Updated: August 13, 2026, 5:07 PM IST
| Mumbai
بالی ووڈ اداکارہ اور بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ کنگنا رناوت نے ایک بار پھر سینئر اداکار نصیرالدین شاہ پر سخت حملہ کیا ہے۔ کنگنا نے اپنے متنازع ’لومڑی‘ والے تبصرے کا دفاع کرتے ہوئے الزام لگایا کہ نصیرالدین شاہ ’’پاکستان سے محبت‘‘ کے معاملے میں حد سے زیادہ وابستہ ہیں۔
نصیرالدین شاہ اور کنگنا رناوت۔ تصویر:آئی این این
بالی ووڈ اداکارہ اور بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ کنگنا رناوت نے ایک بار پھر سینئر اداکار نصیرالدین شاہ پر سخت حملہ کیا ہے۔ کنگنا نے اپنے متنازع ’لومڑی‘ والے تبصرے کا دفاع کرتے ہوئے الزام لگایا کہ نصیرالدین شاہ ’’پاکستان سے محبت‘‘ کے معاملے میں حد سے زیادہ وابستہ ہیں۔ یہ تنازع جھارکھنڈ میں جاری طلبہ احتجاج اور بالی ووڈ کی جانب سے احتجاج پر ردعمل سے متعلق بحث کے درمیان سامنے آیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے گفتگو میں کنگنا نے فلم انڈسٹری کے رویے کو مبینہ طور پر ’’منافقت‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج ہو رہا تھا تو کئی فلمی شخصیات نے طلبہ کے حق میں آواز اٹھائی، لیکن اب جھارکھنڈ میں طلبہ کے مسائل پر وہی لوگ خاموش ہیں۔ کنگنا نے دعویٰ کیا کہ جنتر منتر کے احتجاج کے دوران ان کے کئی پارلیمانی ساتھیوں کی گاڑیوں پر لوگ چڑھ گئے اور شیشے توڑے گئے، جبکہ تقریباً ۲۵۰۰؍ افراد ان کے گھر کے باہر جمع ہوئے تھے۔ ان کے مطابق اس صورتحال کی وجہ سے ان کے خاندان کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
کنگنا نے سوال اٹھایا کہ اگر جھارکھنڈ کے بچے بھی احتجاج اور مبینہ زیادتی کا سامنا کر رہے ہیں تو کیا وہ بھی جین زی کا حصہ نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ کسی نوجوان کو صرف اسی وقت جین زی نہیں سمجھا جا سکتا جب وہ ملک کے خلاف بات کرے یا وزیر اعظم کو برا بھلا کہے۔
یہ بھی پڑھئے:شکیل بدایونی نے اپنے گیتوں سے درد اور محبت کو زبان دی
کنگنا نے اپنے سابقہ متنازع بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نصیرالدین شاہ کے لیے ’لومڑی‘ کا لفظ اس لیے استعمال کیا کیونکہ ان کے مطابق شاہ نے ایک ایسا ویڈیو بیان دیا تھا جس میں دھمکی آمیز باتیں کی گئی تھیں۔ کنگنا نے مزید کہا کہ نصیرالدین شاہ کی فلموں، انٹرویوز اور بیانات کو دیکھیں تو انہیں اکثر پاکستان کا ذکر نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا ’’پاکستان کے ساتھ یہ محبت کی کہانی آخر کب ختم ہوگی؟ تقسیم کو اتنے سال گزر چکے ہیں، پھر بھی یہ محبت کی کہانی کیوں ختم نہیں ہو رہی؟‘‘
کنگنا نے گزشتہ ہفتے بھی نصیرالدین شاہ پر سخت تنقید کی تھی۔ انہوں نے اداکار پیوش مشرا کی جانب سے نصیرالدین شاہ پر کیے گئے سوالات کو شیئر کرتے ہوئے اپنے تبصرے میں کہا تھا کہ ہر شخص کسی نہ کسی کا ’’کتا‘‘ ہے، لیکن انہیں اس بات پر فخر ہے کہ وہ جس ملک کی روٹی کھاتی ہیں، اسی ملک کی حفاظت اور اس کے لیے جدوجہد کرتی ہیں۔کنگنا نے مزید کہا تھا کہ آج کے دور میں کتا کہلانا بھی تعریف ہے کیونکہ وفاداری اور معصومیت بہت نایاب ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نصیرالدین شاہ جیسی ’’لومڑی‘‘ بننے کے بجائے کتا بننا پسند کریں گی۔
یہ بھی پڑھئے:سشمتا دیو کیخلاف شدید احتجاج اور مراعات شکنی کا نوٹس
یہ معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب نصیرالدین شاہ نے طلبہ کے احتجاج کے دوران بالی ووڈ کی خاموشی پر سوال اٹھایا تھا۔ انہوں نے فلم انڈسٹری کا موازنہ ایسے کتے سے کیا تھا جس کے منہ میں ہڈی ہو اور وہ بھونک نہ سکے۔ بعد ازاں پیوش مشرا نے نصیرالدین شاہ کے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ جب جھارکھنڈ میں طلبہ احتجاج کر رہے تھے تو اس وقت وہ خود کہاں تھے۔ مشرا نے اگرچہ نصیرالدین شاہ کے اداکاری کے فن کا احترام برقرار رکھنے کی بات کہی، لیکن یہ بھی واضح کیا کہ اب وہ سینئر اداکار سے خوفزدہ نہیں ہیں۔