• Mon, 28 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ اور چین ۶۰؍ ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق

Updated: September 28, 2026, 9:58 PM IST | Washington

امریکہ اور چین نے دونوں ممالک کی تقریباً ۳۰۔۳۰؍ ارب ڈالر مالیت کی اشیا پر عائد ٹیرف کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر تقریباً ۶۰؍ ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف میں کمی کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔

Xi Jinping And Donald Trump.Photo:INN
ڈونالڈٹرمپ اور زی جن پنگ۔ تصویر:آئی این این

امریکہ اور چین نے دونوں ممالک کی تقریباً ۳۰۔۳۰؍ ارب ڈالر مالیت کی اشیا پر عائد ٹیرف کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر تقریباً ۶۰؍ ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف میں کمی کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ یہ پیش رفت گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی واشنگٹن میں ملاقات کے بعد ہوئی۔اس انتظام کو ۳۰؍ فار ۳۰؍فریم ورک کا نام دیا گیا ہے، جس کا انتظام نو تشکیل شدہ امریکہ۔چین بورڈ آف ٹریڈ کے ذریعے کیا جائے گا۔ دونوں ممالک نے یکساں مالیت کے قریب مصنوعات کی فہرستوں کی منظوری دی ہے، جنہیں کم ٹیرف کے لیے زیر غور لایا جاسکتا ہے، تاہم اس کا انحصار دونوں ممالک کے ملکی قوانین اور متعلقہ طریقہ کار پر ہوگا۔وہائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری درآمدی اشیا کی فہرست کے مطابق نئے ۳۰؍بائی ۳۰؍ فریم ورک کے تحت کم ٹیرف کے لیے جن چینی مصنوعات کو شامل کیا گیا ہے، ان میں آتش بازی کا سامان، باورچی خانے کے برتن، ٹارچیں، بیس بال اور سافٹ بال، اور مچھلی پکڑنے کے کانٹے شامل ہیں۔ امریکی مردم شماری بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق اگر گزشتہ سال یہ کم ٹیرف نافذ ہوتے تو چین سے امریکہ کی درآمدات کا تقریباً ۱۰؍ فیصد اس سے متاثر ہوتا۔

یہ بھی پڑھئے:امیتابھ بچن نے ابھیشیک کے ساتھ رشتے پر کہی دل کی بات، بولے: خیالات الگ ہوسکتے ہیں

یہ فریم ورک واشنگٹن اور بیجنگ کی جانب سے ایسی مخصوص اشیا کی کیٹیگریز کی نشاندہی کرنے کی کوشش ہے جن پر باہمی بنیادوں پر ٹیرف میں کمی کی جاسکے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کے مجموعی ڈھانچے کو برقرار رکھا جائے۔ بورڈ آف ٹریڈ میں امریکہ اور چین کی حکومتوں کے عہدیدار شامل ہوں گے اور اس کی نگرانی دونوں حکومتوں کے سینئر حکام کریں گے۔ امریکی جانب سے اس کی قیادت وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر کریں گے، جبکہ چین کی نمائندگی نائب وزیر اعظم ہی لیفینگ کریں گے۔
دونوں سربراہان کے ماتحت کام کرنے والے نائب عہدیدار تجاویز تیار کریں گے جنہیں سینئر حکام کے سامنے غور کے لیے پیش کیا جائے گا۔ سینئر حکام کی کم از کم ہر سہ ماہی میں ایک مرتبہ ملاقات متوقع ہے، جبکہ عملے کی سطح پر اجلاس باقاعدگی سے ہوں گے۔ بورڈ کا اعلان کردہ مقصد  دوطرفہ تجارت کو بہتر بنانا  اور ایسے مزید انتظامات پر غور کرنا ہے جن سے دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی تبادلے میں اضافہ ہوسکے۔ اس معاہدے میں دونوں جانب سے ۳۰؍ ارب ڈالر کی درآمدات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس میں ۷۷؍ چینی مصنوعات اور۱۶۰۰؍ سے زیادہ امریکی مصنوعات کو زیادہ سازگار ٹیرف کے لیے زیر غور لانے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
فہرست میں شامل چینی مصنوعات میں مائیکروویو اوون، مچھلی پکڑنے کے کانٹے، مصنوعی پھول اور وزن کرنے کے ترازو شامل ہیں۔ کم ٹیرف کے لیے شناخت کی گئی امریکی مصنوعات میں مرغی کا گوشت، ڈیری مصنوعات، نوڈلز، انڈے، مونگ پھلی، ڈبہ بند ٹماٹر، خالص نسل کے افزائشی گھوڑے اور ریشم شامل ہیں۔ امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا کہ یہ معاہدہ چین کو امریکی برآمدات کے تقریباً ۳۰؍ فیصد کے لیے مارکیٹ تک رسائی بہتر بنائے گا اور امریکی صارفین کو بھی فائدہ پہنچائے گا۔ گریئر نے ایک بیان میں کہاکہ ٹرمپ انتظامیہ چین کے ساتھ منصفانہ، متوازن اور باہمی تجارت کے حصول کی کوشش جاری رکھے گی، جس میں زرعی اور توانائی کی خریداری سے متعلق وعدوں کی پاسداری یقینی بنانا، غیر حساس اشیا میں متوازن تجارت کو فروغ دینا اور امریکی کسانوں، صنعت کاروں، کاروباری اداروں اور کارکنوں کے لیے مارکیٹ تک رسائی یقینی بنانا شامل ہے۔ فہرست میں امریکی ہارمونائزڈ ٹیرف شیڈول (HTSUS) کے تحت مخصوص استثنیٰ اور تکنیکی ٹیرف درجہ بندیاں بھی شامل ہیں۔  طے شدہ شرائط کے مطابق مستقبل میں ٹیرف میں کمی کا تعین اور اس کا نفاذ دونوں ممالک کے ملکی قانونی طریقہ کار کے ذریعے کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے:ایشا سنگھ نے چاندی کا تمغہ جیتا، منو بھاکر بغیر تمغے کے ایشیائی کھیلوں سے باہر

دونوں حکومتیں فہرست میں شامل مصنوعات کی تجارت کی نگرانی کریں گی اور فہرستوں میں تبدیلیاں تجویز کرسکتی ہیں۔ تاہم فریم ورک کے مطابق فریقین سال میں ایک مرتبہ سے زیادہ ایسی تبدیلیاں کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ دونوں ممالک مستقبل میں اس انتظام کو مزید مصنوعات تک توسیع دینے پر بھی غور کرسکتے ہیں۔اس کے بعد زرعی شعبے اور دیگر تجارتی معاملات بھی زیر غور آسکتے ہیں۔ بورڈ آف ٹریڈ کو دوطرفہ تجارت بہتر بنانے کے لیے وسیع تر انتظامات پر غور کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔ طے شدہ طریقہ کار میں خصوصی ورکنگ گروپس کے قیام کا امکان بھی شامل ہے، جن میں ممکنہ زرعی ورکنگ گروپ بھی شامل ہے۔ نائب عہدیدار امریکہ۔چین تجارت کو متاثر کرنے والے دیگر معاملات بھی اٹھا سکتے ہیں اور سینئر حکام کے سامنے تجاویز پیش کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK