Inquilab Logo Happiest Places to Work

کندن لال سہگل کے گیت آج بھی گائے جاتے ہیں

Updated: April 11, 2026, 11:06 AM IST | New Delhi

سہگل کا پورا نام کندن لال سہگل تھا۔ ان کی پیدائش ۱۱؍اپریل ۱۹۰۴ء کو جموں کے نواشہر میں ریاست کے تحصیلدار امر چند سہگل کے گھر میں ہوئی تھی۔

Early singer and actor KL Sehgal. Photo: INN
ابتدائی دور کےگلوکار اور اداکار کے ایل سہگل۔ تصویر: آئی این این

اپنی اداکاری اور گلوکار ی سے فلم انڈسٹری میں ممتازمقام حاصل کرنے والے کے ایل سہگل نے اپنے۲؍ دہائی طویل کریئر میں محض ۱۸۵؍نغمے ہی گائےجن میں ۱۴۲؍فلمی اور ۴۳؍غیر فلمی نغمے شامل ہیں۔ لیکن جو ممتازمقام انہیں حاصل ہوا وہ اکثر ہزاروں نغمے گانے والے بھی حاصل نہیں کر پاتے۔ سہگل کا پورا نام کندن لال سہگل تھا۔ ان کی پیدائش ۱۱؍اپریل ۱۹۰۴ء کو جموں کے نواشہر میں ریاست کے تحصیلدار امر چند سہگل کے گھر میں ہوئی تھی۔ بچپن ہی سےسہگل کا رجحان موسیقی کی جانب تھا۔ ان کی ماں کیسر بائی سہگل مذہبی خاتون تھیں، ساتھ ہی وہ موسیقی میں بھی کافی دلچسپی رکھتی تھیں۔ سہگل اکثر ماں کے ساتھ بھجن، کیرتن جیسے مذہبی پروگراموں میں جایا کرتےھے اور اپنےشہر میں رام لیلا پروگراموں میں بھی حصہ لیا کرتے تھے۔ سہگل نےموسیقی کا فن ایک صوفی سنت سلمان یوسف سےسیکھا تھا۔ بچپن سے ہی سیگل کو موسیقی کی گہری سمجھ تھی اور ایک بارسنے ہوئے نغمے کی لے وہ باریکی سے پکڑ لیتے تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم بہت ہی عام انداز میں ہوئی تھی۔ انہیں اپنی پڑھائی بیچ میں ہی چھوڑنی پڑی اور ذریعہ معاش کے طورپر انہیں ریلوے میں ٹائم کیپر کی ملازمت کرنی پڑی۔ بعد میں انہوں نے رومنگٹن نامی ٹائپ رائٹر کی کمپنی میں سیلس مین کی نوکری بھی کی۔ کلکتہ میں ہی ان کی ملاقات نیو تھیٹرکےبانی بی این سرکار سے ہوگئی۔ سرکار کو سہگل کی آواز بہت پسند آئی اور انہوں نے نیوتھیٹرمیں سہگل کوگلوکار کےطورپر دو سو روپے ماہانہ ملازمت پر رکھ لیا۔ رفتہ رفتہ سہگل نیو تھیٹر میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوئے۔ ابتدائی دور میں بطور اداکار سہگل کو ۱۹۳۲ءمیں ریلیز اردو فلم ’محبت کے آنسو‘ میں کام کرنے کا موقع ملا۔ ۱۹۳۲ءمیں ہی بطور اداکار ان کی ۲؍ اور فلمیں ’صبح کا ستارہ اور زندہ لاش بھی ریلیز ہوئی لیکن ان فلموں سے انہیں کوئی خاص پہچان نہیں ملی۔ ۱۹۳۳ءمیں ریلیز فلم ’پران بھگت‘کی کامیابی کے بعدبطور گلوکارسہگل کچھ حد تک فلم انڈسٹری میں اپنی شناخت بنانےمیں کامیاب ہوگئے۔ اس فلم میں ان کے گائے ہوئے ۴؍ بھجن ملک بھر میں کافی مقبول ہوئے۔ اس کےبعد ’یہودی کی لڑکی‘، ’چنڈی داس‘ اور ’روپ لیکھا‘جیسی فلموں کی کامیابی سےسہگل نے شائقین کو اپنی گلوکاری اور اداکاری کی سمت متوجہ کیا۔ ۱۹۳۴ءمیں نیو تھیٹر نے مزید ۳؍فلمیں ریلیز کیں جن میں چنڈی داس نے سہگل کو وہ مقام دیا جہاں سے انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ دوسرے سال یعنی ۱۹۳۵ءمیں دیو داس نے ان کو ایک کامیاب گلوکار کے ساتھ ساتھ ایک کامیاب اداکار بھی بنادیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: کس اداکارہ کے کہنے پرمیتھیلاکو اکشے کمار کی فلم’’بھوت بنگلہ ‘‘ میں کام ملا؟

شرد چندر چٹو پادھیائے کے ناول پر مبنی پی سی برواکی ہدایتکاری میں فلم ’دیو داس ‘ کی کامیابی کے بعد سہگل بطور گلوکار اور اداکار شہرت کی بلندیوں تک جاپہنچے۔ اس فلم میں ان کےگائےنغمے کافی مقبول ہوئے۔ سہگل نیو تھیٹر کی کئی کامیاب فلموں میں کروڑ پتی، پجارن، دیدی، پریسیڈنٹ، اسٹریٹ سنگر، ساتھی دشمن اورکئی کامیاب بنگالی فلمیں شامل ہیں۔ ۱۹۳۷ءمیں ریلیزبنگلا فلم ’دیدی‘کی زبردست کامیابی کے بعد سہگل بنگالی فلم انڈسٹری کے بے تاج بادشاہ بن گئے۔ ۱۹۴۶ءمیں سہگل نے عظیم موسیقار ’نوشاد‘ کی ہدایتکاری میں فلم ’شاہ جہاں ‘ میں ’غم دیئے مستقل‘ اور ’جب دل ہی ٹوٹ گیا‘ جیسے نغمےگائے۔ ۲؍ دہائی کےفلمی کریئر میں انہوں نے۳۶؍فلموں میں اداکاری بھی کی۔ ہندی فلموں کے علاوہ سہگل نے اردو، بنگلا اورتمل فلموں میں بھی اداکاری کی۔ اپنی مسحورکن آواز اور زبردست اداکاری سے اپنے مداحوں کا دل جیتنے والے کے ایل سہگل ۱۸؍ جنوری ۱۹۴۷ءکو صرف ۴۳؍سال کی عمر میں اس دنیا کو الوداع کہہ گئے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK