• Sun, 20 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کلیان جی آنند جی نے خود کو اُس وقت ثابت کیا جب انڈسٹری میں کئی موسیقار تھے

Updated: September 20, 2026, 11:53 AM IST | Anis Amrohvi | Mumbai

۱۹۵۴ء میں ہیمنت کمار کی موسیقی میں بننے والی فلم ’ناگن‘ سے کلیان جی نے اپنے فلمی کریئر کاآغاز کیا تھا اور’تن ڈولے میرا من ڈولے‘ گانے پر بین بجائی تھی۔ تین سال تک جدوجہد کرنے کے بعد جب اپنی جگہ مستحکم کرلی تو بھائی آنند جی کو بھی بلا لیا۔

Kalyanji and Anandji. Photo: INN.
کلیان جی اور آنند جی۔ تصویر: آئی این این

۳؍مئی ۱۹۱۳ء کو جب دادا صاحب پھالکے نے مکمل طور پر ہندوستان میں بنائی گئی پہلی فیچر فلم نمائش کیلئے بمبئی کے کارونیشن تھیٹر میں پیش کی تو ہمارے سماج میں ایک بڑے انقلاب نے دستک دی۔ آج ہندوستان میں دُنیا بھر سے زیادہ فلمیں بنتی ہیں اور ہندوستان غیرملکی فلموں کا بھی ایک بڑا بازار ثابت ہو رہا ہے۔ ہندوستانی سنیما میں دوسرا بڑا انقلاب اُس وقت آیا جب ۱۹۳۱ء میں ہندوستانی سنیما کو بولنا آگیا، اور فلمساز و ہدایتکار اردیشر ایرانی نے ملک میں پہلی متکلم فیچر فلم ’عالم آراء‘ نمائش کیلئے پیش کی۔ اس کے بعد فلموں کے تئیں عوام کی دلچسپی بڑھانے اور انہیں زیادہ سے زیادہ متوجہ کرنے کیلئے بیک گرائونڈ موسیقی کا سہارا لینے کا آغاز ہوا۔ 
گزشتہ صدی کی چھٹی، ساتویں اور آٹھویں دہائی کے لگ بھگ آخری دَور تک ہماری فلموں میں بہترین نغمے لکھے گئے اور بے مثال موسیقی ترتیب دی گئی۔ اس کی وجہ سے تیس برسوں پر محیط اِس عرصے کو فلمی دُنیا کا سنہرا دَور کہا جاتا ہے۔ اس دَور میں ایک سے بڑھ کر ایک موسیقار ہوئے ہیں۔ حسن لال بھگت رام، نوشاد علی، غلام محمد، کھیم چند پرکاش، سلیل چودھری، روی، روشن، سی رام چندر، ایس ڈی۔ برمن، او پی نیر، انل بسواس، پنکج ملک، لکشمی کانت پیارے لال، شنکر جے کشن اور آر ڈی برمن جیسے موسیقاروں نے ہر لحاظ سے بہترین اور مقبول دھنوں سے ہماری فلموں کو سجایا ہے۔ ایسے ہی بہترین موسیقاروں میں ایک مقبول موسیقار جوڑی کلیان جی آنند جی کی بھی رہی ہے۔ جس طرح ’ایک جان دو قالب‘ کا محاورہ مشہور ہے، ٹھیک اُسی طرح یہ دو بھائیوں کی ایک ٹیم تھی جو ایک ہی نام سے مشہور تھی۔ کلیان جی آنند جی نے اس وقت میں اپنے آپ کو ثابت کرکے دکھایا جب فلمی دنیا میں کئی بہترین اور مقبول موسیقار موجود تھے۔ 
۱۹۵۴ء میں ہیمنت کمار کی موسیقی والی فلم ’ناگن‘ بن رہی تھی۔ بھارت بھوشن اور مدھوبالا پر فلمائے جانے والے ایک گانے کیلئے کلیان جی نے ہیمنت کمار کی ہدایت میں کلے وائیلن پر بین بجائی تھی۔ یہیں سے کلیان جی ویر جی شاہ کی پہچان بنی اور ان کی بجائی یہ بین آج۷۰؍ برس سے زیادہ ہونے کو ہیں، اتنی ہی مقبول ہے۔ یہ گانا لتا منگیشکر کی آواز میں ریکارڈ ہوا تھا ’’تن ڈولے میرا من ڈولے‘‘ گانے پر بجائی گئی بین آج بھی میل کا پتھر بنی ہوئی ہے۔ حالانکہ اس سے قبل ۱۹۵۳ء کلیان جی نے فلم ’ناگ پنچمی‘ کے موسیقار چترگپت کی ہدایت میں الیکٹرانک ساز پر بین بجائی تھی مگر اُس کا خاص نوٹس نہیں لیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: اداکارہ شکیلہ بے مثال حسن اور لاجواب ادائوں کی ملکہ تھیں

۱۹۵۸ء میں فلمساز سبھاش دیسائی نے فلم ’سمراٹ چندر گپت‘ کیلئے کلیان جی ویر جی شاہ کو مکمل طور پر فلم کی موسیقی ترتیب دینے کیلئے ذمہ داری سونپ دی۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد کلیان جی نے اپنے بھائی آنند جی کو ساتھ میں شامل کرکے کلیان جی آنند جی کے نام سے موسیقار جوڑی بنائی اور کامیابی کے راستے پر آگے بڑھتے چلے گئے۔ یہ دونوں صوبہ گجرات کے ’کچھ‘ کے رہنے والے ایک کاروباری شخص ویرجی شاہ کے بیٹےتھے۔ ویر جی شاہ نے اپنا کاروبار کچھ سے بمبئی منتقل کر لیا تھا اور اپنی فیملی کے ساتھ یہ دونوں بھائی بھی بمبئی آگئے تھے۔ کلیان جی کو بچپن ہی سے موسیقی سے خاص لگائو تھا لہٰذا انہوں نے ایک ٹیچر سے موسیقی کی تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی اور ایک خاص الیکٹرانک ساز کلے وائلن بجانے میں مہارت حاصل کر لی۔ کلیان جی نے اپنے بھائی آنند جی کے ساتھ ایک میوزیکل آرکیسٹرا بنایا اور بمبئی اور اس کے اطراف میں کئی میوزیکل شو کیے جو بہت مقبول ہوئے۔ فلم ’سمراٹ چندرگپت‘ کا نغمہ ’’چاہے رہو دُور، چاہے رہو پاس‘‘ بہت مقبول ہوا، جو محمد رفیع اور لتا منگیشکر کی آوازوں میں تھا۔ 
۱۹۶۰ء میں آئی اُن کی موسیقی سے سجی فلم ’چھلیا‘ کے کئی گانے بے حد مقبول ہوئے۔ ۱۹۶۴ء میں فلم ’جی چاہتا ہے‘ کا نغمہ ’’ہم چھوڑ چلے ہیں محفل کو‘‘ بے حد مقبول ہوا تھا۔ اس کے بعد ۱۹۶۵ء میں ’’جوہر محمود اِن گوا، ہمالیہ کی گود میں اور پورنیما‘‘ کے ساتھ ہی سب سے زیادہ فلم ’’جب جب پھول کھلے‘‘ کے کئی نغمے بے حد مقبول ہوئے۔ 
۱۹۶۵ء کے بعد تو کلیان جی آنند جی کی شہرت اور مقبول کا گراف اونچا ہوتا ہی چلا گیا۔ ۱۹۵۷ء میں فلم ’’اُپکار‘‘ کے نغمے اور فلم ’’راز‘‘ کا گانا ’’اکیلے ہیں چلے آئو کہاں ہو‘‘ بہت مقبول ہوا۔ ۱۹۶۸ء میں فلم ’سہاگ رات، حسینہ مان جائے گی اورسرسوتی چندر‘ کے گانے اتنے مقبول ہوئے کہ اب بھی یاد کیے جاتے ہیں۔ ۱۹۷۰ء میں ’پورب اور پچھم، ہولی آئی رے، سچا جھوٹا، جانی میرا نام اور گیت‘ کے نغمے کافی مقبول رہے۔ اسی طرح ۱۹۷۲ء میں فلم ’وکٹوریہ نمبر ۲۰۳، گھر گھر کی کہانی اور گوپی‘ کے گانوں نے کافی دھوم مچائی۔ ۱۹۷۲ء میں فیروز خان کی فلم’اپرادھ‘ کے کئی گانے مشہور ہوئے اور ۱۹۷۳ء میں فلم ’بلیک میل، کہانی قسمت کی، سمجھوتا اورزنجیر‘ فلم کے گانے مقبول ہوئے۔ اسی برس فلم ’کورا کاغذ‘ آئی تھی۔ اس فلم کا ایک نغمہ ’’میرا جیون کورا کاغذ کورا ہی رہ گیا‘‘ ۱۹۷۴ء میں ریڈیو سے نشر ہونے والے ’بناکا گیت مالا‘ پروگرام میں ٹاپ پر رہا۔ 
۱۹۷۴ء اور ۱۹۷۵ء میں کلیان جی آنند جی کی موسیقی سے سجی کئی فلمیں کامیاب ہوئیں۔ ان میں ’ہاتھ کی صفائی، رفو چکر اوردھرماتما‘ جیسی فلمیں خاص طور پر یادگار فلمیں ہیں۔ اگلے برس ۱۹۷۶ء میں فلم ’بیراگ‘ کے گانے کافی مقبول ہوئے۔ امیتابھ بچن کی کئی فلموں کے نغمے کلیان جی آنند جی کی موسیقی سے سجے ہوئے ہیں۔ ۱۹۷۸ء میں فلم ’ڈان، لاوارث اور’مقدر کا سکندر‘ بے حد مقبول ہوئے اور اس کے بعد ’قربانی، پروفیسرپیارے لال، حادثہ، اپرادھ اورتری دیو‘ جیسی کئی فلموں کی موسیقی کو عوام و خواص نے بے حد پسند کیا اور ان فلموں کے نغمے کافی مقبول ہوئے۔ ۱۹۸۵ء کے بعد فلمی نغموں کا معیار لگاتار گرتا رہا اور فلموں کا مزاج بھی بدلتا رہا لہٰذا کلیان جی آنند جی اس گراوٹ سے کافی بددل ہوئے اور انہوں نے اپنی توجہ نئے نسل کو موسیقی کی تعلیم دینے اور کچھ اپنی البم وغیرہ تیار کرنے میں لگا دی لہٰذا فلموں سے ان کا واسطہ کم ہوتا چلا گیا۔ 
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ہر فلمساز یا ہدایتکار کا اپنا پسندیدہ موسیقار ہوتا ہے۔ کلیان جی آنند جی کے حصے میں جو ہدایتکار آئے اُن میں وجے بھٹ، من موہن دیسائی، سبھاش گھئی، پرکاش مہرہ، منوج کمار، گووند سیریا، فیروز خان اور چندر باروٹ جیسے لوگ تھے۔ خاص بات یہ ہے کہ کئی کامیاب ہدایتکاروں کی پہلی فلم کے موسیقار کلیان جی آنند جی ہی تھے۔ جیسے من موہن دیسائی کی فلم ’چھلیا‘ (۱۹۶۰ء)، منوج کمار کی فلم ’اُپکار‘ (۱۹۶۷ء)، پرکاش مہرہ کی فلم ’حسینہ مان جائے گی‘ (۱۹۶۸ء)، نریندر بیدی کی فلم ’بندھن‘ (۱۹۶۹ء)، ارجن ہنگورانی کی فلم ’دل بھی تیرا ہم بھی تیرے‘ (۱۹۶۰ء)، فیروز خاں کی فلم ’اپرادھ‘ (۱۹۷۲ء)، انل گانگولی کی ’کورا کاغذ‘ (۱۹۷۴ء)، گووند سیریا کی ’سرسوتی چندر‘ (۱۹۶۸ء)، سبھاش گھئی کی ’کالی چرن‘ (۱۹۷۶ء)، آئی ایس جوہر کی ’جوہر محمود اِن گوا‘ (۱۹۶۵ء)، چندر باروٹ کی ’ڈان‘ (۱۹۷۸ء)، راجیو رائے کی فلم ’یدھ‘ (۱۹۸۵ء) اور سمی گریوال کی فلم ’رُخصت‘ (۱۹۸۸ء) کے نام قابل ذکر ہیں ۔

یہ بھی پڑھئے: آشا بھوسلے نے ایک وقت عدنان سمیع کی پزیرائی کی تھی

کلیان جی آنند جی نے کئی گلوکاروں کو موقع دیا
کلیان جی آنند جی نے ۲۵۰؍ سے زائد فلموں کی موسیقی ترتیب دی جن میں سے ۱۷؍فلموں نے گولڈن اور ۳۹؍فلموں نے سلور جبلی منائی۔ اس جوڑی کی کامیابی میں ان کی صلاحیتوں کے ساتھ ہی اپنے کام سے ایمانداری، لگن اور محنت کو زیادہ دخل رہا ہے۔ انہوں نے اخلاقی قدروں کی ہمیشہ دل سے عزت کی اور سماجی، فلاحی کاموں میں پیش پیش رہے۔ اس جوڑی نے ہمیشہ نئے نئے لوگوں کو سراہا اور ان کی ہر طرح سے مدد کی۔ منہر اُدھاس، کمار شانو، الکا یاگنک، سادھنا سرگم، سپنا مکرجی، اُدت نارائن اور سُنیدھی چوہان جیسےکئی مقبول گلوکاروں کو متعارف کرانے میں کلیان جی آنند جی نے پہل کی۔ 
سستے ہتھکنڈوں سے اجتناب بنیادی اصول رہا
گلوکاروں ہی کی طرح قمر جلال آبادی، آنند بخشی، گلشن باورا، انجان، ورما ملک اور ایم جی حشمت جیسے فلمی نغمہ نگاروں کو بھی اس جوڑی نے ہمیشہ سراہا اور ان کی بھرپور مدد کی۔ کلیان جی آنند جی کی موسیقی کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے کلاسیکل موسیقی کی بنیاد پر آسان اور میلوڈی سے بھرپور نئی نئی مدھر طرزیں ہندوستانی سنیما کو دیں۔ نہ وہ کبھی فلم انڈسٹری کی سیاست میں پڑے، نہ ہی انہوں نے شہرت حاصل کرنے کیلئے سستے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کلیان جی آنند جی کے کامیاب فلمی نغموں کی ایک طویل فہرست ہے جو اُن کی فنکارانہ صلاحیتوں کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ 
اس جوڑی کو کئی اہم ایوارڈس ملے
مئی ۱۹۷۴ء میں انل گانگولی کی فلم ’کورا کاغذ‘ ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم نے باکس آفس پر بھلے ہی بہت زیادہ کاروبار نہ کیا ہو لیکن ناقدین نے اسے کافی پسند کیا تھا۔ اس فلم کیلئے پہلی مرتبہ کلیان جی آنند جی کو فلم فیئر ایوارڈ ملا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس فلم کیلئے جیا بہادری کو بہترین اداکارہ کا ایوارڈ تفویض کیا گیا تھا۔ ۱۹۶۵ء میں فلم ’ہمالیہ کی گود میں ‘ کیلئے کلیان جی آنند جی کو سنے میوزک ڈائریکٹر ایورڈ سے نوازا گیا اور ۱۹۶۸ء میں فلم ’سرسوتی چندر‘ کی بہترین موسیقی اور نغموں کیلئے انہیں پہلا نیشنل ایوارڈ دیا گیا۔ ۱۹۹۲ء میں کلیان جی آنند جی کو پدم شری ایوارڈ سے حکومت ہند نے نوازا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK