وزیراعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ بھی نشانے پر، سماجوادی نے لکھنؤ میں اور بائیں محاذ نے پٹنہ میں مورچہ سنبھالا، دہلی میں انتخابی کمیشن کے دفترکے گھیراؤ کی کوشش،ایس آئی آر کو منسوخ کرنے کی مانگ۔
EPAPER
Updated: September 29, 2026, 8:57 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai
وزیراعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ بھی نشانے پر، سماجوادی نے لکھنؤ میں اور بائیں محاذ نے پٹنہ میں مورچہ سنبھالا، دہلی میں انتخابی کمیشن کے دفترکے گھیراؤ کی کوشش،ایس آئی آر کو منسوخ کرنے کی مانگ۔
’’گیانیش غدار‘‘ اور ’’گیانیش چور‘‘ کے نعروں کے ساتھ کانگریس نے پیر کو چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ملک گیر احتجاج کیا اوران کے استعفیٰ کا پرزور مطالبہ کیا۔ پٹنہ میں بائیں محاذ اور لکھنؤ میں سماجوادی پارٹی نے بھی مورچہ سنبھالا اور الیکشن کمیشن میں مبینہ من مانی کے خلاف پر زور مظاہرہ کیا۔ دہلی میں یوتھ کانگریس نے الیکشن کمیشن کے ہیڈکوارٹرز ’نرواچن سدن‘ کے گھیراؤ کی کوشش کی جسے پولیس نے ناکام بنادیا۔اس دوران ملک بھر میں پارٹی کے سینئر لیڈر سڑکوں پر اترے ۔ان میں سے متعدد کو پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ ان میں راجستھان کے سابق وزیراعلیٰ اشوک گہلوت بھی شامل ہیں۔
بہار اور بنگال کے نتائج غیر قانونی ہیں: پون کھیڑا
کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا جموں کشمیر پہنچ کر احتجاج میں شریک ہوئے۔ انہوں نے کہاکہ”یہ احتجاج پورے ملک میں جاری ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے ملک کو دھوکہ دیا ہے، انتخابی نتائج چرائے جا رہے ہیں۔ ایس آئی آر مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔‘‘ انہوں نے گیانیش کمار کی نگرانی میں اور ایس آئی آر کے بعد ہونےوالے انتخابات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئےکہا کہ ’’فارم۶؍ میں جو تبدیلیاں کی گئی ہیں وہ غیر قانونی ہیں، اس کیلئے پارلیمنٹ کی منظوری ضروری ہے، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ اس لیے ایس آئی آر غیر قانونی ہو جاتا ہے اور اگر ایس آئی آر غیر قانونی ہے تو تمام ناموں کا اضافہ اور اخراج بھی غیر قانونی ہے اور اس کے بعد ہونےوالے بہار اور بنگال الیکشن کے نتائج بھی غیر قانونی ہیں۔“
مظاہرین کو روکنے کی کوشش ناکام
مہاراشٹر،راجستھان، مدھیہ پردیش، بہار، تلنگانہ، گجرات، آندھرا پردیش، کیرالا اور جھارکھنڈ سمیت کم وبیش تمام ریاستوں میں احتجاج کیاگیا۔ بعض مقامات پر مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پانی کی توپوں کا استعمال کیا گیاجبکہ دیگر مقامات پرمظاہرین کو حراست میں لیاگیا۔اس بیچ پارٹی کارکنوں نے گیانیش کمار کے پتلے نذر آتش کئے اورن کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگائے۔ جے پور میں کانگریس لیڈروں اور کارکنوں نے مارچ نکالا تاہم پولیس نے انہیں بیریکیڈ لگا کر روک دیا اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ یہاں سابق وزیراعلیٰ اشوک گہلوت اور دیگر سینئر لیڈروں کو پولیس نے حراست میں لیا۔
’گیانو مَسٹ گو‘: ۲؍ اکتوبر کو ۴؍ بجے جیل بھرو آندولن
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف شیواجی پارک میں ۲؍ اکتوبر کو احتجاج کی اجازت نہ ملنے کے بعد ’’جیل بھرو آندولن‘‘ کے اعلان پر برقرار رہتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے ’’گیانو مَسٹ گو‘‘ کا نعرہ دہرایا ہے۔ا نہوں نے پیر کو ایکس پوسٹ پر اطلاع دی کہ اجازت نہ ملنے کے باوجود ۲؍ اکتوبر کو شام ۴؍ بجے شیواجی پارک پر ہی ’’جیل بھروآندولن ‘‘ کیا جائےگا۔ واضح رہے کہ گیانیش کمار کو نئی نسل (جن زی) کے اسٹائل میں دپکے نے ’’گیانو ‘‘ کہہ کر مخاطب کیا اور کہا کہ ’’انہیں جانا ہی ہوگا۔‘‘ اس ضمن میں جاری کردہ پوسٹر میں سی جے پی نے ’جمہوریت بچاؤ ‘کا نعرہ دیا ہے اور عوام سے احتجاج میں شرکت کی اپیل کی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے معاون کنوینر آشوتوش رانکا نے بھی ۲؍ اکتوبر سے ملک گیر احتجاج کے اعلان کا اعادہ کیا اور مطالبہ کیا کہ چیف الیکشن کمشنر عوام کے سامنے آکر اپنے اوپر لگنےوالے الزامات کا جواب دیں۔ انہوں نے بی جےپی کے ذریعہ اُن کے دفاع پر بھی سوال اٹھائے۔
گیانیش کمار کی فوری معطلی کیلئے پٹیشن
الیکشن کمیشن میں اختلافات اور چیف الیکشن کمشنر کی من مانی کے انکشاف کے بعد سپریم کورٹ میں ایک اورپٹیشن داخل کی گئی ہے۔ اس میں عدالت سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ گیانیش کمار کو چیف الیکشن کمشنر کے عہدہ سے معطل کرے، سابق جج کی قیادت میں جانچ کیلئے کمیٹی بنائے اور یہ ہدایت جاری کرے کہ کمیشن میں فیصلےفرد ِواحد کے ذریعہ نہیں لئے جاسکتے۔ عرضی میں استدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ چیف الیکشن کمشنر سے جواب طلب کرے کہ انہوں نے ’’کس اختیار کے تحت(یکطرفہ طورپر)کام کیا۔
۲؍ اکتوبر کے احتجاج کیلئے پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کو اطلاع
اسٹوڈٹس یونین ’’آئیسا‘‘ کی سربراہ نیہا بورا، معروف وکیل پرشانت بھوشن، درس و تدریس سے وابستہ نندیتا نارائن، آر جے ڈی ایم پی منوج جھا اور سماجی کارکن نکھل ڈے پر مشتمل ایک وفد نے پیر کو پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن پہنچ کرگیانیش کمار کے خلاف ۲؍ اکتوبرکو جنتر منتر پر احتجاج کا ’’اطلاعاتی مکتوب‘‘ پیش کیا۔ اس کے ساتھ ہی وفد نے ۲۵؍ ستمبر کو احتجاج سے روکنے، ۶۰؍ سے زائد افراد کو حراست میں لینے اور جنتر منتر کو سیل کرنے کی وجوہات بھی دریافت کیں۔
رہائش گاہ پر ’’گیانیش غدار‘‘اور ’’گیانیش چور‘‘لکھ دیاگیا
پیر کو ملک گیر مظاہروں کے دوران کانگریس کارکن آگرہ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی رہائش گاہ کے باہر پہنچ گئے۔ انہوں نےنعرے بلند کرتے ہوئے مکان کے صدر دروازہ اور دیوار پر اِسپرے پینٹ سے ’’گیانیش چور‘‘ اور ’’گیانیش غدار‘‘ کے نعرے لکھ دیئے۔ مظاہرین نے گھر کے باہر اسٹیکر بھی لگائے اور پمفلٹ چسپاں کئے ۔ بعد میں احتجاج اور گھر کی دیواروں پر کی گئی اس تحریر کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کی گئیں جو تیزی سے مقبول ہوگئیں۔