Inquilab Logo Happiest Places to Work

بارسلونا: ’ساگرادا فیمیلیا‘ کی تعمیر ۱۴۴ سال بعد مکمل؛ پوپ لیو چہاردہم نے افتتاحی تقریب میں شرکت کی

Updated: June 12, 2026, 10:07 PM IST | Madrid

بارسلونا میں ’ساگرادا فیمیلیا‘ کا تعمیری منصوبہ ۱۴۴ سال کے طویل عرصے کے بعد باضابطہ طور پر مکمل ہوگیا ہے۔ اس باسیلیکا کی تعمیر نسلوں پر محیط رہی ہے، اسے کئی جنگوں میں متاثر ہونے سے بچایا گیا اور اپنے خالق کی وفات کے بعد تقریباً ایک صدی تک اس پر کام جاری رہا۔ یہ ۵ء۱۷۲ میٹر (۵۶۶ فٹ) کی بلندی کے ساتھ دنیا کا بلند ترین گرجا گھر بن گیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

انسانی تاریخ کے سب سے بڑے اور پرعزم تعمیراتی منصوبوں میں شامل، بارسلونا کے گرجا گھر کی تعمیر بالآخر مکمل ہوگئی ہے۔ معروف ہسپانوی ماہرِ تعمیرات انتونی گاؤدی (Antoni Gaudí) کا ڈیزائن کردہ ’ساگرادا فیمیلیا‘ (Sagrada Familia) باسیلیکا کا تعمیری منصوبہ ۱۴۴ سال کے طویل عرصے کے بعد باضابطہ طور پر مکمل ہوگیا ہے۔ یہ منصوبہ اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ اس کی تعمیر نسلوں پر محیط رہی ہے، اسے کئی جنگوں میں متاثر ہونے سے بچایا گیا اور اپنے خالق کی وفات کے بعد تقریباً ایک صدی تک اس پر کام جاری رہا۔

اس عمارت کے آخری حصے کے طور پر، تقریباً ۱۰۰ ٹن وزنی صلیب کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نام سے منسوب مینار (Tower of Jesus Christ) کے اوپر نصب کیا گیا۔ اس طرح، ساگرادا فیمیلیا ۵ء۱۷۲ میٹر (۵۶۶ فٹ) کی بلندی کے ساتھ دنیا کا بلند ترین گرجا گھر بن گیا ہے۔ جرمنی میں تیار کردہ اس صلیب کو حصوں کی شکل میں اسپین لایا گیا اور پھر جائے وقوع پر ہی جوڑا گیا۔ یہ صلیب تقریباً پانچ منزلہ عمارت جتنی اونچی ہے اور اس کے ارد گرد ۱۷ دیگر مینار موجود ہیں جو بارہ حواریوں، چار مبشرین اور حضرت مریم علیہا السلام سے منسوب ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل دنیا کا سب سے زیادہ بائیکاٹ کا شکار ملک بن گیا: اسرائیلی اخبارکی رپورٹ

ساگرادا فیمیلیا کی افتتاحی تقریب ۱۰ جون کو منعقد ہوئی جس میں پوپ لیو چہارم نے شرکت کی۔ انہوں نے تقریبِ عبادت کی صدارت کی اور مکمل ہونے والے مینار کو پوپ کی طرف سے خصوصی دعائے برکت (papal blessing) پیش کی۔ یہ تقریب گاؤدی کی وفات کے سو سال مکمل ہونے پر منعقد ہوئی، جس نے اس تقریب کو تعمیراتی اور تاریخی سنگِ میل بنا دیا۔ تاہم، یہ تقریب بارسلونا میں ضرورت سے زیادہ سیاحت، بڑھتے ہوئے کرایوں اور شہر میں سستے گھروں کی کمی کے خلاف ہونے والے عوامی احتجاج کے سائے میں منعقد ہوئی۔

گاؤدی نے اس باسیلیکا کا تصور ’پتھر کے جنگل‘ کے طور پر کیا تھا، جس میں درختوں کے تنے کی مانند شاخوں والے ستون اور چھت پر دلکش محرابیں بنائی گئی ہیں۔ اس کے اندرونی حصے میں چمکدار سیرامکس، رنگین شیشے، بائبل کے مجسمے اور پچی کاری (موزیک) سے ڈھکے مینار بنائے گئے ہیں جو عقیدے، ہندسیات اور فطرت کے منفرد امتزاج کی عکاسی کرتے ہیں۔ گاؤدی خود اپنی زندگی کے آخری سالوں میں تعمیراتی جگہ پر منتقل ہوگئے تھے اور انہوں نے خود کو مکمل طور پر اس پروجیکٹ کیلئے وقف کر دیا تھا۔ وہ اس بات سے واقف تھے کہ وہ باسیلیکا کو کبھی مکمل ہوتا نہیں دیکھ پائیں گے۔ انہوں نے اپنا مشہور جملہ کہا تھا: ”میرے کلائنٹ کو کوئی جلدی نہیں ہے۔“ ان کا اشارہ خدا کی طرف تھا۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ، آسٹریلیا اور کنیڈا کا دو ریاستی حل کیلئے مشترکہ فنڈ قائم کرنے کا اعلان

گاؤدی جون ۱۹۲۶ء میں چرچ کی طرف پیدل جاتے ہوئے ایک ٹرام کی زد میں آ کر جاں بحق ہوگئے تھے۔ فنڈز کی کمی، سیاسی ہلچل اور ہسپانوی خانہ جنگی (Spanish Civil War) کی وجہ سے باسیلیکا کی تعمیر بار بار رکی، جس کے دوران ان کے بہت سے اصل منصوبے اور ماڈلز تباہ ہوگئے تھے۔

میکسیکن ماہرِ تعمیرات، موریشیو کورتیس (Mauricio Cortés)، جو اس وقت اس منصوبے کی نگرانی کر رہے ہیں، نے سی این این (CNN) کو بتایا کہ اندرونی سجاوٹ کا کچھ کام ابھی جاری ہے، لیکن بیرونی حصہ مکمل طور پر تیار ہے اور یہ گاؤدی کے اصل تصور کے عین مطابق ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK