کمال امروہی کانام ذہن میں آتے ہی فلم ’پاکیزہ‘کا خیال ذہن میں ضرور آتا ہے۔ حالاں کہ انہوں نے دیگر فلمیں بھی بنائیں لیکن اس شاہکار فلم کے خالق کمال امروہی کا یہ ڈریم پروجیکٹ تھا۔
EPAPER
Updated: February 11, 2026, 10:59 AM IST | Agency | Mumbai
کمال امروہی کانام ذہن میں آتے ہی فلم ’پاکیزہ‘کا خیال ذہن میں ضرور آتا ہے۔ حالاں کہ انہوں نے دیگر فلمیں بھی بنائیں لیکن اس شاہکار فلم کے خالق کمال امروہی کا یہ ڈریم پروجیکٹ تھا۔
کمال امروہی کانام ذہن میں آتے ہی فلم ’پاکیزہ‘کا خیال ذہن میں ضرور آتا ہے۔ حالاں کہ انہوں نے دیگر فلمیں بھی بنائیں لیکن اس شاہکار فلم کے خالق کمال امروہی کا یہ ڈریم پروجیکٹ تھا۔بہترین ڈائیلاگ، موسیقی، نغمات اورمیناکماری کی بےمثال اداکاری کی بدولت اس فلم نے ناظرین کے دل و دماغ پر ایسے نقوش ثبت کئے ہیںجنہیں آج تک محو نہیں کیا جاسکا۔
یہ بھی پڑھئے:ایپسٹین فائلز مغربی اشرافیہ کی خالص شیطنت کو ظاہر کرتی ہیں: روسی وزیر خارجہ
کمال امروہوی ۱۷؍جنوری ۱۹۱۸ءکو اترپردیش کے امروہہ ضلع میں پیدا ہوئے۔بچپن میں وہ بہت شرارتی تھے، ان کی شرارتوں سے تنگ آکر ان کے بڑے بھائی نےانہیں طمانچہ رسیدکردیا۔غصہ سے بپھرے کمال امروہی گھرچھوڑکر لاہورچلے گئے۔لاہور میں کمال امروہی کی ملاقات معروف گلوکار اور اداکار کندن لال سہگل سے ہوئی ۔ کمال کی صلاحیتوں کو پہچان کر انہیں فلم میں کام دلانے کیلئےسہراب مودی کےپاس بمبئی لائے۔ وہ یہاں آکر فلم انڈسٹری میں جدو جہد کرنےلگے۔اسی دوران انہوں نے خواجہ احمد عباس تک رسائی حاصل کی۔ان کی کہانی ’سپنوں کا محل‘ سے خواجہ احمد عباس بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے اس پر فلم بنانے کا ارادہ کرلیا۔ اس کےلئے فلم ساز بھی تلاش کرلیا گیا تھا۔ لیکن اس کے بعد کمال امروہی کو معاشی تنگی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے پاس کھانے کیلئےپیسہ تھا نہ سر چھپانے کیلئے گھر۔ ان کے ستارےگردش میں تھے۔ اسی دوران انہیںخبرملی کہ سہراب مودی کسی نئی اور اچھوتی کہانی کی تلاش میں ہیں۔وہ فوراً ان کےپاس پہنچے اور انہیں ۳۰۰؍ روپے ماہانہ تنخواہ پر رکھ لیا۔ان کی کہانی پرمبنی فلم پکار (۱۹۳۹ء)انتہائی سپر ہٹ رہی۔ یہ فلم نسیم بانو (سائرہ بانو کی والدہ) اور چندرموہن کی اداکاری سے مزین تھی۔ انہوں نے اس فلم کیلئے ۴؍ گیت لکھے۔اس فلم کی کامیابی کے بعد کمال امروہی کا جادو فلموں میں چل گیاا ور انہوں نے متعدد فلموں کیلئے کہانی،اسکرپٹ اور ڈائیلاگ تحریر کئے۔
یہ بھی پڑھئے:ہند- پاک میچ کا مداحوں اور کھلاڑیوں نے خیر مقدم کیا
فلم’ محل‘ کمال امروہوی کےکریئر کا اہم موڑ ثابت ہوئی۔یہ فلم تجسس اوررومانس سے بھری تھی۔ فلم ساز اشوک کمار نے اس کی ہدایت کاری کی ذمہ داری کمال امروہی کو سونپی۔بہترین گیتوں اور موسیقی کے سبب یہ فلم سپر ہٹ ثابت ہوئی اور اس کے بعدسےہی فلموں میں سسپنس کا رواج چل پڑا۔فلم کی زبردست کامیابی نے مدھوبالا اور لتامنگیشکر کو نئی شناخت فراہم کی۔اس سے حوصلہ پاکر کمال امروہی نے ۱۹۵۳ء میں کمال پکچرس اور ۱۹۵۸ء میںکمالستان اسٹوڈیو کی بنیاد رکھی۔اس کے بینر تلے انہوں نے اپنی بیوی مینا کماری کولے کرایک آرٹ فلم ’’دائرہ‘‘ بنائی لیکن یہ فلم کامیاب نہ ہوسکی۔اسی دوران فلم ساز و ہدایت کار کے آصف اپنی اہم فلم ’مغل اعظم‘ بنانے میںمصروف تھے۔اس کے ڈائیلاگ وجاہت مرزا لکھ رہے تھے۔ کےآصف نے محسوس کیا کہ ایک ایسے ڈائیلاگ لکھنے والے کی ضرورت ہےجس کے تحریر کردہ ڈائیلاگ ناظرین کے دماغ میں برسوں تک گونجتےرہیں۔اس کے لئے انہوں نے کمال امروہی کا انتخاب کیا اور انہوں نے۴؍ڈائیلاگ لکھنے والوں میں شامل کرلیا۔ ان کے تحریر کردہ ڈائیلاگ کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ عاشق و معشوق خط و کتابت میں ان کا استعمال کرتے تھے۔ اس فلم میں بہترین ڈائیلاگ لکھنے کے لئے انہیں فلم فیئر ایوارڈسے بھی نوازا گیا۔۱۱؍ فروری ۱۹۹۳ء کو۷۵؍سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوگیا۔