Updated: May 26, 2026, 10:02 PM IST
| Canberra
آسٹریلیا میں مظاہرین نے عالمی صمود فلوٹیلا کے کارکنوں کے ساتھ اسرائیل کے غیر انسانی سلوک کے خلاف پارلیمنٹ پر دھاوا بول دیا،مظاہرین نے پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر علامتی طور پر دھرنا دیا، جس میں اسرائیل کے خلاف پابندیوں کا مطالبہ کیا گیا، ساتھ ہی حکومت کے رد عمل کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
آسٹریلیا کی پارلیمنت میں مظاہرین نے اسرائیلی مظالم کی تصویر پیش کی۔ تصویر: ایکس
آسٹریلیا کی مقامی میڈیا کے مطابق، منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر کارکنوں نے اسرائیل کے ان اقدامات کے خلاف احتجاج کیا جو ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کے ارکان کے ساتھ کیے گئے۔ یہ فلوٹیلا غزہ میں امداد پہنچانے کی کوشش کر رہا تھا۔ مظاہرین نے ماربل فوئے میں جمع ہو کر ہاتھ پیچھے باندھے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسرائیلی حکام کی طرف سے فلوٹیلا کارکنوں کی حراست کو علامتی طور پر پیش کیا۔انہوں نے نعرے لگائے ’’اسرائیل پر پابندیاں عائد کرو‘‘ اور وزیراعظم انتھونی البانیز اور وزیر خارجہ پینی وونگ پر ’’نسل کشی میں شریک ہونے‘‘ کا الزام عائد کیا۔
واضح رہے کہ یہ احتجاج فلوٹیلا میں ملوث کارکنوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک پر بڑھتے ہوئے تنازعے کے بعد سامنے آیا ہے۔ متعدد کارکنوں، جن میں آسٹریلوی شہری بھی شامل ہیں، نے اسرائیلی حکام کی جانب سے بدسلوکی کا الزام لگایا ہے، جس میں حراست کے دوران مارپیٹ سے لے کر جنسی زیادتی تک کے الزامات شامل ہیں۔ تاہم یہ معاملہ تب مزید بڑھ گیا جب اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گویر نے گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں وہ حراست میں لیے گئے فلوٹیلا کارکنوں کا مذاق اڑا رہا تھا، جبکہ افسران کارکنوں کو دھکیل رہے تھے اور گھسیٹ رہے تھے، جس پر عالمی سطح پر مذمت ہوئی۔یہ احتجاج ان دنوں میں ہوا ہے جب گلوبل صمود فلوٹیلا نے کہا کہ اسرائیل نے سمندر کے راستے غزہ پہنچنے کی کوشش کرنے والے تمام۵۰؍ جہاز ضبط کر لیے ہیں۔
بعد ازاں ترکی کی وزارت خارجہ نے جمعرات کو کہا کہ ترکی نے۴۱؍ ممالک سے تعلق رکھنے والے انسانی امداد کے رضاکاروں کو بحفاظت نکال لیا، جن میں۸۵؍ ترک شہری بھی شامل تھے جو فلوٹیلا کا حصہ تھے۔یاد رہے کہ یہ فلوٹیلا، جس پر۴۴؍ ممالک کے۴۲۸؍ افراد سوار تھے، اس ماہ کے شروع میں ترکی کے ضلع مرماریس سے روانہ ہوا تھا، تاکہ۲۰۰۷ء سے غزہ پر عائد اسرائیلی ناکہ بندی کو توڑنے کی ایک اور کوشش کی جا سکے ۔جس نے زیادہ تر آبادی کو بھکمری کے دہانے پرپہنچا دیا ہے۔اس سے قبل ۲۰۱۰ء میں، اسرائیلی کمانڈوز نے غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کی انسانی امداد کی مہم کے دوران ترک جہاز ’ایم وی ماوی مرمرہ‘ پر حملہ کر دیا تھا، جس میں جہاز پر جھڑپوں کے دوران۱۰؍ ترک شہری مارے گئے تھے۔