس کے بعد وہ اپنی پہچان بنانے کیلئے جدوجہد کرنے لگے۔
  فلم ’بے نام، عمر قید، اناڑی‘ اور’بیراگ‘ جیسی فلموں میں انہوں نے کام کیا، مگر وہ اپنی شناخت قائم نہ کر سکے۔ اِن فلموں سے اُن کے کریئر کو بھی کوئی خاطر خواہ فائدہ حاصل نہ ہو سکا۔ فلم ’سگینہ ‘کے تین سال بعد ۱۹۷۷ء میں آئی فلم ’خون پسینہ‘ اور ’پرورش‘ میں اُن کے کام کو بہت سراہا گیا اور کسی حد تک قادر خان کی شناخت قائم ہو گئی۔اِن دو فلموں کی کامیابی کے بعدانہیں کئی اچھی فلمیں ملیں۔ ۱۹۷۸ء میں امیتابھ بچن کے ساتھ فلم’مقدر کا سکندر‘ میں قادر خان نے ایک درویش بابا کا کردار ادا کرکے شہرت حاصل کی۔ اس کے بعد ۱۹۷۹ء میں فلم ’مسٹر نٹورلال‘ اور ’سہاگ‘ میں بھی امیتابھ بچن کے ساتھ کردار ادا کرکے فلم کی کامیابی کا حصہ بنے اور پھر قادر خان لگاتار کامیابیاں حاصل کرتے چلے گئے۔
 ۱۹۸۰ء میں فلم ’دو اور دو پانچ، لوٹ مار، جیوتی بنے جوالا اور قربانی‘ میں قادر خان نے یادگار کردار ادا کرکے شہرت حاصل کی۔ ۱۹۸۱ء میں ’لاوارث، کالیا، شمع اورنصیب‘ جیسی کامیاب فلموں میں بھی قادر خان نے اپنی پہچان بنائے رکھی۔ ۱۹۸۱ء میں قادر خان نے ایک فلمساز کی حیثیت سے فلم ’شمع‘ بنائی تھی، جو زیادہ کامیاب نہ ہو سکی۔
 من موہن دیسائی کی فلم ’قلی‘ ۱۹۸۳ء میں نمائش کیلئے پیش کی گئی۔ اس میں قادر خان ایک بار پھر امیتابھ بچن کے ساتھ تھے۔ یہ فلم امیتابھ بچن کے چوٹ لگنے کی وجہ سے ریلیز ہونے سے پہلے ہی شہرت حاصل کر چکی تھی لہٰذا قادر خان کو بھی اس کی کامیابی کا فائدہ ہوا۔ ۸۶-۱۹۸۵ء میں قادر خان نے ’پاتال بھیروی، میرا جواب، انصاف کی آواز‘ اور ۱۹۸۸ء میں ’بیوی ہو تو ایسی‘، ۱۹۸۹ء میں’جیسی کرنی ویسی بھرنی‘ جیسی فلموں میں اداکاری کی۔۱۹۹۱ء میں ان کی۸؍ فلمیں ریلیز ہوئیں، جن میں ’ہم، خون کا قرض، قرض چکانا ہے، دو متوالے، ناچنے والے گانے والے، سورگ یہاں نرک یہاں، اندرجیت اورساجن‘ شامل ہیں۔ اِن میں سے کئی فلموں کی کامیابی سے قادر خان کو کافی شہرت حاصل ہوئی اور اب وہ فلموں کا ایک اہم حصہ سمجھے جانے لگے تھے۔ ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ قادر خان نے کبھی ایک طرح کے ٹائپِڈ رول نہیں کئے، بلکہ ایک ہی وقت میں منفی اور مثبت، دونوں طرح کے کردار ادا کئے۔
 اب قادر خان کی مقبولیت میں کافی اضافہ ہو چکا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ۱۹۹۲ء میں ریلیز ہوئی ۱۷؍فلموں میں قادر خان موجود تھے۔ اگلے ہی برس ۱۹۹۳ء میں انہوںنے ۲۴؍فلموں میں کام کیا، جن میں ’انگار، آنکھیں، ظالم، زخمی اوردھنوان‘ جیسی کامیاب فلمیں بھی تھیں۔۱۹۹۴ء میں ۱۸؍فلموں میں قادر خان نے کردار ادا کئے جن میں سے فلم’خوددار، چھوٹی بہو، راجہ بابو، میں کھلاڑی تو اناڑی، اولاد اورگھر کی عزت‘ میں اُن کے کردار پسند کئے گئے۔۹۶-۱۹۹۵ء میں ۲۲؍فلموں میں قادر خان نے کام کیا جن میں سے کئی فلموں میں ان کے ادا کئے ہوئے کردار کافی پسند کئے گئے۔ اس درمیان قادر خان فلموں کے مکالمے بھی لکھ رہے تھے، لہٰذا اُن کی مصروفیت بے مثال تھی۔ اداکار گووندہ کے ساتھ اُن کی مزاحیہ جوڑی اچھی بن گئی تھی، لہٰذا انہوں نے گووندہ کے ساتھ کئی کردار بڑی خوبی سے ادا کئے۔ان میں اُن کے مکالموں میں طنز اور ظرافت کے پہلو زیادہ نمایاں ہونے لگے تھے۔ اداکار شکتی کپور کے ساتھ بھی مزاحیہ اداکار کے طور پر قادر خان کی جوڑی کافی مقبول ہوئی ۔ان دونوں نے تقریباً ۱۰۰؍ فلموں میں ایک ساتھ کام کیا۔
 ۱۹۹۷ء میں ۱۴؍ فلموں میں اور ۱۹۹۸ء میں ۱۰؍ فلموں میں قادر خان نے کام کیا جن میں ’’صنم، جڑواں، بھوت بنگلہ، بنارسی بابو، جدائی، ہیرو نمبر ون، ایک پھول تین کانٹے، مسٹر اینڈ مسز کھلاڑی، دولہے راجہ، بڑے میاں چھوٹے میاں اورقدرت‘ جیسی فلموں میں قادر خان نے کامیابی کے ساتھ اپنے کردار ادا کئے۔ اس طرح اُن کی مقبولیت برابر بنی رہی اور وہ ہندوستانی سنیما کی اسکرین پر چھائے رہے۔ اُن کے ذریعہ ادا کئے گئے مزاحیہ کرداروں کو بھی ایک مخصوص فلم بین طبقے نے بے حد پسند کیا اور اُن کے برجستہ اور ذومعنی مکالموں پر سنیما ہال میں تالیاں بھی خوب بجتی رہیں۔ نوّے کی دہائی میں قادر خان نے ایک جیسے کردار سے اُکتاکر اور یکسانیت سے ہٹ کر کئی فلموں میں کریکٹر ایکٹر کے بطور کئی کردار ادا کئے۔ ۱۹۹۲ء میں ریلیز ہوئی فلم ’انگار‘ اس کی بہترین مثال ہے۔۲۰۰۰ء میں انہوں نے ۷؍ فلموں میں کام کیا۔ ان کی ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ یہ نئی نسل کے ہیرو ہیروئن کے ساتھ اچھی ٹیوننگ بنانے میں کامیاب رہے۔
 ایک قلمکار کے طور پر قادر خان کی فلمی زندگی کا آغاز رمیش بہل کی فلم ’جوانی دیوانی‘ کے مکالمہ نگار کے طور پر ہوئی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے من موہن دیسائی کی فلم ’روٹی‘ کے مکالمے تحریر کئے تھے جو بے حد پسند کئے گئے تھے۔ ۱۹۷۴ء میں ریلیز ہوئی فلم ’روٹی‘ کے مکالمے لکھنے کیلئے من موہن دیسائی نے ایک لاکھ اِکیس ہزار روپے بطور معاوضہ قادر خان کو دیا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق قادر خان نے دو سو سے زیادہ فلموں کے مکالمے لکھے ہیں۔ 
 قادر خان پرکاش مہرہ اور من موہن دیسائی کے پسندیدہ مکالمہ نگار رہے ہیں۔ اُن کی فلموں’گنگا جمنا سرسوتی، شرابی، قلی، دیش پریمی، لاوارث، سہاگ، مقدر کا سکندر، پرورش اورامر اکبر انتھونی‘ کی کامیابی میں قادر خان کے لکھے ہوئے مکالموں کا بڑا دخل ہے۔ امیتابھ بچن کے ہیرو والی اور قادر خان کے لکھے مکالموں والی دوسری بے حد کامیاب فلمیں،’مسٹر نٹور لال، خون پسینہ، دو اور دو پانچ، ستے پہ ستّا، انقلاب، گرفتار، ہم اوراگنی پتھ‘ وغیرہ نے کافی شہرت حاصل کی تھی۔ ان کے لکھے ہوئے مکالموں والی دیگر کامیاب فلموںمیں ’ہمت والا، قلی نمبر ون، میں کھلاڑی توُ اَناڑی، قانون اپنا اپنا، خون بھری مانگ، کرما، سلطنت، سرفروش، جسٹس چودھری اوردھرم ویر‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔اس کے بعد قادر خان ہدایتکار ڈیوڈ دھون کے پسندیدہ اداکار و مکالمہ نویس بن گئے۔ اِن کی جوڑی امیتابھ ، جتیندر، فیروز خان اور گووندہ کے ساتھ خوب جمتی تھی۔
 قادر خان کو ۱۹۸۲ء میں پہلی بار فلم’میری آواز سنو‘ کیلئے بہترین مکالمہ نگار کے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ۱۹۹۱ء میں ریلیز ہوئی فلم ’باپ نمبری بیٹا دس نمبری‘ میں بہترین مزاحیہ اداکار کا فلم فیئر ایوارڈ بھی قادر خان کو ملا۔۱۹۹۳ء میں فلم ’انگار‘ میں بہترین مکالمہ نگار اور ۲۰۰۴ء میں فلم’مجھ سے شادی کروگی‘ کیلئے بہترین معاون اداکار کے فلم فیئر ایوارڈ بھی انہیں ملے۔ تقریباً ۹؍فلموں میں بہترین مزاحیہ اداکارکے طور پر فلم فیئر ایوارڈ کیلئے بھی قادر خان کو نامزد کیا گیا۔
 سنیما کے بڑے پردے کے ساتھ ساتھ قادر خان ٹیلی ویژن کے چھوٹے پردے پر بھی اپنی فنکارانہ صلاحیت کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔ ٹی وی پر اسٹار پلس چینل کیلئے ایک کامیڈی سیریل ’ہنسنا مت‘ میں بھی اداکاری کر چکے ہیں۔ سہارا وَن چینل کیلئے ایک اور کامیڈی سیریل ’ہائے پڑوسی کون ہے دوشی‘ بھی بنا چکے ہیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مشہور زمانہ فلم ’شالیمار‘ میں ہالی ووڈ کے مقبول اداکار ریکس ہیریسن کیلئے قادر خان کی آواز میں ہی مکالمے ڈب کیے گئے تھے۔
 قادر خان کے تین بیٹے، سرفراز خان، شاہ نواز خان اور عبدالقدوس خان کناڈا میں رہتے ہیں۔ خود قادر خان کے پاس بھی کناڈا کی شہریت تھی۔ فلم اداکارہ کا خاندانی تعلق قادر خان سے ہے۔ ان کا بیٹا سرفراز خان بھی کئی فلموں میں اداکاری کر چکا ہے۔ ۲۰۱۲ء کے بعد سے وہ رفتہ رفتہ فلموں سے کنارہ کشی اختیار کرنے لگے تھے۔ کل ملاکر قادر خان نے تین سو سے زائد فلموں میں اداکاری کی۔قادر خان مذہبی قسم کے صلح جوُ اِنسان تھے اور وہ حج بیت اللہ کی سعادت بھی حاصل کر چکے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK