ہندوستان میں قومی گیت ’’وندے ماترم‘‘ کی مکمل عبارت گائے جانے کے معاملے پر سیاسی اور سماجی بحث ایک بار پھر تیز ہوگئی ہے۔ معروف اداکارہ شرمیلا ٹیگور کے موقف پر اداکارہ اور بی جے پی رکن پارلیمنٹ کنگنا رناوت نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
EPAPER
Updated: August 21, 2026, 4:05 PM IST | Mumbai
ہندوستان میں قومی گیت ’’وندے ماترم‘‘ کی مکمل عبارت گائے جانے کے معاملے پر سیاسی اور سماجی بحث ایک بار پھر تیز ہوگئی ہے۔ معروف اداکارہ شرمیلا ٹیگور کے موقف پر اداکارہ اور بی جے پی رکن پارلیمنٹ کنگنا رناوت نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
ہندوستان میں قومی گیت ’’وندے ماترم‘‘ کی مکمل عبارت گائے جانے کے معاملے پر سیاسی اور سماجی بحث ایک بار پھر تیز ہوگئی ہے۔ معروف اداکارہ شرمیلا ٹیگور کے موقف پر اداکارہ اور بی جے پی رکن پارلیمنٹ کنگنا رناوت نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ شرمیلا ٹیگور نے حالیہ تنازع پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا تھا کہ قومی گیت کے ’’پہلے دو بند ‘‘ ہی گائے جانے چاہئیں، کیونکہ مکمل گیت میں بعض مذہبی حوالوں سے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کو اعتراض ہوسکتا ہے۔شرمیلا ٹیگور کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کنگنا رناوت نے کہا کہ وہ ایک فنکار کی حیثیت سے ان کے خیالات سن کر حیران ہیں۔ کنگنا کے مطابق شاعری اور فن میں الفاظ اکثر استعاروں اور علامتوں کے طور پر استعمال ہوتے ہیں اور انہیں صرف مذہبی نقطۂ نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ کنگنا نے کہا کہ ’’وندے ماترم‘‘ آزادی کی جدوجہد کی روح کی نمائندگی کرتا ہے اور بنکم چندر چٹرجی نے اس کے ذریعے قوم کو اپنی اندرونی طاقت اور ’’شکتی‘‘ بیدار کرنے کا پیغام دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:عائشہ وہاب پہلی افغان نژاد امریکی کانگریس رکن بنیں، AIPAC حامی حریف کو شکست
انہوں نے مزید کہا کہ اس عظیم فن پارے کو محض مذہبی عمل تک محدود کرنا مناسب نہیں۔ کنگنا نے شرمیلا ٹیگور سے کہا کہ وہ ’’ہندو مسلم ذہنیت سے باہر آئیں‘‘ اور ایک دوسرے کو اپنوں کی طرح قبول کریں۔ کنگنا نے اپنے پیغام کے آخر میں شرمیلا ٹیگور سے اپنی محبت کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ وہ ان کی عزت کرتی ہیں، اگرچہ دونوں کے خیالات مختلف ہیں۔ شرمیلا ٹیگور نے ایک گفتگو میں کہا کہ ہندوستان میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو ایک خدا پر یقین رکھتے ہیں اور متعدد دیوی دیوتاؤں کے مذہبی تصور سے خود کو جوڑ نہیں پاتے۔
ان کے مطابق ’’وندے ماترم‘‘ کے بعض حصوں میں کالی اور دُرگا جیسے مذہبی حوالوں کا ذکر ہے، جس کی وجہ سے مختلف مذہبی عقائد رکھنے والے لوگوں کے لیے مکمل گیت گانا مشکل ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک کے تمام مذہبی طبقات کو مدنظر رکھا جائے تو وندے ماترم کے پہلے دو بند سب کے لیے زیادہ قابل قبول ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت زیادہ نمایاں ہوا جب کانگریس ورکنگ کمیٹی (CWC) نے فیصلہ کیا کہ کانگریس کی تقریبات میں وندے ماترم کے صرف پہلے دو بند گائے جائیں گے۔ بی جے پی نے اس فیصلے پر کانگریس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ بی جے پی لیڈر نتن نَبن نے کانگریس پر الزام عائد کیا کہ اس نے وندے ماترم کی توہین کو باقاعدہ پالیسی بنا لیا ہے اور اسے ’’نئی مسلم لیگ‘‘ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے:میں ذاتی طور پر شادی کے بعد ماں بیٹی جیسا رشتہ چاہتی ہوں:میناکشی
دوسری جانب کانگریس نے بی جے پی پر معاملے کو غیر ضروری طور پر سیاسی رنگ دینے کا الزام لگایا ہے۔ کانگریسی لیڈر جے رام رمیش نے کہا کہ اس معاملے میں کوئی نیا تنازع نہیں ہے۔ کانگریس نے اپنے موقف کے دفاع میں۱۹۳۷ء کی سی ڈبلیو سی قرارداد کا حوالہ دیا، جس کے تحت کانگریس کی تقریبات میں وندے ماترم کے پہلے دو بند گائے جانے کی بات کہی گئی تھی۔ کانگریسی لیڈروں کے مطابق ۱۹۳۷ء کا یہ فیصلہ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، رابندر ناتھ ٹیگور، سبھاش چندر بوس اور سردار پٹیل سمیت اس دور کی اہم شخصیات کے موقف سے جڑا ہوا تھا۔کانگریس کا کہنا ہے کہ قومی ترانہ ’’جن گن من‘‘ اور ’’وندے ماترم‘‘ دونوں اس کے لیے جذباتی اہمیت رکھتے ہیں، تاہم پارٹی کا الزام ہے کہ بی جے پی اس معاملے کو سیاسی مسئلہ بنا رہی ہے۔ اس طرح شرمیلا ٹیگور اور کنگنا رناوت کے بیانات نے وندے ماترم کے مذہبی، ادبی اور قومی پہلوؤں پر جاری بحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ یہ معاملہ اب صرف فلمی شخصیات کے بیانات تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے ہندوستانی سیاست میں قوم پرستی، مذہبی حساسیت اور آزادی کی جدوجہد کی علامتوں کے استعمال پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔