ایک رپورٹ کے مطابق زمین کا حرارتی عدم توازن ریکارڈ سطح پر پہنچ چکا ہے، زمین کے موسمی نظام میں گرمی جمع ہونے کی رفتار اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ مستقبل میں گرمی مزید بڑھے گی۔
EPAPER
Updated: June 12, 2026, 10:05 PM IST | Washington
ایک رپورٹ کے مطابق زمین کا حرارتی عدم توازن ریکارڈ سطح پر پہنچ چکا ہے، زمین کے موسمی نظام میں گرمی جمع ہونے کی رفتار اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ مستقبل میں گرمی مزید بڑھے گی۔
انسانی سرگرمیاں ۲۰۲۵ء میں عالمی درجہ حرارت کو صنعتی دور سے قبل کی سطح سےایک اعشاریہ ۳۷؍ درجہ تک لے آئی ہیں، جس سے اندیشہ ہے کہ اہم حدایک اعشاریہ ۵؍ درجہ گرمی تقریباً چار سالوں میں عبور ہو جائے گی۔ دریں اثنا، زمین کے موسمی نظام میں گرمی جمع ہونے کی رفتار اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ مستقبل میں گرمی مزید بڑھے گی۔اشاریہ جات برائے عالمی موسمیاتی تبدیلی (IGCC) رپورٹ کے مطابق، گرمی کوایک اعشاریہ ۵؍ تک محدود رکھنے کے لیے باقی ماندہ کاربن بجٹ صرف۱۳۰؍ ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ رہ گیا ہے، جو موجودہ اخراج کی شرح پر محض تین سالوں کے لیے کافی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل دنیا کا سب سے زیادہ بائیکاٹ کا شکار ملک بن گیا: اسرائیلی اخبارکی رپورٹ
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’مضبوط اور مسلسل شواہد بتاتے ہیں کہ پورا موسمیاتی نظام گرم ہو رہا ہے، جس سے تیز رفتار عالمی حرارت بڑھ رہی ہے۔‘‘ واضح رہے کہ یہ تحقیق۱۷؍ ممالک کے۵۶؍ اداروں سے تعلق رکھنے والے۷۰؍ سے زائد سائنسدانوں نے تیار کی۔ اس کے مطابق، ۲۰۲۴ءمیں عالمی گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ریکارڈ۵۶؍ اعشاریہ۸؍ ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ مساوی (CO2e) پر پہنچ گیا، جس کی بڑی وجہ فوسل فیول کا استعمال ہے۔ بعد ازاں رپورٹ کی اہم وارننگز میں سے ایک زمین کے توانائی کے عدم توازن (EEI) سے متعلق ہے، یعنی وہ شرح جس سے موسمی نظام میں اضافی گرمی جمع ہو رہی ہے۔ سائنسدانوں نے پایا کہ یہ اشارہ حالیہ دہائیوں میں دگنا سے بھی زیادہ ہو کر اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔
تاہم پروفیسر پائرس فوسٹر، جو رپورٹ کے مرکزی مصنف ہیں، نے کہا، ’’انسانی اثرات کے بغیر یہ صفر کے قریب ہونا چاہیے، لیکن یہ۱۹۷۰ء کی دہائی سے بڑھ رہا ہے اور اب ریکارڈ بلندی پر ہے، حالیہ دہائیوں میں یہ دگنا ہوگیا ہے۔‘‘ رپورٹ کےمطابق انسانی اثرات سے گرمی میں اضافہ ہر دہائی میں صفر اعشاریہ ۲۷؍کی ریکارڈ شرح سے ہو رہا ہے، اور گزشتہ دہائی کے دوران تقریباً ساری گرمی انسانی سرگرمیوں کے باعث تھی۔
یہ بھی پڑھئے: مشرق وسطیٰ تنازع عالمی ترقی کو کورونا کے بعد کی نچلی سطح پر لے آئےگا: ورلڈ بینک
گرین ہاؤس گیسوں کی ریکارڈ سطح:
۲۰۲۵ء میں کاربن ڈائی آکسائیڈ ۴۲۵؍اعشاریہ ۶؍حصے فی ملین، میتھین۱۹۳۶؍ اعشاریہ ۳,حصے فی ارب، اور نائٹرس آکسائیڈ۳۳۹؍ اعشاریہ ۴؍ حصے فی ارب پر پہنچ گئی۔· بڑھتی ہوئی گرمی کے واضح اثرات: عالمی سطح سمندر ۲۰۲۵ء میں۱۹۰۱ء کی سطح سے۲۳؍ سینٹی میٹر بلند درجکیا گیا اور یہ ہر سال ایک اعشاریہ ۸؍ ملی میٹر بڑھ رہا ہے۔ تاہم صرف ۲۰۲۵ء میں دنیا نے۶۵؍ دن سمندری گرمی کی لہریں (میرین ہیٹ ویوز) دیکھیں، جبکہ۱۹۹۱ء کے بعد سے ایسے دنوں کی تعداد تین گنا سے زیادہ ہو چکی ہے۔رپورٹ کے مطابق، اگر اخراج موجودہ سطح پر جاری رہا تو دنیا۲۰۳۰ء کے لگ بھگ ایک اعشاریہ ۵؍درجہ گرمی کی حد عبور کر لے گی، جس کے لیے ڈیکاربنائزیشن کی کوششوں میں نمایاں تیزی لانا انتہائی ضروری ہے۔ سائنسدانوں نے اس دہائی کو موسمیاتی عمل کے لیے نہایت اہم قرار دیا ہے۔