Updated: September 20, 2026, 11:53 AM IST
| Mumbai
مہیش بھٹ بالی ووڈ کے معروف فلم ساز ہیں۔ یہ ۲۰؍ ستمبر۱۹۴۸ء کو ممبئی میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد نانا بھائی بھٹ بھی فلم انڈسٹری کے معروف فلم ساز تھے۔ گھر میں فلمی ماحول کی وجہ سے ان کی دلچسپی فلموں کی طرف ہوگئی اور وہ ڈائریکٹر بننے کا خواب دیکھنے لگے۔
معروف ہدایت کارمہیش بھٹ۔ تصویر: آئی این این
مہیش بھٹ بالی ووڈ کے معروف فلم ساز ہیں۔ یہ ۲۰؍ ستمبر۱۹۴۸ء کو ممبئی میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد نانا بھائی بھٹ بھی فلم انڈسٹری کے معروف فلم ساز تھے۔ گھر میں فلمی ماحول کی وجہ سے ان کی دلچسپی فلموں کی طرف ہوگئی اور وہ ڈائریکٹر بننے کا خواب دیکھنے لگے۔ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد، انہوں نے پروڈیوسر ڈائریکٹر راج کھوسلہ کے معاون کے طور پر کام کرنا شروع کیا۔ مہیش بھٹ نے اپنے فلمی کریئر کا آغاز۱۹۷۰ء میں ایک دستاویزی فلم ’سنکٹ‘ سے کیا۔ اس کے بعد، انہوں نے ’منزلیں اور بھی ہیں ‘، ’وشواس گھات‘، ’لہو کے دو رنگ‘، ’نیا دور‘ اور’ابھیمنیو‘جیسی کئی فلموں کی ہدایت کاری کی لیکن ان فلموں سے انہیں زیادہ فائدہ نہیں پہنچا۔ ۱۹۸۲ء میں مہیش بھٹ کو فلم ’ارتھ‘ کی ہدایت کاری کا موقع ملا۔ اس فلم میں سمیتا پاٹل، شبانہ اعظمی اور کلبھوشن کھربندا نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ یہ فلم باکس آفس پر سپر ہٹ ثابت ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی وہ ناقدین کا دل جیتنے میں بھی کامیاب رہے۔
۱۹۸۴ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’سارنش‘ مہیش بھٹ کی ہدایت کاری میں ایک سپر ہٹ فلم ثابت ہوئی۔ اس فلم میں انوپم کھیر اور روہنی ہتھ گڈی اور سونی رازدان نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ اس فلم نےنہ صرف مہیش بھٹ کابلکہ انوپم کھیر کابھی کریئر سنوارنے کا کام کیا۔ مہیش بھٹ کو ماسکو فلم فیسٹیول میں بہترین اسکرین پلے کیلئے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ اس کے علاوہ بہترین اداکار کے طور پر انوپم کھیر اور بہترین کہانی کے طور پر مہیش بھٹ کو نیشنل ایوارڈ بھی ملا تھا۔ ۱۹۸۶ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’نام‘ مہیش بھٹ کی ہدایتکاری میں بننے والی اہم فلموں میں شمار کی جاتی ہے۔ راجندر کمار کی اس فلم میں سنجے دت اور کمار گورو نے اہم کردار ادا کیاتھا۔ اگرچہ اس فلم کےسبھی گانے سپر ہٹ ثابت ہوئے لیکن پنکج ادھاس کی شاندار آواز میں گانا ’چٹھی آئی ہے وطن سے چٹھی آئی ہے‘ اب بھی سننے والوں کی آنکھوں کو نم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اتل کلکرنی کا کردار چھوٹا ہو یا بڑا، اداکاری ہمیشہ بڑی ہوتی ہے
اس کے بعد تین سال مہیش بھٹ کے فلمی کریئر کیلئے بہت برا ثابت ہوا۔ اس دوران ان کی’آج، کاش، ٹھکانا ا ور قبضہ جیسی فلمیں ریلیز ہوئیں لیکن یہ تمام فلمیں بری طرح فلاپ ثابت ہوئیں۔ ۱۹۸۹ء میں ، مہیش بھٹ نے اپنے بھائی مکیش بھٹ کے ساتھ مل کر فلم پروڈکشن کے میدان میں بھی قدم رکھا اورفلم ’ڈیڈی‘کی ہدایت کاری کی اوراپنی بیٹی پوجا بھٹ کو بطور اداکارہ فلم انڈسٹری میں لانچ کیا۔ انوپم کھیر اور پوجا بھٹ نے فلم میں اپنی پرفارمنس سے شائقین کے دل جیت لیے اور فلم کو سپر ہٹ بنا دیا۔ ۱۹۹۰ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’عاشقی‘ مہیش بھٹ کے سینما سفر کی ایک اور سپر ہٹ فلم ثابت ہوئی۔ فلم کی کامیابی کے بعد، اداکار راہل رائے راتوں رات اسٹار بن گئے۔ ۱۹۹۱ءمیں ریلیز ہونے والی فلم’سڑک‘ بھی سپر ہٹ ہوئی جس میں سنجے دت اور پوجا بھٹ مرکزی کردار میں تھے۔ اس فلم سے سدا شیوامراپورکر کو کافی فائدہ ہوا تھا۔ ۱۹۹۱ء میں مہیش بھٹ کی ہدایت کاری میں ایک اور سپر ہٹ فلم’دل ہے کی مانتا نہیں ‘ ریلیز ہوئی۔ عامر خان اور پوجا بھٹ کے مرکزی کرداروں والی اس فلم کی کہانی ہالی ووڈ فلم’اٹ ہیپنڈ ون نائٹ‘ پر مبنی تھی۔
۱۹۹۳ء میں مہیش بھٹ کو ایک بار پھر اداکار عامر خان کے ساتھ فلم ’ہم ہے راہی پیار کے‘ میں کام کرنے کا موقع ملا جو اُن کے فلمی کریئر کی ایک اور سپر ہٹ فلم ثابت ہوئی۔ اس فلم میں عامر خان اور جوہی چاولہ کی جوڑی کو ناظرین نے بہت پسند کیا۔
۱۹۹۵ء میں مہیش بھٹ نے بھی چھوٹے پردے کا رخ کیا اور شوبھا ڈےکی کہانی’سوابھیمان‘ کی ہدایت کاری کی۔ یہ سیریل ناظرین میں بہت مقبول ہوا۔ ۱۹۹۸ء میں ریلیز ہونے والی فلم’تمنا‘ کو مہیش بھٹ کی ہدایت کاری میں بننے والی اہم فلموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اسی سال مہیش بھٹ کی ایک اور سپر ہٹ فلم ’ زخم‘ ریلیز ہوئی۔ فلم میں اپنی بہترین اداکاری کیلئے اجے دیوگن کوجہاں بہترین اداکار ی کا قومی ایوارڈ دیا گیا وہیں مہیش بھٹ کو بہترین کہانی کیلئے فلم فیئر ایوارڈ ملا۔
مہیش بھٹ کو ان کے فلمی کریئر میں بہت سارے ایوارڈس کے ساتھ تین بار فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہوں نے تین دہائی طویل سنے کریئر میں تقریباً۵۰؍ فلموں کی ہدایت کاری کی ہے۔