آئی او ایم کے مطابق ۲۵؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء سے یکم ستمبر ۲۰۲۶ء تک شمالی، جنوبی اور مغربی کردفان میں لڑائی کے باعث نقل مکانی جاری رہی۔
EPAPER
Updated: September 26, 2026, 11:02 AM IST | Khartoum
آئی او ایم کے مطابق ۲۵؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء سے یکم ستمبر ۲۰۲۶ء تک شمالی، جنوبی اور مغربی کردفان میں لڑائی کے باعث نقل مکانی جاری رہی۔
سوڈان میں جاری جنگ نے ملک کے وسطی علاقے کردفان میں بڑے پیمانے پر نئی نقل مکانی کو جنم دیا ہے اور اقوام متحدہ کی بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت (آئی او ایم) کے مطابق ۲۵؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء سے یکم ستمبر ۲۰۲۶ء تک ۳۰۸۱۷۹؍ افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہوئے۔ یہ افراد شمالی، جنوبی اور مغربی کردفان کے ۱۳۲۷؍ مقامات سے نقل مکانی کرکے سوڈان کی ۱۵؍ ریاستوں میں موجود مختلف علاقوں تک پہنچے ہیں۔ آئی او ایم کے فیلڈ عملے نے اس عرصے میں نقل مکانی کا سبب بننے والے ۱۱۸؍ واقعات ریکارڈ کیے۔ آئی او ایم کے تازہ اعداد میں جون کے بعد نقل مکانی میں نمایاں اضافہ دکھائی دیتا ہے۔ تنظیم کے ۲۳؍ جون ۲۰۲۶ء تک کے پچھلے اعداد کے مطابق کردفان سے ۲۱۹۳۱۹؍ افراد بے گھر ہوئے تھے۔ یکم ستمبر تک یہ تعداد بڑھ کر ۳۰۸۱۷۹؍ ہوگئی، یعنی تقریباً ۸۸۸۶۰؍ مزید افراد نے اپنا گھر چھوڑا۔ اس اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جون کے بعد بھی خطے میں سکیورٹی کی صورتحال نے بڑے پیمانے پر لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا۔
یہ بھی پڑھئے: یوپی میں مسلمانوں سے مبینہ ناروا سلوک پر اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
نقل مکانی کرنے والے افراد میں سب سے بڑی تعداد خرطوم ریاست میں ریکارڈ ہوئی، جہاں کردفان سے بے گھر ہوکر آنے والے ۱۲۳۵۰۹؍ افراد موجود تھے۔ اس کے بعد شمالی کردفان میں ۶۶۵۷۵؍ اور وائٹ نائل ریاست میں ۴۰۲۳۷؍ افراد ریکارڈ کیے گئے۔ خرطوم کے اندر ام بدہ، ام درمان اور کراری کی مقامی انتظامی اکائیاں بڑی تعداد میں بے گھر افراد کی میزبانی کررہی ہیں۔ شمالی کردفان کے اندر بھی نقل مکانی کا دباؤ نمایاں ہے۔ آئی او ایم کے مطابق وہاں بے گھر افراد کی سب سے بڑی تعداد شیکان میں ریکارڈ ہوئی، جہاں ۵۱۷۵۵؍ افراد موجود تھے، جبکہ الرہَد میں ۸۵۸۹؍ افراد ریکارڈ کیے گئے۔ وائٹ نائل میں کوستی سب سے بڑا مرکز تھا، جہاں کردفان سے نقل مکانی کرکے آنے والے ۲۵۱۳۸؍ افراد موجود تھے۔
یہ تازہ اعداد اس وقت سامنے آئے ہیں جب سوڈان کی فوج اور نیم فوجی دستے ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے درمیان کردفان کے شمالی، جنوبی اور مغربی حصوں میں لڑائی جاری ہے۔ آئی او ایم کے مطابق خطے میں موجودہ نقل مکانی کا سلسلہ اکتوبر ۲۰۲۵ء کے اواخر میں لڑائی میں اضافے کے بعد تیز ہوا۔ سوڈانی فوج اور RSF کے درمیان وسیع تر جنگ اپریل ۲۰۲۳ء سے جاری ہے۔ ستمبر کے آغاز میں بھی جنوبی کردفان میں نئی نقل مکانی ریکارڈ کی گئی تھی۔ آئی او ایم نے بتایا تھا کہ یکم اور ۲؍ ستمبر کو جنوبی کردفان کے العباسیہ علاقے کے ۹؍ دیہات سے مزید ۶۴۲۰؍ افراد محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہوئے۔ یہ خاندان اسی علاقے کے نسبتاً محفوظ مقامات میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے۔ اسی عرصے میں جنوبی کردفان اور بلیو نائل سے مجموعی طور پر ۹۴۲۰؍ افراد کے بے گھر ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ۱۶؍ سال کے لڑکے کو ۳؍ ماہ کی عمر کی بھی باتیں یاد: تحقیق
کردفان میں جاری نقل مکانی سوڈان کے پہلے سے موجود وسیع انسانی بحران میں مزید اضافہ کررہی ہے۔ آئی او ایم کے مطابق اپریل ۲۰۲۳ء میں جنگ شروع ہونے کے بعد سوڈان میں ۵ء۱؍ کروڑ سے زائد افراد اندرون ملک یا بیرون ملک نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ تنظیم نے سوڈان کو دنیا کا سب سے بڑا نقل مکانی کا بحران قرار دیا ہے، جبکہ اس کے اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۲۳ء سے ۲۰۲۵ء کے دوران ملک میں اندرونِ ملک بے گھر افراد کی تعداد ۳۸؍ لاکھ سے بڑھ کر ۱۶ء۱؍ کروڑ ہوگئی تھی۔
جنگ نے صرف آبادی کی نقل مکانی ہی نہیں بڑھائی بلکہ سوڈان کی معیشت اور بنیادی ضروریات تک رسائی کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق ۲۰۲۶ء کے موسم گرما کے آغاز سے فوج کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں سوڈانی پاؤنڈ کی قدر تقریباً نصف رہ گئی، جس کے نتیجے میں خوراک اور دیگر بنیادی اشیا کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ ملک کے مختلف حصے فوج اور RSF کے درمیان تقسیم ہونے سے سرکاری آمدنی، تجارت اور سپلائی نظام بھی متاثر ہوئے ہیں۔تازہ صورتحال میں کردفان سوڈان کی جنگ کا ایک اہم انسانی اور فوجی محاذ بنا ہوا ہے، جبکہ وہاں سے بے گھر ہونے والے ہزاروں خاندان خرطوم، شمالی کردفان، وائٹ نائل اور دیگر ریاستوں میں پناہ لے رہے ہیں۔ آئی او ایم کے مطابق جون کے مقابلے میں ستمبر تک نقل مکانی میں اضافے نے اس خطے میں جاری لڑائی کے انسانی اثرات کو مزید نمایاں کردیا ہے۔