Inquilab Logo Happiest Places to Work

کہانی نویس کو فلم انڈسٹری میں مقام دلانے میں کمال امروہی کا اہم کردار ہے

Updated: January 17, 2021, 2:19 PM IST | Anees Amrohi

انہوں نے پہلی بار ایک قلمکار کے روپ میں یہ شرط رکھی کہ ان کا نام فلم کے پردے پر الگ سے ایک فریم میں دیا جائے گا۔اس طرح ایک کہانی کار اور ایک مکالمہ نگار کی الگ سے پہچان کرانے میں ان کی یہ پہل تھی۔ ورنہ اس سے پہلے کہانی کار اور مکالمہ نگار کا نام فلمی پردے پر بہت سے ناموں کی بھیڑ میں کہیں چھوٹا موٹا سا آجاتا تھا

Kamal Amrohi
کمال امروہی

 سال ۱۹۳۲ء کے آس پاس کا زمانہ تھا۔ لاہور میں ضمیر علی صاحب کی ایک لانڈری ’ہمدرد لانڈری‘ کے نام سے مشہور تھی۔ ضمیر صاحب دوست نواز انسان تھے۔ مشہور اردو شاعر اخترؔشیرانی بھی اُن کے دوستوں میں تھے اور مشہور اداکار نواب علی بھی۔ خوب محفلیں جمتی تھیں۔ شعر وشاعری سے لے کر فلم اور سیاست پر خوب بحثیں ہوا کرتی تھیں۔اسی لانڈری میں دھام پُور ضلع بجنور (یوپی) کا ایک نوجوان لڑکا فراہیم ملازمت کرتا تھا۔ اُس کو بہت سے لوگ ’فرّی‘  کہہ کر پکارتے تھے۔ فرّی کو فلموں میں کام کرنے اور ہیرو بننے کا بڑا شوق تھا۔ اس کا ایک دوست امیر حیدر بھی اس کے ساتھ رہتا تھا۔ حالانکہ وہ لانڈری کا ملازم نہیں تھا مگر فرّی کی دوستی اور فلموں سے شوق کی وجہ سے دونوں ساتھ رہتے تھے۔ شاید اسلئے بھی کہ امیر حیدر گھر سے بھاگا ہوا ایک نوجوان تھا۔اس کے پاس کچھ کہانیاں تھیں، جن کو وہ اپنے دوستوں میں یہ کہہ کر سنایا کرتا تھا کہ وہ فلموں میں کہانیاں لکھے گا۔ اس وقت لوگ اُس کی بات پر ہنس دیا کرتے تھے۔
 اتفاق کی بات ہے کہ ایک بار مشہور فلمساز وہدایتکار اور منروا مووی ٹون کے روحِ رواں سہراب مودی لاہور پہنچے اور اپنے شاعر دوست اخترؔشیرانی کے یہاں ٹھہرے۔ وہیں سب دوستوں کی محفل جمی ہوئی تھی۔ ضمیر علی بھی اس محفل میں موجود تھے۔ بات چیت کے دوران انہوںنے سہراب مودی سے کہا کہ ہمارے یہاں دو لڑکوں پر فلموں کا  بھوت سوار ہے۔ اگر آپ ایک بار اُن سے بات کر لیں تو شاید یہ بھوت اُتر جائے۔ مودی صاحب فوراً رضامند ہو گئے، بولے۔ ’’ بُلا لو، اچھا ہے..... تھوڑی تفریح ہی سہی۔‘‘
 اگلے دن دونوں نوجوان لڑکوں کو مودی صاحب کے سامنے پیش کیا گیا۔ پہلا نمبر فراہیم کا تھا۔
 ’’تم کیا بننا چاہتے ہو؟‘‘ مودی صاحب نے سوال کیا۔
 ’’ہیرو۔‘‘  شرمیلے انداز میں فرّی نے جواب دیا۔
 ’’کار چلانی آتی ہے؟‘‘
 ’’جی نہیں۔‘‘
 ’’موٹر سائیکل؟‘‘
 ’’جی نہیں.... سائیکل چلا لوںگا۔‘‘
 فرّی کا جواب سُن کر سب لوگ ہنس پڑے۔ اسی طرح کے کچھ اور سوال کرکے فراہیم کو کمرے سے باہر بھیج دیا گیا۔اب باری امیر حیدر کی تھی۔ بوٹے سے قد کا گورا چٹا نوجوان لڑکا جب سہراب مودی جیسی لمبی چوڑی قدآور شخصیت کے سامنے جا کر کھڑا ہوا تو انہوںنے حیران حیران نگاہوں سے اِس خوبصورت لڑکے کی طرف نیچے سے اوپر تک دیکھا اور دِل میں سوچا کہ اتنا کم عمر اور معصوم سا لڑکا کیا فلموں میں کہانیاں لکھے گا؟ لڑکا مودی صاحب کے دِل کی بات بھانپ گیا اور اِس سے پہلے کہ  وہ کوئی سوال کرتے، اُس نے سہراب مودی سے کہا۔
 ’’مودی صاحب..... میں دیکھنے کی نہیں، سننے کی چیز ہوں۔‘‘
 چھوٹی سی عمر کے معصوم سے لڑکے کے منہ سے ایسی بات سُن کر  وہبہت متاثر ہوئے اور فوراً کہانی سننے کیلئے راضی ہو گئے۔ امیر حیدر نے بھی بغیر ایک لمحہ ضائع کئے ایک کہانی ’جیلر‘ کے عنوان سے انہیں اس انداز میں سنائی کہ  انہوںنے نہ صرف کہانی پسند کی بلکہ اس نوجوان کو بھی اپنے ساتھ بمبئی لے جانے کا فیصلہ کر لیا اور اسی وقت جیب سے روپے نکالتے ہوئے بولے۔’’نوجوان! یہ چار سو روپے رکھو اور بمبئی چلنے کی تیاری کرو۔ ہم وہاں تم کو بتائیںگے کہ اس کہانی کو فلم کیلئے کس طرح لکھا جائے گا۔ اب ہم کشمیر جا رہے ہیں، واپسی میں تم ہمارے ساتھ بمبئی چلوگے..... تیار رہنا۔‘‘
 چار سو روپے اس وقت اپنے ہاتھوں میں تھامے ہوئے اس نوجوان کے دل کی دھڑکنیں بے قابو ہوئی جا رہی تھیں۔ ہاتھوں میں کپکپاہٹ ہونے لگی تھی کیونکہ اب سے پہلے کبھی اس نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ ایک کہانی کا معاوضہ اتنا بھی ہو سکتاہے۔امیر حیدر نے فوراً بازار جاکر ایک جوڑی نئے جوتے، دو تین نئے کُرتے، ایک ہولڈال اور ضرورت کا کچھ اور سامان خریدا اوران کی واپسی کا بے چینی سے انتظار کرنے لگا۔ سہراب مودی بات کے پکے اور سچّے انسان تھے۔ انہوںنے واپسی میں امیر حیدر کو اپنے ساتھ لیا اور بمبئی پہنچ گئے۔ بمبئی پہنچ کر امیر حیدر نے ’منروا مووی ٹون‘ کیلئے اُس کہانی کو ’جیلر‘ کے عنوان سے فلمی انداز میں سیّد امیر حیدر کمال کے نام سے لکھا۔’جیلر‘ کی کامیابی کے بعد سہراب مودی نے اپنی شہرۂ آفاق تاریخی فلم ’پُکار‘ کی کہانی بھی سیّد امیر حیدر کمال سے لکھوائی۔ اس فلم نے کامیابی اور شہرت کے ایسے جھنڈے گاڑے کہ چاروں طرف کمال کے نام کا ڈنکا بج گیا اور ’’باادب، باملاحظہ ہوشیار....‘‘ کی آواز پوری فلم انڈسٹری میں گونجنے لگی۔
 ۱۷؍جنوری ۱۹۱۵ء کو اُتر پردیش کے مردم خیز شہر امروہہ میں ایک زمیندار گھرانے میں کمال امروہی کا جنم ہوا تھا۔ ان کا اصلی نام سیّد امیر حیدر تھا جنہیں پیار سے گھر والے ’چندن‘ کے نام سے پکارتے تھے۔ گھر میں سب سے کم عمر ہونے کی وجہ سے کمال امروہی بہت شرارتی، چنچل اور لاڈلے تھے۔ ایک طرح سے وہ خاندان کے بگڑے ہوئے بچے کے روپ میں پہچانے جاتے تھے۔بچپن  ہی سے کمال کو حُسن کی طرف بڑی کشش تھی۔ چاہے قدرت کے حسین مناظر ہوں یا قدرت کا بنایا ہوا کوئی حسین چہرہ، وہ ہر طرح کے حُسن کے پُجاری تھے۔ پڑھائی لکھائی میں ان کا دل کم ہی لگتا تھا۔ بہتر تعلیم کیلئے انہیں دہرہ دون بھیجا گیا جہاں انہوں نے کسی طرح ہائی اسکول تک کی تعلیم مکمل کی۔
 ایک بار اُن کے خاندان میں کوئی شادی تھی جس میں بہت ساری لڑکیاں بطور مہمان آئی ہوئی تھیں۔اسی دوران کسی بات پر گھر کے ملازم سے کمال کا جھگڑا ہوگیا۔اس نے اس کی شکایت کمال کے بڑے بھائی سے شکایت کر دی۔ بڑے بھائی کا گھر میں بڑا رعب تھا کیونکہ وہ پولیس میں ملازم تھے۔ انہوں نے کمال کو  ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کر دیا۔ بڑے بھائی کا تھپڑ کھانا کمال کیلئے کوئی بڑی بات نہیں تھی مگر اُس وقت شادی میں آئی ہوئی حسین لڑکیوں کے وہ ہیرو بنے ہوئے تھے۔ اسلئے انہوںنے اُن سب کی موجودگی میں اس تھپّڑ کو اپنی بہت بڑی بے عزتی محسوس کیا اور اسی وقت گھر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔اُسی رات کمال نے اپنی بہن کا سونے کا کنگن الماری سے نکالا اور سولہ روپے میں فروخت کرکے لاہور جانے والی گاڑی پکڑ لی۔ دس روپے خرچ کرکے کمال لاہور پہنچ گئے۔ اس وقت کمال کی عمر لگ بھگ ۱۶؍ برس کی رہی ہوگی۔
 کمال ہندوستانی سینما کیلئے ایک بہت بڑی شخصیت کے روپ میں فلم’پکار‘ سے اپنے آپ کو منوانے میں کامیاب ہوئے۔ اُن کو اپنے آپ پر بہت بھروسہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے پہلی بار ایک قلمکار کے روپ میں یہ شرط رکھی کہ ان کا نام فلم کے پردے پر الگ سے ایک فریم میں دیا جائے گا۔اس طرح ایک کہانی کار اور ایک مکالمہ نگار کی الگ سے پہچان کرانے میں ان کی یہ پہل تھی۔ ورنہ اس سے پہلے کہانی کار اور مکالمہ نگار کا نام فلمی پردے پر بہت سے ناموں کی بھیڑ میں کہیں چھوٹا موٹا سا آجاتا تھا۔ کہانی کار کو فلم انڈسٹری میں منشی کے نام سے پہچانا جاتا تھا جس کی کوئی خاص حیثیت نہیں ہوا کرتی تھی۔ یہاں تک کہ وہ فلمساز یا ہدایتکار کے گھر کا کام اور بچوں کی دیکھ بھال تک کیا کرتا تھا۔
 فلم ’جیلر‘ کے بعد پہلی بار ایسا ہوا کہ کمال امروہی نے فلم ’پکار‘ میں کہانی کار اور مکالمہ نگار کی حیثیت سے پردے پر الگ سے نام دے کر ایک خاص کردار ادا کیا۔ فلم ’پکار‘ اپنے مکالموںکی وجہ سے یہ ثابت کر سکی کہ کوئی فلم مکالموں کی بنیاد پر بھی کامیاب اور مقبول ہو سکتی ہے۔ان ہی دنوں خواجہ احمد عباس نے کمال امروہی کی ایک کہانی ’آہوں کا مندر‘ کا انگریزی میں ترجمہ کیا جو بہت مقبول ہوئی۔ عباس نے ہی کمال کو’بامبے ٹاکیز‘ کے روحِ رواں ہمانشو رائے سے ملوایا اور پھر صرف اُنیس برس کی عمر میں ہی بامبے ٹاکیز کے’اسٹوری ڈپارٹمنٹ‘ کے سربراہ کمال بن گئے۔
 ہمانشو کے انتقال کی وجہ سے کمال امروہی کی مشہور کہانی ’آہوں کا مندر‘ پر فلم بنتے بنتے رہ گئی۔ اب بامبے ٹاکیز کا تمام کام اشوک کمار دیکھتے تھے۔ کمال امروہی نے فلم ’محل‘کی کہانی لکھی اور اس کے ساتھ ہی وہ پہلی بار ہدایتکاری کے میدان میں داخل ہوگئے۔ حالانکہ اس فلم کے تمام معاملات اشوک کمار کے ہاتھ میں تھے مگر بینر بامبے ٹاکیز کا تھا۔ فلم ’محل‘ (۱۹۴۹ء) اپنے وقت کی کامیاب ترین فلم تھی۔ اسی فلم سے ہندوستانی سینما میں سسپنس فلموں کے دور کا آغاز ہوا۔ مدھوبالا کی پہلی کامیاب فلم بھی ’محل‘ ہی تھی جس سے انہیںپہچان ملی۔ اس فلم کے ایک گانے’’آئے گا آنے والا‘‘ سے لتا منگیشکر پر بھی کامیابی کے دروازے کھل گئے۔
 ایک بار ایک دوست نے کمال امروہی کو کھانے پر مدعو کیا۔ وہاں ممتاز نام کی ایک خوبصورت لڑکی سے اُن کی ملاقات ہوئی۔ کھانے کی میز پر وہ لڑکی کمال امروہی کے بالکل سامنے بیٹھی تھی۔ جب وہ میز سے اُٹھ کر گئی تو کمال نے اپنے دوست سے دریافت کیا کہ کیا یہ لڑکی فلموں میں کام کرنا چاہتی ہے؟ اُن دنوں کمال صاحب کو فلم ’محل‘ کیلئے ہیروئن کی تلاش تھی۔ دوست نے بتایا کہ ممتاز کئی فلموں میں کام کر چکی ہے اور اس دعوت کا مقصد بھی یہی تھا کہ ممتاز (مدھوبالا کا اصلی نام) کو آپ سے ملوایا جائے۔ اس طرح چھوٹی فلموں کی اداکارہ ممتاز بڑی فلم ’محل‘ کی ہیروئن بن کر مدھوبالا کے نام سے مشہور ہو گئی۔اشوک کمار اِس فلم کے ہیرو تھے۔ کمال امروہی کو ان کے مکالموں کی ادائیگی پسند نہیں تھی۔ وہ اشوک کمار کو بالکل نئے انداز میں پیش کرنا چاہتے تھے۔ کمال امروہی نے فلم کی شوٹنگ درمیان ہی میں رُکوا دی اور تین ماہ تک وہ اشوک کمار کے ساتھ فلم کے مختلف مناظر پر اور اُس کہانی میں اشوک کمار کے کردار کے بارے میں بات چیت کرتے رہے۔ آخر کار جب اشوک کمار اس کردار میں پوری طرح اُتر گئے، تب فلم کی شوٹنگ دوبارہ شروع کی اور نو دس ماہ میں فلم مکمل کرکے نمائش کیلئے پیش کر دی۔اشوک کمار کی انگلیوں میں دبی سگریٹ کا جلتے رہنا اور اُس کے جلنے سے اشوک کمار کا چونکنا اور اشوک کمار کا چلنے کا انداز، یہ سب فلم کی خصوصیات بن گئی تھیں۔ یہ فلم’محل‘ ہندوستانی سینما کیلئے میل کا پتھر ثابت ہوئی۔
 فلم ’محل‘ کے کامیاب ہوتے ہی کمال امروہی کا نام ہندوستانی سینما پر چھا گیا اور پھر ۱۹۵۰ء میں انہوں نے جب اپنی ذاتی فلم کمپنی قائم کی تو اس کا نام ’محل پکچرس‘ ہی رکھا۔ ۱۹۵۴ء میں انہوں نے اپنی فلم ’دائرہ‘ بنائی جو ناکام ہو گئی۔ یہ فلم ایک ایسی عورت کی کہانی تھی جو غلط فہمی کا شکار ہوکر ایک بوڑھے شخص سے شادی کر لیتی ہے اور پھر شروع ہوتا ہے اس کے استحصال کا سلسلہ۔ اُس وقت یہ فلم ہندوستانی سینماکی پہلی آرٹ فلم کہلائی۔ ایک مبصر نے فلم’دائرہ‘ دیکھ کر کہا کہ یہ اپنے وقت سے تیس برس قبل بن گئی ہے۔ مینا کماری اس فلم کی ہیروئن تھیں۔
 ’محل پکچرس‘ کے قائم ہونے پر کمال نے ایک بہت خوبصورت فلم ’انارکلی‘ کے نام سے بنانے کا ارادہ کیا۔ اس فلم میں وہ مینا کماری کو  لینا چاہتے تھے لیکن ۱۹۵۱ء میں ایک کار حادثہ میں مینا کماری کے ہاتھ کی ایک انگلی ٹوٹ گئی تھی۔انہیں پونے کے ایک اسپتال میں داخل کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK