با اثر اداکاری سے کاجول مضبوط شناخت بنانے میں کامیاب رہیں

Updated: August 06, 2022, 12:26 PM IST | Agency | Mumbai

ہندی فلموں کی مشہور اداکارہ کاجول نے اپنی بااثر اداکاری سے ناظرین کا دل جیت لیا اوراداکاراؤں کو محض ’شوپيس‘ کے طور استعمال کیے جانے کے نظریے کو بدل کر سلور اسکرین پر  اپنی ایک مضبوط شناخت بنالی

Kajol. Picture:INN
کاجول ۔تصویر:آئی این این

ہندی فلموں کی مشہور اداکارہ کاجول نے اپنی بااثر اداکاری سے ناظرین کا دل جیت لیا اوراداکاراؤں کو محض ’شوپيس‘ کے طور استعمال کیے جانے کے نظریے کو بدل کر سلور اسکرین پر  اپنی ایک مضبوط شناخت بنالی۔۵؍ اگست۱۹۷۴ء کو ممبئی میں پیدا ہونے والی کاجول کو اداکاری کا فن وراثت میں ملا۔ ان کے والد سومو مکھرجی پروڈیوسر جبکہ ماں تنوجا جانی مانی فلم اداکارہ تھیں۔ گھر میں فلمی ماحول ہونے کی وجہ سے کاجول اکثراپنی ماں کے ساتھ شوٹنگ دیکھنے جایا کرتی تھیں، اسی وجہ سے ان کا بھی رجحان فلموں کی جانب ہو گیا اور وہ بھی اداکارہ بننے کے خواب دیکھنے لگیں۔ کاجول نے بطور اداکارہ اپنے فلمی کریئر کا آغاز ۱۹۹۲ء میں آئی فلم ’بے خودی‘ سے کیا تھا ۔ اس فلم میں ان کے ہیرو کا کردار کمل سدانا نے نبھایا لیکن کمزور اسکرپٹ اور ہدایت کی وجہ سے فلم باکس آفس  پر ناکام ثابت ہوئی۔۱۹۹۳ء میں انہیں  عباس-مستان کی فلم  ’بازیگر‘ میں کام کرنے کا موقع ملا۔حالانکہ پوری فلم شاہ رخ خان پر مرکوز تھی لیکن کاجول نے اپنی زبردست اداکاری کے جوہر دکھاکر ناظرین کومسحور کردیا۔یہ فلم باکس آفس پر سپرہٹ ثابت ہوئی۔
 ۱۹۹۴ء کاجول کے فلمی کریئر میں اہم  ثابت ہوا۔ اس سال ان کی ’ادھار کی زندگی، یہ دل لگی اور کرن ارجن‘  جیسی فلمیں  جلوہ گر ہوئیں۔ ان فلموں میں اپنی بااثر اداکاری سے ناظرین کا دل جیتنے والی  کاجول  بامبے فلم جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے بہترین اداکارہ کے ایوارڈ سے نوازی گئیں۔۱۹۹۴ء میں کاجول کو یش چوپڑا کے بینر تلے بنی فلم ’یہ دل لگی‘  میں کام کرنے کا موقع ملا۔ اس فلم میں ان کے ہیرو کا کردار اکشے کمار اور سیف علی خان نے نبھایا۔ اس فلم میں اپنی بااثر اداکاری کے لیے وہ پہلی مرتبہ بہترین اداکارہ کے فلم فیئر ایوارڈ کے لیے نامزد کی گئیں۔۱۹۹۵ء میں یش چوپڑا کی ہی فلم’دل والے  دلهنيا لے جائیں گے‘   کاجول  کے فلمی کریئرکے لئے سنگ میل ثابت ہوئی ۔۱۹۹۷ء میں انہیں  پروڈیوسر ڈائریکٹر راجیو رائے کی فلم ’گپت‘ میں میں کام کرنے کا موقع ملا۔ یہ  فلم بھی سپر ہٹ ثابت ہوئی حالانکہ   فلم میں کاجول کا کردار گرے شیڈس لئے ہوئے تھا۔فلم میں اپنی بااثر اداکاری کے لیے وہ بہترین ویمپ کے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازی گئیں۔ فلم انڈسٹری کی تاریخ کا پہلا موقع تھا جب کسی اداکارہ کو بہترین ویمپ کا فلم فیئر ایوارڈ دیا گیا تھا۔۱۹۹۸ء میں  ریلیز ہوئی  فلم دشمن میں کاجول  نے اپنے فلمی کریئر میں پہلی بار دوہرا کردار نبھا کر  ناظرین کو محظوظ کر دیا۔اس فلم میں وہ بہترین اداکارہ کے فلم فیئر ایوارڈ کے لیے نامزد کی گئیں۔اسی سال ان کی ’پیار تو ہونا ہی تھا  اور کچھ کچھ ہوتا ہے‘ جیسی فلمیں پردہ سمیں پر جلوہ گر ہوئیں۔  ان دونوں فلموں کے لیے بھی وہ بہترین اداکارہ کے فلم فیئر ایوارڈ کے لیے نامزد ہوئیں۔ یہ ان  کے سنے کریئر میں پہلا موقع تھا جب ایک سال میں تین فلموں کے لیے انہیں فلم فیئر ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ ۱۹۹۹ء میں کاجول  نے اداکار اجے دیوگن کے ساتھ شادی کر لی اور فلموں میں کام کرنا کافی حد تک کم کر دیا۔۲۰۰۱ء   میں فلم’کبھی خوشی کبھی غم‘کے بعد کاجول نے فلم انڈسٹری سے کنارہ کر لیا تھالیکن۲۰۰۶ء میں کاجول نے یش چوپڑا کے بینر تلے بنی فلم ’فنا‘  کے ذریعے فلم انڈسٹری میں واپسی کی۔  اداکار شاہ رخ خان کے ساتھ ان کی جوڑی خوب پسند کی گئی۔کاجول نے۲۰۱۵ء میں جلوہ گر ہوئی  فلم ’دل والے‘ سے واپسی کی۔ روہت شیٹی کی ہدایت میں بنی اس  فلم میں شاہ رخ کے ساتھ ان کی کیمسٹري کو ناظرین نے بے حد پسند کیا ۔اپنے فلمی کریئر میں وہ  چار مرتبہ بہترین اداکارہ کے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازی جا چکی ہیں۔۲۰۱۱ء  میں وہ پدم شری ایوارڈ سے بھی نوازی گئیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK