Inquilab Logo Happiest Places to Work

ریلائنس کی ٹرمپ جونیئر سے منسلک ریفائنری میں سو ملین ڈالر کی سرمایہ کاری: رپورٹ

Updated: June 12, 2026, 10:05 PM IST | New Delhi

ایک رپورٹ کے مطابق امریکی ٹیرفکے دباؤ کے درمیان، ریلائنس نے ٹرمپ جونیئر سے منسلک ریفائنری اسٹارٹ اپ میں۱۰۰؍ ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی، یہ سرمایہ کاری اس وقت ہوئی جب ٹرمپ انتظامیہ عوامی طور پر امبانی کے کاروبار پر بھاری ٹیرف عائد کر رہی تھی۔

Photo: X
تصویر: ایکس

۹؍جون کو شائع ہونے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، مکیش امبانی کی ریلائنس انڈسٹریز نے ٹیکساس میں واقع ایک غیر معروف آئل ریفائنری اسٹارٹ اپ میں کم از کم ۱۰۰؍ ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جس نے خفیہ طور پر ڈونالڈ ٹرمپ جونیئر کو کمپنی میں حصہ دے رکھا تھا۔ یہ سرمایہ کاری اس وقت ہوئی جب ٹرمپ انتظامیہ عوامی طور پر امبانی کے کاروبار پر بھاری ٹیرف عائد کر رہی تھی۔یہ اسٹارٹ اپ، جس کا نام ’’امریکا فرسٹ ریفائننگ‘‘ ہے، خلیج میکسیکو کے ساحل پر براؤنزویل بندرگاہ پر تقریباً نصف صدی میں امریکہ کی پہلی بڑی نئی آئل ریفائنری تعمیر کرنا چاہتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آدتیہ برلا سن لائف انشورنس انمول اکشے نامی لائف انشورنس کی نئی پیشکش

 رپورٹ کے مطابق، امبانی کی سرمایہ کاری سے پہلے یہ منصوبہ عملی طور پر مردہ ہو چکا تھا، جو ایک دہائی سے فنڈز جمع کرنے میں ناکام رہا تھا۔ ٹرمپ جونیئر نے خفیہ طور پر اس اسٹارٹ اپ میں حصہ حاصل کیا، جس کے بعد کمپنی نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ ملاقاتوں میں اس تعلقات کو سیلنگ پوائنٹ کے طور پر استعمال کیا۔ بعد ازاں امبانی خاندان کے پاس اس وقت وہائٹ ہاؤس تک رسائی کی ہر وجہ تھی، کیونکہ روس یوکرین جنگ کے بعد ریلائنس نے رعایتی روسی خام تیل خرید کر اربوں ڈالر کمائے تھے۔ جبکہ ٹرمپ کی مایوسی کے بعد اگست۲۰۲۵ء میں انہوں نے ہندوستان پر محصولات دوگنا کر کے۵۰؍ فیصد کر دیے تاکہ ریلائنس جیسی کمپنیوں کو روسی تیل کی خریداری روکنے پر مجبور کیا جا سکے۔ تاہم، نومبر۲۰۲۵ء میں ٹرمپ جونیئر کے جام نگر کے دورے کے چند ماہ بعد، فروری۲۰۲۶ء تک امریکہ نے ہندوستان کے ساتھ تجارتی معاہدہ کر لیا جس سے ٹیرف میں کمی آئی۔اسی کے ساتھ  ریلائنس کو وینزویلا کا تیل خریدنے کے لیے امریکی لائسنس ملا، اور ایران تنازع کے بعد ہندوستان کو روسی خام تیل خریدنے کی پابندیوں میں استثنیٰ دیا گیا۔جبکہ صدر ٹرمپ نے خود مارچ میں سوشل میڈیا پر امبانی کی سرمایہ کاری کو ’’زبردست سرمایہ کاری‘‘ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ-ایران امن معاہدے کی امید پر بازار میں زبردست تیزی

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ جونیئر نے خود کو ’’محض ایک غیر فعال اقلیتی سرمایہ کار‘‘ قرار دیا ہے۔ تاہم، توانائی کے ماہرین کو اب بھی شک ہے کہ یہ ریفائنری کبھی تعمیر ہو پائے گی، کیونکہ وال اسٹریٹ نئی ریفائنری کی مالی اعانت کے لیے تیار نہیں ہے۔تحقیقات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ براؤنزویل ریفائنری منصوبہ آگے بڑھے گا یا نہیں، لیکن یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس منصوبے پر ہونے والی بات چیت ہندوستان کی روسی خام تیل خریداری پر بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کےدرمیان  چلی، جس سے ایسے حالات پیدا ہوئے جن سے ایک ہی گروہ کو فائدہ پہنچا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK