اسی کےچاکلیٹ بوائےکہے جانے والے کمار گورونے فلموں میں کامیابی کیلئےجدوجہد کی ہے

Updated: July 11, 2021, 4:19 AM IST | Mumbai

:بالی ووڈ میں کمار گورو کا نام ایک ایسے اداکار کے طور پر شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے ۸۰ءکی دہائی میں’لور بوائے‘کے طور پر شائقین کے درمیان اپنی شناخت بنائی۔

An old photo of Kumar Guru.Picture:Midday
کمار گورو کی ایک پرانی تصویر تصویر مڈڈے

:بالی ووڈ میں کمار گورو کا نام ایک ایسے اداکار کے طور پر شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے ۸۰ءکی دہائی میں’لور بوائے‘کے طور پر شائقین کے درمیان اپنی شناخت بنائی۔ کمار گورو لکھنؤمیں۱۱؍جولائی ۱۹۶۰ءکوپیدا ہوئے۔ان کے والدراجندر کمار اپنے وقت کے ایک سپر اسٹاررہ چکے ہیں۔ان کی پہلی فلم ’لو اسٹوری ‘نےانہیں مقبول بنایا اور وہ ایک چاکلیٹ اداکار کے طور پر ابھرے۔
 منوج تلی عرف کمار گورو، بچپن سے ہی اپنے والد راجندر کمار کی طرح اداکار بننا چاہتے تھے۔انہوں نے اپنے فلمی کریئر کا آغاز ۱۹۸۱ءمیں اپنے والد کی بنائی گئی فلم ’لواسٹوری ‘سے کیا۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد کمار گورو نے تیری قسم،اسٹار،لورس اور رومانس جیسی فلموں میں کام کیا۔ تیری قسم کے علاوہ تمام فلمیں باکس آفس پر ناکام ثابت ہوئیں ۔
 ۱۹۸۵ءمیں کمار گورو کی ایک اور سپر ہٹ فلم ’نام‘ ریلیز ہوئی لیکن اس فلم کی کامیابی کا کریڈٹ سنجے دت کے حصے میں آیا۔۱۹۹۱ءمیں آئی فلم اندرجیت میں کمار گورو کو امیتابھ بچن کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا جس میں ان کا کردار کسی حد تک پسند کیا گیا۔اپنے فلمی کریئر میں کمار گورو نے تقریباً ۱۶؍فلموں میںکام کیا۔جن میں  ہم ہیں لا جواب، آل راؤنڈر، ڈائیوورس، ایک سے بھلے دو، جانم، بیگانہ، البیلا، آج، گونج، جرأت ، ہائے میری جان اور پھول شامل ہیں۔
 ۲۰۰۲ءمیں ریلیز ہوئی فلم کانٹے کمار گورو کے کریئر کی آخری ہٹ فلم ثابت ہوئی ۔ انہوں نے ۲۰۰۴ءمیں روہت جگیسر کی ایک امریکی فلم ’گینی ۱۹۳۸ء‘ میں بھی کام کیا جسےایوارڈ سے نوازہ گیا تھا۔
 دراصل ، کمار گورو نے اپنے والد کی مدد سے بالی ووڈ کے میدان میں قدم رکھا۔۱۹۸۱ءمیں ، کمار گورو کی پہلی فلم ’لوواسٹوری ‘ایک بلاک بسٹر ثابت ہوئی۔ فلم میں بالی ووڈ میں ان کے بیٹے کی انٹری کے ساتھ ہی راجندر کمار نے ہدایتکاری شروع کردی۔ فلم نے جلد ہی کمار گوراو کو ایک مشہور اداکار بنادیا ، لیکن بعد میں فلموں نے باکس آفس پر فلاپ ہوکر کمار گورو کے بالی ووڈ کریئر کا خاتمہ کردیا۔ اگرچہ باکس آفس پر کمار گورو کی کامیابی پہلی فلم کے ساتھ ہی ختم ہوگئی ، لیکن وہ اس وقت کے نوجوانوں کے لئے ایک ماڈل بن گئے اور انہیں ’چاکلیٹ بوائے آف۸۰ء‘کا نام دیا گیا۔
 کمار گورو کی شادی معروف اداکار سنیل دت کی بیٹی سے ہوئی ہے جو اپنے والد کی ہم عصر تھیں۔ کمار گورو  سنجے دت کے بہنوئیہیں، جن کا فلمی کریئر انتہائی دلچسپ رہا ہے۔کمار گورو نے۱۹۸۶ءمیں فلم ’نام‘ کے ساتھ اپنے کریئر کو آگے بڑھانے کے لئے ایک بار پھر کوشش کی اگرچہ اس فلم نے باکس آفس پر زبردست کامیابی حاصل کی تھی ، لیکن اس فلم میں صرف سنجے دت کی اداکاری کی تعریف کی گئی تھی۔۱۹۹۳ءمیں ریلیز ہونے والی فلم ’پھول‘ کا ذکر خصوصی طور پر کیا جاتا ہے جس میںان کے والد اور سسر دونوں نے ایک ساتھ کام کیا تھا۔
 باکس آفس پرمسلسل ناکامی نے کمارگورو کو۹۰؍ کی دہائی میں اداکاری سے طویل وقفہ لینےپر مجبور کردیا۔ وہ دیپا مہتا کی ۱۹۹۸ءمیں بننے والی فلم پرتھوی میں ایک کردار کے لئے بالی ووڈ میں دوبارہ داخل ہوئے۔ ان کی اگلی فلم ’کانٹے‘ ۲۰۰۰ءمیں آئی تھی ، جس میں انہوں نے امیتابھ بچن اور سنجے دت جیسے اداکاروں کے ساتھ ایک دلچسپ کردار ادا کیا تھا۔ اگرچہ ، کمار گورو بالی ووڈ میں کوئی خاص جگہ نہیں بنا سکے ، لیکن ان کی یاد آج بھی’۸۰ء کی دہائی کے چاکلیٹ بوائے‘ کی حیثیت سے لوگوں کے ذہنوں پر ہے۔ تاہم، اپنی تازہ ترین فلموں کے ساتھ ، وہ خود بھی جان بوجھ کرچاکلیٹ بوائے کی شبیہہ کو توڑنے اور بطور اداکار بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ، جیسا کہ کمار گورو خود کہتے ہیں کہ ان کا بہترین وقت آنے والا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK