Updated: September 05, 2026, 4:03 PM IST
| Mumbai
’ ’دی ٹریٹرز سیزن۲‘‘ میں کرسٹل ڈی سوزا اور ردا تھارانا نے اپنے شاندار کھیل سے سب کو حیران کر دیا۔ دونوں نے شو میں ’’ٹریٹرز‘‘ کا کردار ادا کرتے ہوئے نہ صرف کئی کھلاڑیوں کو غلط فہمی میں رکھا بلکہ آخر تک خود کو بچائے رکھا اور بالآخر فاتح بن کر سامنے آئیں۔
کرسٹل ڈی سوزا۔ تصویر:ایکس
’ ’دی ٹریٹرز سیزن۲‘‘ میں کرسٹل ڈی سوزا اور ردا تھارانا نے اپنے شاندار کھیل سے سب کو حیران کر دیا۔ دونوں نے شو میں ’’ٹریٹرز‘‘ کا کردار ادا کرتے ہوئے نہ صرف کئی کھلاڑیوں کو غلط فہمی میں رکھا بلکہ آخر تک خود کو بچائے رکھا اور بالآخر فاتح بن کر سامنے آئیں۔ اب شو کے اختتام کے بعد کرسٹل نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں شروع ہی سے اندازہ تھا کہ اگر وہ کسی سوال پر ضرورت سے زیادہ وضاحت دیں گی یا خود کو بچانے کے لیے بہت زیادہ صفائیاں پیش کریں گی تو ان کا راز فاش ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’جیلر ۲‘‘ کی ریلیز کی تاریخ کی تصدیق، ۱۵؍اکتوبر کو ریلیز ہوگی
اپنے تجربے کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے کرسٹل نے کہا’’ٹریٹر ہونا سننے میں شاید بہت شاندار لگتا ہو، لیکن جب آپ کو ہر روز ان لوگوں سے جھوٹ بولنا پڑے جنہیں آپ واقعی پسند کرتے ہیں، تب اس کی اصل مشکل کا اندازہ ہوتا ہے۔ میں شروع ہی سے ٹریٹر تھی، اس لیے مجھے جلد سمجھ آ گیا تھا کہ زیادہ بولنا یا کسی الزام پر فوراً صفائی دینا مجھے سب کی نظروں میں لے آ سکتا ہے۔‘‘
کرسٹل نے مزید کہا’’اسی وجہ سے میں نے یہ سیکھنے کی کوشش کی کہ کب بولنا ہے، کب خاموش رہنا ہے اور کب صرف مسکرا کر پیچھے بیٹھ جانا ہے۔ شو کے دوران مجھ پر شک بھی کیا گیا، الزامات بھی لگے اور کئی مرتبہ دوسرے کنٹیسٹنٹس نے مجھے مشکل میں ڈالنے کی کوشش بھی کی، لیکن میں کسی نہ کسی طرح ہر بار اس مشکل سے نکلتی چلی گئی۔‘‘ جب شو کا آغاز ہوا تو مجموعی طور پر ۲۱؍ کھلاڑی محل میں پہنچے تھے۔ اس کے بعد کئی ہفتوں تک قتل، دھوکے، غلط نظریات اور ایک دوسرے پر شک کا کھیل جاری رہا۔ ’شک کے گھیرے‘ کے دوران کھلاڑی مسلسل یہ جاننے کی کوشش کرتے رہے کہ آخر ان کے درمیان ٹریٹر کون ہے۔ جیسے جیسے کھیل آگے بڑھتا گیا، ایک ایک کرکے کھلاڑی باہر ہوتے گئے اور آخر میں صرف چھ افراد باقی رہ گئے۔
یہ بھی پڑھئے:زیوریو پانچ سیٹ میں جیتے، کئی سیڈ یافتہ مرد کھلاڑی یو ایس اوپن سے باہر
فائنل تک ملیکا شیراوت، ساحل سالاٹھیہ، دلیپ تاہل، شالینی پاسی، کرسٹل ڈی سوزا اور رداتھارانا ہی کھیل میں برقرار رہیں۔ ان سب کو لگ رہا تھا کہ انہوں نے محل کے سب سے بڑے دھوکے کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، لیکن فائنل میں کرسٹل اور ردا نے خود کو ٹریٹر ظاہر کرکے پورے کھیل کا سب سے بڑا راز کھول دیا۔ دونوں کی یہ جوڑی آخرکار کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ردا تھارانا نے بھی اپنی جیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا’’اگر کسی نے مجھے پہلے دن بتایا ہوتا کہ میں اس گیم کو ایک ٹریٹر کے طور پر ختم کروں گی تو میں ہنس پڑتی۔ میں ابتدا میں ایک انوسنٹ پلیئر بن کر کھیلنا چاہتی تھی، کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ میں جھوٹ نہیں بول سکتی۔ لیکن بعد میں پورا کھیل ہی بدل گیا۔‘‘
ردا نے مزید کہا ’’ٹریٹر بننے کے بعد میرے پاس فائنل تک پہنچنے کی منصوبہ بندی تھی، لیکن سب سے مشکل حصہ ان لوگوں کے خلاف کھیلنا تھا جن کی میں واقعی پروا کرتی تھی۔ میں نے انوسنٹ پلیئر کے طور پر بھی اپنی پوری کوشش کی اور ٹریٹر بننے کے بعد بھی پوری طاقت سے کھیلی۔ میں نے جیت کا فیصلہ قسمت پر چھوڑ دیا۔ میں محل میں انوسنٹ پلیئر بن کر پہنچی، ٹریٹر بنی اور آخرکار فاتح بن کر باہر نکلی۔‘‘